لاہور گیریژن میں سپہ سالار کا خطاب

 لاہور گیریژن میں سپہ سالار کا خطاب
 لاہور گیریژن میں سپہ سالار کا خطاب

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 پرسوں (17اپریل بروز اتوار) آرمی چیف، جنرل قمر جاوید باجوہ، لاہور آئے۔ ان کے اس دورے کے ایجنڈے پر پاک بھارت عسکری معاملات نہیں تھے اور نہ ہی لائن آف کنٹرول پر لاہور کور کی پروفیشنل تیاریاں اور ان کے بارے میں کور کمانڈر 4 کور، لیفٹیننٹ جنرل محمد عبدالعزیز کی بریفنگ تھی۔
ان کے شیڈول میں ایک تو وہ مقامی حادثہ تھا جس میں ایک حاضر سروس آرمی میجر، محمد حارث (آرٹلری) کا بازو توڑا گیا تھا اور وہ CMH لاہور میں زیر علاج تھے۔ اس سانحے کا ڈراپ سین ہونا ہنوز باقی ہے اور جب تک اس کا کوئی قانونی ”(اور آئینی)“ فیصلہ نہیں ہو جاتا، پاک آرمی کی اعلیٰ قیادت اس کی مقروض رہے گی۔
آرمی چیف کا لاہور میں یہ بیان کہ فوج اور عوام میں دراڑ ڈالنے کی ہر کوشش ناکام بنا دی جائے گی، ایک خوش آئند بیان ہے۔ وجہ یہ ہے کہ فوج کی طاقت عوام سے پھوٹتی ہے۔فوج کا ہر وردی پوش خواہ وہ آفیسر ہے یا جوان جب ریٹائر ہو جاتا ہے تو ”عوام“بن جاتا ہے۔ دنیا کی تمام افواج میں یہی پروفیشنل چلن رائج ہے کہ وہ اپنے سابق حاضر سروس ساتھیوں اور بعد میں ”عوام“ بن جانے والوں کا دھیان رکھتی ہیں۔ یہ ریٹائرڈ فوجی جو قوم کے ماضی کے محافظ تھے اور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کوہ و دشت و صحرا اور میدان و بیابان میں سرگرداں رہتے تھے وہ مستقبل میں بھی وقت پڑنے پر اپنے بوڑھے ہاتھوں میں شمشیر بدست ہو کر باہر نکل آتے ہیں۔ ان ریٹائرڈ اور معمر فوجیوں اور حاضر سروس جوان اور نو عمر فوجیوں میں خلیج پیدا کرنے کی ہر کوشش ناکام بنا دینے کا عزم اور آرمی چیف کا ببانگِ دہل بیان سارے پاکستانیوں کے لئے وجہِ طمانیت تھا۔


جنرل قمر جاوید باجوہ نے CMH لاہور میں زخمی میجر حارث کی عیادت کی اور ان کے سر پر دستِ شفقت رکھا۔ وہ اپنے طویل آرمی کیرئیر میں فوج کے شہدا اور زخمی ہونے والے افسروں اور جوانوں کی تعزیت اور عیادت کر چکے ہیں لیکن وہ شہادتیں اور وہ زخم دشمن نے لگائے تھے، اپنوں نے نہیں۔ لیکن میجر حارث کو تو ”اپنوں“ نے زخمی کیا ہے اور ان کا بازو توڑا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں آرمی چیف کا بیان تھا کہ اس سانحے کے مجرم سزا سے نہیں بچ سکیں گے اور جلد قانون اپنا راستہ بنائے گا…… وہ لوگ جنہوں نے حارث کو زخمی کیا اور وہ جنہوں نے زخمی کرنے کے احکامات صادر فرمائے ان کا حساب کتاب بھی جلد لیا جانے والا ہے اور جہاں تک ثبوت کا تعلق ہے تو اس ٹیکنالوجی زدہ دور میں ثبوت ڈھونڈنا کوئی زیادہ مشکل نہیں۔
چند برس پہلے میرے ایک عزیز کی شادی ہوئی۔ چند دن کے بعد نوبیاہتا دلہن روٹھ کر میکے چلی گئی۔ لڑکے والوں کو شک گزرا، تحقیقات ہوئیں تو معلوم ہوا کہ محترمہ دلہن، سہاگ رات بھی اپنے پہلے  آشنا سے ہمکلام تھی۔ انفرمیشن ٹیکنالوجی نے بذریعہ موبائل فون سارا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا۔ معلوم ہوا کہ محترمہ گزشتہ دو تین سال سے ایک دوسرے ’لڑکے‘ سے ’شدید‘ قسم کی رسم و راہ رکھتی تھی۔ ان ساری ٹیلی فون کالوں کا حساب کتاب نکالا گیا اور سب کچھ آئینہ ہو گیا…… زبانِ خنجر اگر چپ بھی رہے تو آستیں کا لہو پکار اٹھتا ہے کہ قاتل کون ہے…… جب یہ سب کچھ سامنے آیا تو لڑکی کے آشنا کے والدین اور خود لڑکی والدین کے سامنے ٹیکنالوجی کی مدد سے حاصل کئے گئے ثبوت رکھ دیئے گئے…… لڑکی کو طلاق دے دی گئی اور ”حق بہ حقدار رسید“ والا معاملہ ہو گیا۔


…… میجر حارث کے اس کیس میں بھی ایسی شہادتیں منظرِ عام پر آنے والی ہیں جن کو جھٹلایا نہیں جا سکے گا اور قانون اور آئین اپنا راستہ خود بنا لے گا!…… آپ دیکھیں گے بہت جلد ایسا ہوگا۔
لاہور وزٹ کے شیڈول میں دوسری اہم بات وہ ملاقاتیں تھیں جو آرمی چیف اور حاضر سروس آفیسرز اور اس کے بعد ریٹائرڈ افسروں کے مابین ہوئیں۔ ریٹائرڈ افسروں سے آرمی چیف کا خطاب تقریباً 4گھنٹوں پر مشتمل تھا اور اس کا ایجنڈا حالیہ سیاسی بحران اور اس میں آرمی کا کردار تھا۔ اس ملاقات کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہال میں اگلی کرسیوں کی پہلی تین قطاریں تھری سٹار جنرل صاحبان پر مشتمل تھیں۔ ان کے پیچھے دو ستاروں اور ایک ستارے والے میجر جنرل اور بریگیڈیئر فروکش تھے اور ان کے بعد کرنل، میجر، کپتان اور لیفٹین تھے۔ لیکن جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا، جب کوئی شخص فوج سے ریٹائر ہو جاتا ہے تو وہ ”عوام“ بن جاتا ہے اور اتوار کے روز اس عوام نے کھل کر دل کی بھڑاس نکالی۔ آرمی چیف کی استقامت کو سات سلام کہ انہوں نے بڑی متانت سے ہر قسم کی تنقید سنی اور اس پر چیں بہ جبیں نہ ہوئے!
آرمی چیف کے ساتھ یہی کچھ راولپنڈی گیریژن کے افسروں کے ساتھ ان کی ملاقات میں بھی ہو چکا تھا۔ لیکن لاہور گیریژن کے ریٹائرڈ افسروں کی آواز بھی ایسی صدا بہ صحرا نہیں کہ اس سے صرفِ نظر کیا جائے۔ سب نے دل کھول کر سوالات کی بوچھاڑ کی اور آرمی چیف نے بھی کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر ان کا جواب دیا۔ دراصل، دورِ حاضر میں کوئی ”لگی لپٹی“ رکھی جا سکتی ہی نہیں۔ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ کسی بھی VIP کی زبان سے نکلا ہوا کوئی بھی لفظ چُھپ نہیں سکتا۔


جو ریٹائرڈ فوجی یہاں اس محفل میں موجود نہیں تھے اور ان کی تعداد ہزاروں لاکھوں میں تھی(میری مراد کمیشنڈ افسروں کے علاوہ JCOs، NCOs اور جوانوں سے ہے) وہ اس محفل میں موجود نہیں تھے اور ہو بھی نہیں سکتے تھے۔ اتنی کثیر تعداد سے آرمی چیف کیسے ملاقات کر سکتے تھے۔ لیکن اس اکثریت کا بھی ایک موقف ہو گا۔ جب قوم موجودہ طرز کے سیاسی خلفشار کا شکار ہو جائے تو یہ اکثریت بھی اپنا ایک موقف رکھتی ہے۔ اسی موقف کے بارے میں حضرت اقبال نے کہا تھا:
نہیں منت کشِ تابِ شنیدن داستاں میری
خموشی گفتگو ہے، بے زبانی ہے زباں میری
یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں 
یہاں تو بات کرنے کی ترستی ہے زباں میری
مرا رونا نہیں، رونا ہے یہ سارے گلستاں کا
وہ گل ہوں میں، خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میری


ان بے زبان ریٹائرڈ فوجیوں کی اکثریت کی بھی ایک زبان ہے۔ سوشل میڈیا نے یہ مشکل آسان کر دی ہے اور یہ ”عوام“ بھی عامتہ الناس میں شامل ہو گئے ہیں۔ مجھے خبر نہیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا اس طرح کا اگلا پڑاؤ کہاں ہوگا۔ لیکن میرا خیال ہے ان کو فوج کی نبض (Pulse) پر ہاتھ رکھنے کے لئے اب شاید کراچی، پشاور، کوئٹہ، ملتان، بہاولپور اور سیالکوٹ گیریژنوں کا دورہ بھی کرنا پڑے گا۔ اگر ان تمام دوروں کا حاصل ضرب وہی ہو جو راولپنڈی اور لاہور گیریژنوں کے دوروں کا ہے تو جنرل صاحب کے سامنے وہ تصویر زیادہ صاف ہو کر ابھرے  گی جو پوری قوم کی آواز بن چکی ہے اور جس کا ایک ہی حل ہے۔ وہ حل (ارلی الیکشن) جتنی جلد ہو سکے، کروا دیئے جائیں۔ اگر جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے باقی ماندہ ایامِ سپہ سالاری یعنی 29نومبر 2022ء سے پہلے پہلے یہ الیکشن کروانے میں کوئی رول ادا کر سکیں تو آنے والی نسلیں ان کی نیک نامی کا اعتراف کریں گی۔ یہ نیک نامی ساری فوج کی ہوگی۔ میں تو بڑے تواتر سے یہ عرض کر رہا ہوں کہ ”سلیکٹڈ وزیراعظم“ کا داغ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فوج کے چہرے سے دھل جانا چاہیے۔


سابق وزیراعظم کو بھی اب سربگریباں ہو جانا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ انہوں نے کہاں کہاں ٹھوکریں کھائی ہیں …… اپنی خودداری کو گھمنڈ اور غرور کے لبادے سے باہر نکال دینا چاہیے۔ سب سے بڑے صوبے (پنجاب) کی عنانِ اقتدار ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دینے سے گریز کی پالیسی اپنانی چاہیے جس کو اطوارِ حکمرانی کا کوئی اندازہ نہ تھا لیکن خان صاحب اپنی ضد پر اڑے رہے اور اس کا نتیجہ بھی دیکھ لیا۔ یہی حال خیبرپختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ کا بھی تھا۔ ان دونوں صوبوں میں عثمان بزدار اور محمود خان کی بجائے اگر علیم خان اور پرویز خٹک کو وزرائے  اعلیٰ لگا دیا جاتا تو کیا قباحت تھی؟ میں نے بڑی صراحت سے مسلسل یہ بات بھی خان صاحب کے گوش گزار کرنے کی کوشش کی کہ ”ریاست مدینہ“ کا حوالہ دینے سے گریز کریں۔ لیکن ان کے کسی سٹاف آفیسر نے ان کے سامنے تاریخ اسلام کا وہ ورشن نہیں رکھا جو سکّے کا دوسرا رخ تھا۔
اور جہاں تک شریف فیملی کا پنجاب میں اقتدار پر قبضہ کرنے کا سوال ہے تو یہ نون لیگ نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے اور اپنے ان معترضین کے ہاتھ مضبوط کئے ہیں جو پاکستان پر جمہوریت کی بجائے بادشاہت کی عملداری پر ملزم آلِ شریف کے ناقد ہیں!

مزید :

رائے -کالم -