تبدیلی کا منظر

تبدیلی کا منظر
تبدیلی کا منظر

  

رمضان المبارک کی آمد سے قبل حکومت کی جانب سے عوام کو نوید سنائی گئی کہ رمضان المبارک میں شہریوں کی سہولت کے پیش نظر پنجاب کے شہروں میں رمضان بازار لگائے جائیں گے۔ رمضان بازاروں میں  عوام کو سبسڈائزڈ اشیا کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ حکومتی وزرا روزانہ ٹی وی سکرینوں پر واویلا کرتے دکھائی و سنائی دیتے تھے کہ حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے رمضان المبارک میں سستے نرخوں پر عوام کو اشیائے خورونوش مہیا کرے گی ۔ پھر کیا دیکھتے ہیں کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کا آغاز ہوتا ہے۔ شہروں میں رمضان بازار لگ جاتے ہیں۔ اب اس حکومت کی کارکردگی اور عوامی خدمت کی ایک تصویر بھی دیکھ لیں۔ رمضان بازار میں  دعووں اور وعدوں کے برعکس غیر معیاری اشیا ئے خورونوش کی فروخت دھڑلے سے جاری ہے۔ چینی اور آٹا رمضان بازاروں میں  ’’خوش قسمت‘‘  افراد کو ہی میسر ہے۔  رمضان بازار میں چینی اور آٹے کی فروخت کے دعووں کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹ گئی ہے۔ 

رمضان بازاروں میں شہری چینی و آٹے کے حصول کے لیے خوار ہو رہے ہیں ۔ مارکیٹ میں 85 روپے کلو فروخت والی چینی ویسے غائب ہے تو دوسری طرف رمضان بازاروں میں65روپے کلو والی چینی کے لیے شہریوں کو لمبی قطاروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح آٹے کا حصول بھی  احوال مختلف پیش نہیں کررہا ۔  حد تو یہ ہے کہ آٹا اور چینی تو ایک طرف پیاز اور آلو بھی رمضان بازاروں میں  غائب ہیں اور شہری مذکورہ اشیا کے حصول کے لیے خوار ہو رہے ہیں۔

اب ایک نظر ماضی کے رمضان بازاروں پر بھی ڈال لیں۔ دور ہے مسلم لیگ ن کا ۔ پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر شہباز شریف براجمان ہیں۔ پنجاب کے ہر شہر میں رمضان بازاروں میں وافر مقدار میں  اشیائے خورونوش  موجود ہوتی تھیں۔  چند ایک رمضان بازاروں میں شہریوں نے ناقص اشیائے خورونوش کی نشاندہی کی تو شہباز شریف نے  روزانہ کی بنیاد پر  کسی نہ کسی رمضان بازار کا دورہ کرنا معمول بنا لیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے  رمضان بازاروں میں  معیاری اشیائے خورونوش کی فراہمی یقینی ہو گئی۔ چینی  اور آٹا باآسانی شہریوں کے لیے دستیاب تھا۔

 اب موجودہ صورتحال تو ان رمضان بازاروں کے بالکل برعکس دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف جہاں کرونا روزانہ کی بنیاد پر  سیکڑوں جانیں ہڑپ کررہا ہے۔ ہزار افراد کرونا وائرس کا شکار ہو رہے ہیں ایسے میں موجودہ حکومت کی ناقص حکمت عملی کے باعث  شہری چینی وآٹے کے حصول کے لیےشہری لائنوں میں خوار ہو رہے ہیں ۔ جہاں حکومت کرونا ایس او پیز پر عمل کرنے کی ہدایات جاری کررہی ہے وہیں  ناکافی انتظامات کے باعث کرونا ایس او پیز کی رمضان بازاروں میں دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس مہلک وبا کے دوران رمضان بازاروں میں ایسے انتظامات کیے جاتے کہ  عوام کو قطاروں کے جھجھٹ میں  پڑنا ہی نہ پڑتا۔ اور کچھ نہیں تو سابق ادوار میں کیے گئے انتظامات سے ہی کچھ سیکھ لیا جاتا۔

یہ تو پنجاب حکومت اور انتظامیہ کی صورتحال تھی  اب ایک نظر وفاق کی جانب بھی ڈال لی جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں ایک بار پھر ردوبدل کر متعدد وزرا کے قلمدان تبدیل کر دیے ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ  حکومت کو آئے اتنے سال نہیں ہوئے جتنے وزیر خزانہ بدل دیے گئے ہیں۔ اڑھائی برس میں حکومت  نے چوتھا وزیر خزانہ تعینات کردیا ہے۔  پہلے اسد عمر کی خوبیاں بیان کرتے کلابے آسمان سے ملائے گئے وہ ناکام ہوئے تو حفیظ شیخ کی خوبیان گنواتے حکومتی شخصیات نہیں تھکتی تھیں پھر جب  معاشی استحکام نہ آسکا مسلسل بڑھتی مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کیا تو حفیظ شیخ کو ہٹا کر وزارت خزانہ  حماد اظہر کو دی گئی تو حکومت اور پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے کہا جانے لگا دیکھا خان صاحب نے نوجوان قیادت کو آگے لا کر اپنے ویژن کو عملی شکل دے دی ہے۔ اب حماد اظہر مہنگائی کا جن بوتل میں بند کردیں گے معشیت کو درست سمت میں ڈال دیں گے۔ اب محض 18روز بعد حماد اظہر سے وزارت خزانہ کا قلمدان لیکر شوکت ترین کو دے دیا گیا ہے۔ یہ وہی شوکت ترین ہیں جو پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں معاشی معاملات کو دیکھتے رہے اور ان پر نیب کیسز بھی زیر سماعت ہیں۔ 

اخلا قیات کا درس دینے والوں سے پوچھنا چاہیے کہ ساری  خرابیوں کا ملبہ جب سابقہ حکومتوں پر ڈالا جاتا ہے تو پھر سابقہ حکومتوں میں اہم مناصب پرلگائے گئے ٹیکنو کریٹس کو  اب کس منطق کے تحت اہم وزارتیں سونپی جارہی ہیں ۔ اس کی دو زندہ مثالیں تو حفیظ شیخ اور شوکت ترین ہیں۔  ایک سوال یہ بھی ہے کہ ایک شخص جب کسی ایک وزارت میں کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکا تو دوسری وزارت میں کوکونسا چار چاند لگا دے گا۔ کیا باقی ماندہ مدت  وزارتوں کی ٹوپیاں گھما گھما کر گزارنی ہے یا  کوئی عملی اقدامات بھی کیے جائیں گے جن سے عوام کو ریلیف مل سکے۔  یا عوام رمضان بازاروں کی طرح  اشیائے خورونوش  کے مناسب قیمتوں پر  حصول کے لیے خوار ہوتے رہیں گے۔ 

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -