وزیر اعظم دیار غیر میں بسنے والے لاکھوں پاکستانیوں کے احساس محرومی کو ختم کریں :معروف قانون دان میاں مظہر اسلم

وزیر اعظم دیار غیر میں بسنے والے لاکھوں پاکستانیوں کے احساس محرومی کو ختم ...
وزیر اعظم دیار غیر میں بسنے والے لاکھوں پاکستانیوں کے احساس محرومی کو ختم کریں :معروف قانون دان میاں مظہر اسلم

  

مانچسٹر(مرزا نعیم الرحمان)مانچسٹر کے معروف قانون دان میاں مظہر اسلم آف وائیٹ فیلڈ سالیسٹر نے کہا ہے کہ ہم دوہری شہریت والے پہلے پاکستانی اور پھر  بعد میں غیر ملکی ہیں، جس دھرتی پر ہم نے جنم لیا وہ ہمیں اپنا بیٹا ماننے کے لیے تیار نہیں بلکہ ہماری وفاداریاں بھی مشکوک تصور کی جاتی ہیں۔

مانچسٹر کے معروف قانون دان میاں  مظہر اسلم آف وائیٹ فیلڈ سولیسٹر نے روزنامہ ’’پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دیار غیر میں ہم نے شب و روز محنت کی تو اسکا پھل خداو ندکریم نے عطا کیا ،پاکستانی پاسپورٹ جس کی قدر و منزلت تقریباختم ہو کر رہ گئی ہے ،دنیا کے جنگ زدہ ممالک نے بھی ہمارے لیے اپنے دروازے بند کر رکھے ہیں،ان حالات میں  یورپ اور برطانیہ ہمیں اپنی شہریت دیتا ہے ،یہاں اوورسیز کارڈ  پر ہم  ہر قسم کا کاروبار کرنے کے علاوہ جائیداد کی خریدو فروخت اور  بچوں کی شادیاں کرسکتے  ہیں مگر  پاکستانی سیاست میں حصہ لینے کے اہل نہیں ،ایسا تضاد ان یورپی ممالک میں نہیں۔

مظہر اسلم آف وائیٹ فیلڈ سولیسٹر کا کہنا تھا کہ  برطانیہ اور یورپ نے کبھی ہماری وفاداری پر شک نہیں کیا بلکہ ان ممالک میں کوئی ایسا قانون موجود ہی نہیں کہ ہم حساس ترین اداروں میں ملازمت کے اہل نہیں ،یہاں کوئی ترقی یا نوکری کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتا، اس وقت برطانیہ میں لندن کے میئر پاکستانی نژاد برطانوی سیاستدان صادق خان  ہیں تو دوسری طرف درجنوں پاکستانی نژاد پارلیمنٹ کے ممبران اور درجنوں ہی مختلف شہریوں کے میئرز اور سینکڑوں کونسلرز ہیں جنہیں گوروں کے علاوہ برطانیہ میں آباد دیگر مختلف کیمونٹیز ووٹ ڈالتے ہیں، کوئی رنگ و نسل کی تفریق نہیں ہے، مگر جو ملک کلمہ کے نام پر حاصل کیا گیا اس ملک میں درجہ بندیاں کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہی تارکین وطن ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں بلکہ تمام ملکی سیاستدان اور حکومت ان تارکین وطن کو اپنے ملک کا کماؤ پتر تو قرار دیتے ہیں مگر جب وہ اپنی تعلیم اور صلاحیت کے بل بوتے پر ملک جا کر سیاست یا کسی ادارے میں نوکری کے خواہشمند ہوتے ہیں تو وفاداریاں مشکوک ہو جاتی ہیں یہ تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی بچے کے سگے والدین اپنے بچے کو پہچاننے سے انکار کر دیں مگر اسکی کمائی پر گزر اوقات کریں۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح اور وزیر اعظم عمران خان جیسے سینکڑوں ایسے سیاستدان ہیں جو یورپ میں جوان ہوئے، یہاں سے تعلیم حاصل کی مگر واپس وطن جا کر ملک کی اس انداز سے خدمت کی کہ عوام ان پر فخر کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ چند سٹیک ہولڈروں نے اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے رسوائے زمانہ یہ قانون لاگوکر رکھا ہے کہ تارکین وطن جو ڈبل نیشنلٹی ہولڈرہیں کو کوئی اعلی پوسٹ نہ دی جائے کیونکہ یہ ڈر اور خوف ہر وقت لاحق رہتاہے کہ ان سے زیادہ تجربے کار اور علم والے یہ تارکین وطن کہیں ملک کو اصل مقام تک نہ پہنچا دیں ۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات کے موقع پر کوئی بھی سیاستدان تارکین وطن کے خلاف بات نہیں کرتا حتی کہ الیکشن لڑنے کے لیے فنڈ ریزنگ کرنے کیلئے انہی تارکین وطن سے چندہ اکٹھا کرتے ہیں تو پھر یہ کھلا تضاد کیوں ہے ؟ہمارے عزیز و اقارب ، بچے ، والدین بھی پاکستانی ہیں رزق کے حصول نے غیر ملکی بننے پر مجبور کیا تو یہ بھی پاکستان کے مفاد میں ہے ،پاکستانی سفارتخانے وہ کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں جو یہ لاکھوں تارکین وطن سفارتکار بن کر ادا کر رہے ہیں، پاکستان کی ایکسپورٹ دم توڑ رہی ہے تو پھر سٹیٹ بینک بڑے فخر کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ تارکین وطن نے بارہ ارب ڈالر بیرون ملک سے بجھوائے، ہم ملکی معیشت کو سہارا بھی دیں اور برے وقت میں اپنے ہم وطنوں کی بھر پور مدد بھی کریں مگر اسکے باوجود بھی ہم غیر ملکی کہلاتے ہیں۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستانی سیاستدان منی لانڈرنگ کرنیکے لیے سعودیہ اور دوبئی کے اقامے رکھ سکتے ہیں، ملکی قوانین کی دھجیاں بکھیر دیں تو کوئی بات نہیں، غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی گلیوں، نالیوں اور سڑکوں کے نام پر لوٹ لی جائے تو کوئی بات نہیں، سرکاری افسران تعمیرو ترقی اور غیر ملکی معاہدوں میں کمیشن حاصل کریں تو کوئی بات نہیں مگر ان تارکین وطن کی جو کسی دوسرے ملک کا پاسپورٹ حاصل کر لیں تو اچھوت قرار دیدیے جاتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ پاکستان کے تھینک ٹینک سے اپیل کی ہے کہ دیار غیر میں بسنے والے لاکھوں پاکستانیوں کے احساس محرومی کو ختم کرتے ہوئے انہیں گلے سے لگایا جائے تو ملک پاکستان کے بے شمار مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ برطانیہ کے معروف قانون دان مظہر اسلم آف وائیٹ فیلڈ سولیسٹر چیتھم ہل مانچسٹر پاکستان کے چوٹی کے وکلا میں شمار ہوتے ہیں، مانچسٹر میں مجبور و بے بس ہم وطنوں کیلئے سائیہ شفقت پدری کا مظاہرہ کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہر چھوٹا بڑا انکا نام بڑے احترام کے ساتھ لیتا ہے۔

مزید : تارکین پاکستان