ٹوٹنے کی آواز

 ٹوٹنے کی آواز
 ٹوٹنے کی آواز

  

 مجھے پنجاب یونیورسٹی کے دفتر میں کچھ کام تھا۔ میں نے گاڑی پارک کی اور وائس چانسلر کے دفتر کے سامنے سے گزرتے ہوئے ایڈ منسٹریشن بلاک کو چلا۔ وائس چانسلر کے دفتر کے سامنے تو منتخب اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے تمام منتخب عہدیدار کتبے اور پوسٹر لئے اپنے مطالبات کے حق میں پر امن احتجاج کر رہے تھے۔ ملاقات ہوئی تو میں نے ہنس کر کہا کہ بھائی، تمہارے احتجاج کا یہ ہومیو پیتھک انداز کسی مہذب ملک کے لحاظ سے بہترین ہے کہ جہاں اس طرح چند آدمی احتجاج کرتے نظر آئیں تو متعلقہ حکام کو مصیبت نظر آنے لگتی ہے۔ جب تک مسئلہ حل نہ ہو ہو پورا محکمہ عذاب میں مبتلا رہتا ہے۔ میں سلیوٹ کرتا ہوں آپ لوگوں کو کہ آپ نے یہاں رہتے ہوئے بھی وہ انداز اپنایا جو واقعی آپ کے شایان شان ہے مگر کیا کہوں کہ میں نے خود بھی کالج اساتذہ کی ایک لمبا عرصہ نمائندگی کی ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہاں سو سنار کی کچھ فرق نہیں ڈالتیں، یہاں کی انتظامیہ اسی وقت حرکت میں آتی ہے کہ جب لوہار کی ایک کاری ضرب انہیں لگائی جائے۔ میرا مشورہ ہے کسی ٹوٹی ہوئی کھڑکی کو مزید توڑ دو۔ ٹوٹنے کی آواز انتظامیہ کی کمزوری ہوتی ہے۔ تمہارا مطلوب تم سے قریب تر ہو جائے گا۔ یہ کسی چیز کو حاصل کرنے کا خالص پاکستانی طریقہ ہے۔ 

1989-90ء میں، میں پنجاب لیکچرر ایسوسی ایشن کا صدر تھا۔ اس وقت ہم نے اس وقت کے تین درجاتی فارمولے(لیکچرر، اسسٹنٹ پروفیسر اورپروفیسر) کو چار درجاتی فامولے (ایسوسی ایٹ پروفیسر کا درجہ شامل کرانے) میں بدلنے کے لئے جدوجہد کی ابتدا کی۔ ہمارے ابتدائی ہومیوپیتھک انداز جدوجہد پر کوئی توجہ ہی نہیں دیتا تھا۔ہماری بیوروکریسی کے لہجے میں اک بساند ہوتی ہے۔ ان کے انداز میں اک رعونت اور احساس برتری کا خمار ہوتا ہے۔ یہ عام آد می کو کیڑے مکوڑے سمجھتے اوراس کی زبان عام حالات میں سمجھنے کو تیار نہیں ہوتے۔انہیں زور لگا کر سمجھانا پڑتا ہے۔ہم نے جدوجہد کی اور اس دوران ہر حربہ استعمال کیا۔میرا ہمیشہ سے موقف ہے کہ آپ اگر نمائندہ ہو تو آپ کو تمیز اور بد تمیزی دونوں پر مکمل عبور ہونا چائیے اور ساتھ یہ شعور بھی کہ کس چیز کا کہاں اور کتنا استعمال کرنا چائیے کیونکہ نمائندگی دونوں چیزوں کاتقاضہ کرتی ہے۔مجھے فخر ہے کہ آج کا موجودہ سروس سٹرکچر جو اس دور میں پہلے کالج اساتذہ، پھر یونیورسٹی  اساتذہ اور آخر میں سکول اساتذہ کو ملا میرے ساتھیوں اور میری جدوجہد کا نتیجہ ہے۔اس میں ہم نے دونوں چیزوں تمیز اور بد تمیزی کو خوب استعمال کیا۔میں 1996-2000ء میں پپلا کا سینئر نائب صدر اور صدر بھی رہا،لیکن ہمارے انداز میں کچھ فرق نہ آیا۔

پنجاب یونیورسٹی میں جہاں آٹھ نو سو کل وقتی اساتذہ ہیں وہاں جز وقتی اساتذہ کی تعداد بھی میرے خیال میں پانچ سو سے کم نہیں۔ محترمہ ناصرہ جبین موجودہ وائس چانسلر سے پہلے کچھ عرصہ وائس چانسلر رہیں۔وہ بہترین منتظم، اچھی انسان اور بہت معاملہ فہم خاتون تھیں۔ میری اپیل پر انہوں نے جز وقتی اساتذہ کے معاوضے میں اضافہ کیا گو اس کا نوٹیفیکیشن  موجودہ وائس چانسلر کے آنے کے بعد ہوا۔مگر اس کے بعد میری بہت سی درخواستوں کے باوجود کسی نے اس ہوشربا مہنگائی میں جز وقتی اساتذہ کے بارے سوچا بھی نہیں۔ایک عام جز وقتی لیکچرر کو چار ماہ میں بمشکل چالیس ہزار ملتے ہیں۔ مہینے کے صرف دس ہزار۔ کمال یہ ہے کہ نہ ہی حکومت کو اور نہ ہی کسی یونیورسٹی انتظامیہ کو ان لوگوں کو اس قدر کم معاوضہ دیتے ہوئے شرم محسوس ہوئی ہو۔میں جز وقتی اساتذہ کی ایک ایسوسی ایشن تشکیل دے رہا تھا۔مگر دس ہزار روپے ماہانہ لینے والوں کی مجبوریاں اتنی ہوتی ہیں کہ وہ ان نئے سفاک اور اکیڈمک حالات سے بے بہرہ ڈینز اور چیئرمینزکا سامنا نہیں کر سکتے۔ ان کی پریشانیوں اور ان کے دل ٹوٹنے کی آواز کوئی سننے کو تیار ہی نہیں۔میں کسی کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا اس لئے میں اکیلا ہی اس سفر پر گامزن ہوں۔ کوئی سنے یا نہ سنے اللہ تو کسی دن یقینا سنے گا۔

 موجودہ وائس چانسلرکے دور میں کل وقتی اساتذہ پر ترقیوں کی، جس قدر بارش ہوئی ہے اس کا شمار نہیں۔ ایسے ایسے لوگ چیرمین اور ڈین ہو گئے ہیں کہ ان سے ان کے مضمون پر گفتگو کرنے کے بعد یقین ہو جاتا ہے کہ واقعی اللہ رازق ہے۔ترقی پانے والوں میں کچھ پر سنگین الزامات بھی ہیں، مگر یہ وائس چانسلر کا اختیار ہے کہ جو چاہے ان کا حسن کرشمہ ساز کرے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان چند سالوں میں مراعات کے حصول کے بعد بہت سے اساتذہ بھی خود کو استاد کم اور بیوروکریٹ زیادہ سمجھنے لگے ہیں اور سچی بات یہ ہے کہ ان میں استاد والی فہم و فراست ہے بھی نہیں جو افسوس ناک ہے۔یہ وہ مراعات یافتہ استاد ہیں جو اپنی پروموشن کے لئے جعلسازی کی ہر حد عبور کر چکے ہیں۔دس دس سال غیر ملک میں ٹیکسی چلانے کے بعد وہاں کے کسی چھوٹے موٹے ادارے سے ایک جعلی پی ایچ ڈی کی ڈگری اور اس سارے عرصے کا ٹیچنگ کا جعلی سرٹیفکیٹ لے کر ترقی کی انتہاؤں کو چھو رہے ہیں۔علم کسی کے پاس ہو تو وہ خودبولتا ہے، مگر یہ تھوتھے چنے  بس اللہ اللہ، ان کے بارے مزید کیا لکھوں۔لوگ ناراض ہو جاتے ہیں۔اب وائس چانسلر صاحب کا الوداعی عرصہ شروع ہو چکا۔ ایک کام انہوں نے بہت اچھا کیا ہے کہ یونیورسٹی ملازمیں کا بھی کافی خیال رکھا ہے۔ میرے خیال میں رجسٹرار اور کنٹرولر کی پوسٹوں پر ملازمین کا جائز استحقاق تھا مگر عام طور پر کسی پروفیسر کی تعیناتی کر دی جاتی تھی۔ ہر آدمی سروس کی انتہا تک پہنچنا چاہتا ہے، یہی ملازمین کا جائز مطالبہ تھا جسے تسلیم کیا گیا ہے، جو ایک مستحسن عمل ہے۔  

میرا ایک دوست کینیڈا کی ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہے۔ اس سے بات ہو رہی تھی کہ یہاں سینئر ریٹائرڈ اساتذہ کو جز وقتی کام کرنے سے نئے سرے سے لیکچرر سمجھ کر اسی بھرتی اصول کے تحت آئندہ پڑھانے سے روک دیا جاتا ہے اس لئے کہ ان کے پاس ایم فل کی ڈگری نہیں ہوتی۔ وہ ہنسنے لگااور کہا یہی فرق ہے پاکستان اور مغرب کے تعلیمی اداروں میں۔ مغربی اور ترقی یافتہ ملکوں میں بزرگ استاد ایک اثاثہ سمجھے جاتے ہیں ان کے علم سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ ان کا حد درجہ احترام کیا جاتا اور ان کی ڈیپارٹمنٹ میں موجودگی شعبے کا وقار سمجھی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ وزن تجربے کا ہوتا ہے، ڈگریاں بہت معمولی چیزیں ہوتی ہیں،مگر پاکستان میں صرف کاغذی ڈگریوں اور حوالوں کا وزن ہوتا ہے، یہی چیزپاکستانیوں کو ڈگریوں کے حصول میں جعلسازی پر مائل کرتی ہے اور آج پاکستان کا سارا نظام تعلیم اسی لئے بربادی کی طرف گامزن ہے۔ میرے پاکستان آنے میں یہی رکاوٹ ہے کہ میں کس کس کی کم عقلی کا ماتم کرتا رہوں گا۔

مزید :

رائے -کالم -