کورونا نئے حقائق،غور فرمائیں!

کورونا نئے حقائق،غور فرمائیں!
کورونا نئے حقائق،غور فرمائیں!

  

پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ غیر متوقع نہیں، تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب تک مریض ساڑھے سات ہزار ہو چکے اور جاں بحق ہونے والوں کی تعداد145تھی، ہر روز متاثرین بڑھتے اور خالق حقیقی کی طرف رخ کرنے والے بھی ہیں۔ جوں جوں کورونا ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں، مریضوں کا علم ہوتا جا رہا ہے۔اب تو اندیشہ ہے کہ اگر جلد اور تیزی سے متاثرین کی تلاش کر کے ان کا علاج شروع نہ کیا گیا تو یہ حضرات جراثیم دوسروں کو منتقل کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور وبا پھیلتی چلی جائے گی۔ سد ِباب دعوؤں سے نہیں عمل سے ہو گا اور اس کے لئے متاثرین کی تلاش کا دائرہ کار بڑھانا ضروری ہے۔یہ درست کہ وسائل پر بہت بڑا بوجھ آیا ہے،لیکن مستقبل کو نہ سنبھالا گیا تو کورونا ہمارا بھٹہ ہی بٹھا دے گا۔ اس کے لئے لازم ہے کہ موبائل نظام متعارف کرایا جائے، ایمبولینس ٹائپ لیبارٹریاں ممکنہ متاثر ہ علاقوں کا دورہ کریں، جہاں متاثر افراد جا چکے، اور جو علاقے سمجھ بوجھ کا خود مظاہرہ نہیں کرتے،اِس سلسلے میں وزارتِ صحت پنجاب کا یہ فیصلہ بالکل درست ہے کہ اب رینڈم ٹیسٹ بھی شروع کئے جائیں گے۔ یہ رینڈم ٹیسٹ بھی وسیع تر ہونا چاہئیں۔ ہم نے انہی سطور میں عرض کیا اور دیگر حضرات بھی کہہ رہے تھے کہ ٹیسٹ کی استعداد بڑھی تو مریض بھی بڑھ جائیں گے اور ایسا ہو رہا ہے۔

یہ ایک عمومی حالت ہے اور اس کے لئے کسی سائنس کی بھی ضرورت نہیں۔یہ عام فہم اندازہ تھا اور ہے کہ اس وائرس کی خاصیت میں ایک سے پچاس تک کو بھی متاثر کرنے کی صلاحیت ہے، تو جو لوگ بیرون ملک سے آ کر کھسک گئے انہوں نے اسی تناسب سے لوگوں کو متاثر کیا ہو گا اور جب تک دائرہ کار دور تک نہیں بڑھایا جائے گا یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا، حالات کا تقاضا تو یہ ہے کہ اگر دیہات تک آئسولیشن اور علاج کا سلسلہ بڑھایا نہیں جا سکتا تو اسے قصبات یا کم از کم تحصیل/ٹاؤن ہیڈ کوارٹر تک تو وسعت دے ہی دی جائے، اس کے لئے ارادے اور ہمت کی ضرورت ہے۔ یہ سلسلہ موجودہ وسائل ہی میں رہ کر بھی پورا ہو سکتا ہے۔بشرطیکہ باصلاحیت لوگوں کے ذمہ یہ کام کیا جائے اور کورونا کو ہر قیمت پر سیاست سے دور رکھا جائے۔اس حوالے سے ماہرین اوّل روز ہی سے خبردار کرتے چلے آ رہے ہیں۔سلام ان کو جو اگلے مورچوں پر اس غیبی دشمن سے نبرد آزما ہیں۔

ضروری ہو گیا کہ اب ایک ایسے مسئلے کی طرف بھی توجہ دِلا دی جائے جسے اب تک نظر انداز کیا گیا ہے اور وہ ہے کورونا کے علاوہ دوسرے امراض میں مبتلا مریضوں کا علاج،ہمارا ملک غریب اور پسماندہ ہے، ہر کوئی نجی ہسپتالوں سے رجوع نہیں کر سکتا، اِس لئے سرکاری ہسپتالوں پر بوجھ بہت زیادہ ہے، پہلے ہی ان علاج گاہوں کے حوالے سے عملے، ادویات اور آلات کی قلت تھی اور ہے۔ اب تو حالات اور بھی خراب ہو گئے کہ طبی عملے کو کورونا کے لئے حاصل کر لیا گیا ہے۔ ان ہسپتالوں کے او پی ڈی اور ایمرجنسی شعبے متاثر ہوئے ہیں، ہمارے میڈیا کے دوستوں کا رجحان بھی تمام تر کورونا کی طرف ہے اور ان سب نے معمول کی رپورٹنگ کو ترک کر رکھا ہے، ورنہ سرکاری ہسپتال والے مریضوں اور حالات کا جائزہ بھی لازم ہے۔اس سلسلے میں ہمیں جو اطلاعات موصول ہوئیں،ان کے مطابق لاہور میں صرف پی آئی سی ایک ایسا ہسپتال ہے،جس کے سارے شعبے کام کر رہے ہیں، لیکن بدقسمتی سے بہتر نظام نہ ہونے کی وجہ سے اس ہسپتال میں ایک سانحہ رونما ہو چکا کہ کورونا وائرس سے متاثر ایک مریض دِل کی تکلیف جان کر آیا،اس کی دیکھ بھال سے اندازہ ہو گیا تو اسے ساتھ ہی سروسز ہسپتال بھجوایا گیا، کہ وہاں کورونا علاج کا اہتمام کیا گیا ہے۔وہاں اسے معمول کی کارروائی سے گذار ا گیا اور مریض جاں بحق ہو گیا۔ ہسپتال والوں نے اپنی جان چھڑانے کے لئے حرکت ِ قلب بند ہونا قرار دے کر میت لواحقین کے حوالے کر دی۔ دروغ برگردن راوی ہمارے ہی ہم پیشہ دوست کا کہنا ہے کہ اس ایک مریض نے نہ صرف امراضِ قلب کے ادارے،بلکہ سروسز ہسپتال کے عملے سمیت میت کے لواحقین سمیت بہت سے افراد کو متاثر کیا۔ پی آئی سی کے ڈاکٹر حضرات سمیت طبی عملے کے پانچ سے چھ افراد متاثر ہوئے۔ یہ تصدیق شدہ ہے، ہمارا شکوہ یہ ہے کہ ہمارے دوست ادھر توجہ نہیں دے رہے اور نہ ہی یہ بتایا جا رہا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں دوسرے امراض کے مریضوں پر کیا گذر رہی ہے، اور کتنے مریض جان کی بازی ہارتے ہیں اور شاید ان کا شمار بھی کورونا متاثرین میں ہو جاتا ہے، اس طرف توجہ لازم ہے۔ رپورٹرز کو غور کرنا ہو گا۔

آیئے ذرا ان حالات کی روشنی میں گرینڈ ہیلتھ الائنس کی شکایت پر غور کریں، اس تنظیم کے عہدیدار حضرات کا کہنا ہے کہ نہ صرف یہ کہ تمام سرکاری ہسپتالوں کے پورے پورے طبی عملے کو آلات اور حفاظتی لباس فراہم کیا جائے، بلکہ یہاں کورونا وائرس کے متاثرین کی خدمت میں مصروف عملے کے افراد کو بھی مکمل طور پر حفاظتی دیوار فراہم نہیں کی گئی۔یوں خدمات میں مصروف طبی عملہ کم ہے تو متاثر ہو کر اور بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔ہر سرکاری ہسپتال میں کورونا وارڈ بنا دیئے گئے، ان میں آئسولیشن کا پورا انتظام نہیں،ہمیں ایک ڈاکٹر صاحب نے خود بتایا کہ وہ میو ہسپتال گئے اور آئسولیشن وارڈ کو دیکھا تو حیران رہ گئے کہ مریض چار چار پانچ پانچ کی ٹولیوں میں ایک دوسرے کے ساتھ گپ لگا رہے تھے، جبکہ دو افراد ایسے بھی نظر آ گئے جو متاثرین سے ملنے آئے تھے اور احتیاط یہ کی کہ ماسک لگائے ہوئے تھے۔ یہ وارڈ بھی ہسپتال کے اندر ہے،اِس لئے دیگر کا متاثر ہو جانا غیر منطقی نہیں،لہٰذا یہ مطالبہ غیر مناسب نہیں کہ تمام طبی عملے کو حفاظتی سامان سے لیس کیا جائے۔

اب ذرا ان بھوک ہڑتالی حضرات کی طرف سے ایک بہت بڑے الزام کا تذکرہ بھی کر لیا جائے تو بہت ہی اہم اور گہری،فوری توجہ کا مستحق ہے۔ ان حضرات کے مطابق چین سے آنے والے حفاظتی لباس اور آلات مستحق لوگوں تک نہیں پہنچے اور یہ سب بیورو کریسی اور حکومتی وزرا اور اراکین اسمبلی نے آپس میں تقسیم کئے ہیں،جن کو ضرورت نہیں کہ ان حضرات کو تو چھٹیاں ہیں اور یہ کہیں نظر نہیں آتے، بعض وزرا کے حوالے سے تو یہ شاید درست نہ ہو، یا پھر وہ لاپرواہ ہیں کہ کئی جگہ چلے جائیں تو ماسک اور دستانے ہی نظر آتے ہیں،بلکہ پنجاب کے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار تو متحرک ہوئے ہیں اور وہ خود اور ان کا عملہ ماسک پہنے نظر نہیں اور نہ ہی دورے کے دوران سماجی فاصلے کا خیال رکھا جاتا ہے کہ اللہ حفاظت کرنے والا ہے، اسی طرح سیکیورٹی پر مامور پولیس والے اور 1122 جیسی سروس والے بھی حفاظتی لباس سے محروم ہیں اور اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ یہ سب قابل ِ غور ہے اور وفاقی حکومت کو توجہ دینا ہو گی اور صوبائی حکومتوں کو اہتمام کرنا ہو گا، یہ کورونا جو اب امریکہ اور چین کے درمیان الزام در الزام کا ذریعہ بھی بن گیا ہے، اتنی جلدی جانے والا نہیں۔ یہ مزید بڑھے گا، ہمیں ہوش کے ناخن لینا ہوں گے۔ ایک امر امداد کی تقسیم والا بھی ہے، لاکھوں تقسیم تو ہزاروں شکایات ہیں، منتظم خود ہی غور کر لیں۔

مزید :

رائے -کالم -