ضیا شاہد۔ عزم و ہمت کا کوہِ گراں 

 ضیا شاہد۔ عزم و ہمت کا کوہِ گراں 
 ضیا شاہد۔ عزم و ہمت کا کوہِ گراں 

  

 پاکستان میں صحافت کو جدید خطوط پر استوار کرنے والے نڈر، بیباک، کہنہ مشق صحافی جناب ضیا شاہد اپنے معبودِ حقیقی کے حضور پہنچ چکے ہیں۔ مالک قضا و قدر کے منشا و مرضی کے مطابق جلد یا بدیر ہم سب باقی رہ جانے والے بھی اپنے سچے رب کی بارگاہ میں حاضری دینے والے ہیں۔ اپنے حصے کا کام جس قدر موت نے مہلت بخشی ضیا صاحب نے بھی کیا اور چکی کی مشقت اور اپنے حصے کا کام جس قدر ہو سکا ہم بھی کر رہے ہیں کرتے رہیں گے۔ تآنکہ سفر تمام ہو جائے، لیکن دِل میں یہ قلق اور کسک ضرور رہے گی کہ جو کام مطلوب اور درکار تھا شومئی قسمت ہم سے ہو نہیں سکا، ضیا شاہد نے  ایک نہیں کئی پرنٹنگ اور الیکٹرانک ادارے قائم کرکے عامل صحافیوں کے روزگار کا باضابطہ اور  بطور خاص اہتمام کر دیا۔ یہ ایسا صدقہ ئ جاریہ ہے، جس کا ثواب اور اجر ان کے نامہ ئ اعمال میں لکھا جاتا رہے گا اور قادرِ مطلق کی بارگاہ میں ان کی بلندیئ درجات کا باعث بنے گا۔ ان شا اللہ العزیز۔

مجھے جناب ضیا شاہد کے کام کرنے کا سٹائل اس قدر پسند تھا کہ میں ہمیشہ ان پر رشک کرتا۔ ایک دفعہ میگزین کے شعبے میں محمد علی عارف صاحب آئے، مگر بدقسمتی سے تھوڑے ہی عرصہ بعد بیمار ہو گئے دفتر آنا بند کر دیا۔ ایک دن مجھے ضیا صاحب نے کہا محمد علی عارف نظر نہیں آتے میں نے اثبات میں جواب دیا کہنے لگے اس کا پتا کرو چنانچہ میں نے رابطہ کیا تو عارف کہنے لگے بیمار ہوں آ نہیں سکتا۔ میں نے ضیا صاحب کو بتایا چند روز پھر گزرگئے پھر حکم ہوا کہ عارف کا پتا کرو اب کہ پتا چلا کہ محمد علی عارف کینسر کا شکار ہو گئے ہیں جو چند ہی دنوں میں کرانک شکل اختیارکر گیا ہے۔ تیسری مرتبہ پھر ضیا صاحب نے کہا پتا کیا کہ وہ نہیں آ سکتے۔ اس پر مجھے ضیا صاحب کہنے لگے کہ یار بیماری آنے جانے والی شے ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان چارپائی سے چپک جائے۔ میں ایک طویل عرصے سے بیمار ہوں نہ ڈھنگ سے چل پھر سکتا ہوں اور نہ اپنی پسند کا کوئی کھانا کھا سکتا ہوں۔ کیا میں بھی گھر بیٹھ جاؤں۔ یہ رویہ ان کے کام سے عشق کا بیّن ثبوت تھا۔

اب ضیا شاہد صاحب کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ان کے قائم کردہ اداروں کی باگ ڈور ان کے ہونہار صاحبزادے  جناب امتنان شاہد کے ہاتھ آچکی ہے۔ ضیا صاحب کو اپنی زندگی میں گہرا اور پختہ یقین تھا کہ امتنان شاہد ان اداروں کو مزید بہتر اور مضبوط بنانے میں اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کریں گے۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو کیونکہ جناب امتنان شاہد مضبوط اعصاب کے مالک ہیں شاید ان اداروں کو مزید بہتر اور مضبوط بنانے میں اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کریں۔ ماشاء اللہ جوان بھی ہیں زبردست منصوبہ ساز بھی ہیں وہ انتہائی ذہین اور خوش شکل بھی ہیں۔ پرسنلٹی چونکہ بہت زیادہ کاؤنٹ کرتی ہے اس کے ساتھ ساتھ دوسری خوبیاں بھی بدرجہئ اتم موجود ہیں۔ امید کی جانی چاہئے کہ ضیا صاحب کے دنیا سے چلے جانے کے بعد کارکن بے یارو مددگار نہیں ہو جائیں گے ان کے گھروں کے چولہے جلتے رہیں گے، اور انہیں تیل اور ایندھن فراہم کرنے میں جناب امتنان شاہد کماحقہ اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ ان شا اللہ۔

دُعا ہے کہ اللہ پاک ضیا شاہد صاحب کی بشری لغزشوں اور کمزوریوں کو درگزر فرماتے ہوئے ان کا شمار اعلیٰ العلیّین میں فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ 

مزید :

رائے -کالم -