اپنی گفتگو اور ذہن سے لفظ ناممکن کو نکال دیجیے۔۔۔۔ ناممکن کا لفظ ناکامی ہے

اپنی گفتگو اور ذہن سے لفظ ناممکن کو نکال دیجیے۔۔۔۔ ناممکن کا لفظ ناکامی ہے
اپنی گفتگو اور ذہن سے لفظ ناممکن کو نکال دیجیے۔۔۔۔ ناممکن کا لفظ ناکامی ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مستقل عنوان : بڑی سوچ بڑی کامیابی 
مین سرخی :اپنی گفتگو اور ذہن سے لفظ ناممکن کو نکال دیجیے۔۔۔۔ ناممکن کا لفظ ناکامی ہے
مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
قسط:43
یقین رکھیے یہ ہو سکتا ہے۔ تخلیقی سوچ میں یہ یقین بنیادی حیثیت رکھتا ہے:
یہاں میں 2 تجاویز دے رہا ہوں جس سے آپ یقین کی قوت سے تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھا سکیں گے۔
-1 اپنی گفتگو اور ذہن سے لفظ ناممکن کو نکال دیجیے۔ ناممکن کا لفظ ناکامی کا لفظ ہے۔
ناممکن کا لفظ ذہن کی طاقت کو ناممکن ثابت کرنے کیلئے کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔
-2 کسی خاص کام کے بارے میں سوچیں جو آپ کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ یہ کام آپ نہیں کر سکتے۔
پھر ایک فہرست بنائیں کہ آپ یہ کام کن وجوہات کی بنا ءپر نہیں کر سکتے کیونکہ بعض اوقات ہماری توجہ صرف اس طرف مرکوز ہو جاتی ہے کہ کسی کام کو ہم کیوں نہیں کرسکتے، لیکن ہمارا ذہن ہمیں راستہ بتا دیتا ہے کہ اس کام کو ہم کیونکر کر سکتے ہیں۔
حال ہی میں ایک اخبار میں چھپنے والے آرٹیکل میں مصنف نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ امریکہ کی ریاستوں میں جب ضلع بنائے گئے تھے اس وقت موٹرکاریں وغیرہ نہ تھیں، جبکہ آج کل تیزرفتار موٹرکاریں موجود ہیں تو کیوں نا دو دو یا تین تین ضلعوں کو ایک ہی ضلع بنا دیا جائے۔ اس نے30 کے قریب لوگوں کے انٹرویو کیے اور یہ سوال ان کے سامنے رکھا لیکن کوئی بھی فر د اس حق میں نہ تھا۔ ان کا کہنا تھا، یہ ہماری روایات کے خلاف ہے۔ ایسے لوگ دراصل ذہنی مفلوج ہوتے ہیں جو کہ روایات کے ساتھ بندھے ہوتے ہیں۔
وہ اس تیز رفتار زمانے میں بھی گھوڑے اور بگھی کے تصور کو اپنے ذہن سے نہیں اتار سکے اور وہ اپنی روایات کو توڑنے کا خطرہ مول لینا نہیں چاہتے۔کمتر ذہن کے لوگ ترقی کی راہ میں حائل ہوتے ہیں۔ ایسے ہی ایک میزائل کے ماہر نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا: آخر انسان کہاں پہنچنا چاہتا ہے؟
ایک بہت بڑے تجارتی ادارے کے سربراہ ڈوپونٹ نیورس نے کولمبیا یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: کسی کام کو کرنے کے بہت سے طریقے ہو سکتے ہیں۔ بہت سے طریقوں کا مطلب ہے کہ ایک کام کوبہت سے افراد مل کر بھی کر سکتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ کسی کام کو کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ضروری نہیں ہے۔ کسی کام کو کرنے کےلئے تخلیقی سوچ کا ہونا ضروری ہے۔
اگر ہم اپنے ذہنوں کو روایات کی برف میں جما دیں تو برف میں تو کچھ بھی نہیں اگ سکتا۔ ذہن میں کوئی نیا آئیڈیا ہی نہیں آئے گا۔
کسی کے سامنے مندرجہ ذیل آئیڈیاز رکھیں اور اس کے روئیے کو دیکھیں:
-1ڈاک کے نظام کو جو کہ حکومت کی اجارہ داری میں ہے، اس کو پرائیویٹ اداروں کے حوالے کر دینا چاہیے۔
-2 صدارتی انتخابات 4 سال کی بجائے 2 یا 6 سال کے بعد ہونے چاہئیں۔
-3 دکانوں کا وقت بجائے صبح 9 بجے سے شام 5.30 کے بجائے ۱ بجے شام کے 8 بجے شام تک ہونا چاہیے۔
-4 ریٹائرمنٹ کی عمر 70سال ہونی چاہیے۔
بات یہ نہیں ہے کہ یہ آئیڈیاز ٹھوس یا عملی ہیں یا نہیں، اصل بات یہ ہے کہ سننے والا ان معاملات کو کیسے لیتا ہے؟
کچھ لوگ تو ایسی باتیں سن کر ہنسی اڑائیں گے اور کوئی دوسری تجویز نہیں دیں گے یعنی 95 فیصد لوگ تو ضرور ہنسی اڑائیں گے تو اس سے معلوم ہو گا کہ وہ لوگ روایات کے اسیر ہیں۔
20 میں سے شاید ایک یہ کہے کہ یہ تو دلچسپ آئیڈیا ہے۔ اس کے بارے میں کچھ اور بتایئے۔ ایسے لوگ تخلیقی لوگ ہوتے ہیں۔
تخلیقی لوگ جو کہ کامیابی کی جانب جا رہے ہوتے ہیں، روایتی سوچ ان کی دشمن نمبر ایک ہوتی ہے۔ روایتی سوچ آپ کے ذہن کو منجمد کر دیتی ہے۔ آپ کی تخلیقی قوت کو بڑھنے سے روک دیتی ہے۔( جاری ہے )
نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم “ نے شائع کی ہے ( جُملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -