پنجاب کا آئینی بحران

  پنجاب کا آئینی بحران

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی تقریب حلف برداری کا معاملہ تعطل کا شکار ہو گیا ہے اور پنجاب میں ایک ایسے آئینی بحران نے جنم لیا ہے، جس کی اس سے پہلے مثال نہیں ملتی۔ 16اپریل کو پنجاب اسمبلی میں ایک بڑے ہنگامے کے بعد وزیراعلیٰ کا انتخاب ہوا تھا، جس میں حمزہ شہباز نے 197 ووٹ حاصل کئے تھے اور قانون کے مطابق وہ وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہو گئے تھے۔ ڈپٹی سپیکر نے جو سپیکر چودھری پرویز الٰہی کے امیدوار ہونے کی وجہ سے عدالت عالیہ کے حکم پر یہ الیکشن کرانے کے ذمہ دار تھے مشکل حالات کے باوجود یہ انتخاب کرایا اور اس کا نتیجہ گورنر پنجاب کو بھیج دیا۔ قواعد کے مطابق الیکشن کے اگلے روز گورنر ہاؤس میں تقریب حلف برداری ہونا تھی، مگر گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے حلف برداری یہ کہہ کر موخر کر دی کہ انہوں نے ایڈووکیٹ جنرل اور سیکرٹری اسمبلی سے رپورٹ مانگی ہے۔ اگر غیر آئینی کام ہوا ہے تو وہ اسے آئینی قرار نہیں دے سکتے۔ رپورٹ آنے تک وزیراعلیٰ سے حلف نہیں لیں گے۔ اُدھر وزیراعظم شہبازشریف نے گورنر کو برطرف کرنے کی سمری صدر مملکت کو بھجوا دی ہے۔ عمر سرفراز چیمہ نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جب تک صدر مملکت انہیں ڈی نوٹیفائی نہیں کرتے وہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے، اس سلسلے میں انہوں نے قانونی ماہرین سے بھی رائے طلب کر لی ہے۔ اس طرح ملک کے سب سے بڑے صوبے میں جاری بحران ایک نئی شکل اختیار کر گیا ہے۔بعض  آئینی ماہرین کے مطابق صدر مملکت وزیراعظم کی تجویز  پر فوری عمل کرنے کے پابند نہیں ہیں، وہ سمری 14دن اپنے پاس رکھ کر واپس بھی بھیج سکتے ہیں، دوبارہ سمری آنے پر دس دن کے اندر اگر وہ فیصلہ نہیں کرتے تو سمری خود بخود منظور ہو جائے گی۔ ادھر سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم حمزہ شہباز کا غیر قانونی انتخاب تسلیم نہیں کرتے۔ اس روز تمام جمہوری اصولوں اور آئینی دفعات کی خلاف ورزی کی گئی۔ الیکشن کرانے کے لئے صدارتی کرسی پر کوئی بھی موجود نہیں تھا اور ڈپٹی سپیکر نے گیلری میں کھڑے ہو کر کارروائی مکمل کرائی، جس کی آئین میں کوئی حیثیت نہیں۔ ڈپٹی سپیکر نے سیکرٹری پنجاب اسمبلی سمیت 3اعلیٰ افسروں کو معطل کر دیا ہے، جبکہ ان افسروں کا کہنا ہے ڈپٹی سپیکر کا یہ اختیار ہی نہیں کہ انہیں معطل کر سکے یہ سپیکر پنجاب اسمبلی کا اختیار ہے۔ ادھر سپیکر پنجاب اسمبلی اور وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے الیکشن جعلی ہے، آئینی ماہرین کے اجلاس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔ انہوں نے 28اپریل کو پنجاب اسمبلی کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔
یہ صورتِ حال پنجاب میں ایک بڑے بحران کی نشاندہی کر رہی ہے۔ پہلے ہی وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب اسمبلی کا اجلاس نہ ہونے کی وجہ سے موخر ہوتا رہا ہے۔ اس دوران کشیدگی اس قدر بڑھی کہ معاملہ عدالتِ عالیہ تک گیا، جہاں سماعت کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ 16اپریل کو وزیراعلیٰ کا الیکشن کرایا جائے اور یہ ڈیوٹی ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کو سونپی۔16 اپریل کو پنجاب اسمبلی میں جو کچھ ہوا اس کی وجہ سے جگ ہنسائی کا سامان پیدا ہوا۔ بہرحال ایک صبرآزما اور طویل کشمکش کے بعد وزیراعلیٰ کے انتخاب پر ووٹنگ کا مرحلہ مکمل ہوا اور حمزہ شہباز کی کامیابی کا اعلان کیا گیا۔ اب بہتر تو یہی تھا کہ گورنر پنجاب اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے نو منتخب وزیراعلیٰ سے حلف لیتے تاکہ اس تعطل کے خاتمے میں مدد ملتی جو پچھلے کئی ہفتوں سے جاری ہے، مگر انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا اور حلف برداری کی تقریب موخر کر دی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ واضح روایات اور آئینی ضرورتوں کو پسِ پشت ڈالا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے قومی اسمبلی میں ایسے واقعات ہو چکے ہیں، جنہیں بعدازاں سپریم کورٹ نے غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کیا۔ تحریکِ عدم اعتماد پر جس دن ووٹنگ ہونی تھی، ڈپٹی سپیکر نے ایک رولنگ دے کر اسے مسترد کر دیا جس کا سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا اور فیصلہ کالعدم قرار دے کر دوبارہ ووٹنگ کا حکم دیا۔ اس واضح حکم کے باوجود سابق سپیکر قومی اسمبلی نے آخر وقت تک اس حکم پر عمل نہ کیا اور جب آدھ گھنٹہ رہ گیا تو مستعفی ہو کر چلے گئے۔ ہمارے آئینی عہدوں پر متمکن شخصیات کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جب وہ اپنے منصب کا حلف اٹھا لیتی ہیں تو ان کی جماعتی وابستگی ختم ہو جاتی ہے، پھر انہیں آئین و قانون کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے۔ اگر آئین کی روح کو پس پشت ڈال کے فیصلے کئے جائیں گے تو ان کے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہاں ایک بحران مسلسل چلا آ رہا ہے۔ ایک وزیراعلیٰ ہیں جو مستعفی ہو چکے ہیں، مگر ابھی تک اپنی کرسی پر بیٹھے ہیں۔ اصولاً تو پہلی ترجیح کے طور پر وزیراعلیٰ کا انتخاب ہونا چاہیے تھا۔  اب جبکہ تمام مراحل مکمل ہو چکے ہیں، وزیراعلیٰ کا اسمبلی ارکان کی اکثریت نے انتخاب کر لیا ہے تو حلف اٹھانے کے مرحلے کو موخر کیوں کیا جا رہا ہے۔ گورنر پنجاب کے پاس اس کا اختیار ہی نہیں کہ وہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کو کالعدم قرار دے سکیں۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ سیاسی چپقلش کی وجہ سے جمہوری و آئینی روایات کو پامال کیا جا رہا ہے جس سے پیدا ہونے والا بحران کئی سنجیدہ مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ معاملہ بھی عدالتوں میں جائے سیاسی قوتوں کو آئین و قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ گورنر پنجاب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسمبلی کے انتخاب کو تسلیم کریں اور جلد از جلد وزیراعلیٰ پنجاب سے حلف لے کر صوبے کو اس بحران سے نکالیں۔ اس وقت عملاً پنجاب میں کوئی حکومت نہیں ہے اور صوبہ مستقل وزیراعلیٰ کے بغیر چل رہا ہے، جس پر تشویش اور افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -