پشاور موڑتا اسلام آبا د میٹرو بس سروس کا افتتاح، میں اسی رفتار سے کام کرونگا جسکا عادی ہوں، سابق وزیراعظم کو گھبراہٹ ہو گی: شہباز شریف

پشاور موڑتا اسلام آبا د میٹرو بس سروس کا افتتاح، میں اسی رفتار سے کام کرونگا ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


           اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو پشاورموڑ تا اسلام آباد میٹرو بس سروس کا افتتاح کردیا۔منصوبے کو بعد میں توسیع دیکر روات تک لے جایا جائیگا‘ر مضا ن کے دوران بس میں سفر کرنے والے شہریوں سے ٹکٹ نہیں لیا جائیگا‘بس سروس سے روزانہ 50 ہزار شہری مستفید ہونگے۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میرے تیز کام کرنے سے سابق وزیراعظم کو گھبراہٹ ہوگی لیکن عوامی گھبراہٹ ختم ہوچکی‘سابق حکمرانوں کو احساس ہوتا تو میٹرو بس منصوبہ 4 گھنٹے بھی تاخیر کا شکار نہ ہوتا‘ہم ساری جماعتیں دن رات محنت اور لگن سے عوامی فلاح کیلئے کام کریں گے اور اگر سابق وزیراعظم کو گھبراہٹ ہوتی ہے تو ہو لیکن میں اسی رفتار سے کام کروں گا جس کا میں عادی ہوں۔شہباز شریف نے کہا کہ منصوبے پر ترکی اور چین کے شکر گزار ہیں، یہ منصوبہ گزشتہ چار سال تعطل کا شکار رہا،اس کا تخمینہ 16 ارب تھا، یہ تحفہ اسلام آباد کے باسیوں کو 2017 میں نواز شریف نے دیا، اس  منصوبے کو 2018 میں آپریشنل ہونا تھا مگر بدقسمتی سے حکومت تبدیل ہونے پر یہ منصوبہ اور اس جیسے تمام منصوبے کھٹائی کا شکار ہوئے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اب اس منصوبے کیلئے پنجاب ٹرانسپورٹ اتھارٹی سے 15 بسیں ادھار لی ہیں۔میٹرو بس منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چار سال جس منصوبے پر موت کی کیفیت طاری تھی اس کا 4 دن میں افتتاح کیا، اس منصوبے سے روزانہ ہزاروں مسافر مستفید ہو سکیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ سابق حکمرانوں کو اگر عوام کا احساس ہوتا تو یہ منصوبہ 4 سال تو کیا 4 گھنٹے تاخیر کا شکار نہ ہوتا۔انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم تو ہیلی کاپٹر پر 55 روپے فی کلومیٹر پر آتے جاتے تھے اور وزراء  کے پاس بلٹ پروف اور آرام دہ گاڑیاں تھیں، انہیں اس سے کیا غرض تھی کہ غریبوں نے اپنے بچوں کو اسکول لیکر جانا ہے، ماں باپ کو اسپتال لیکر جانا ہے یا محنت مزدوری کے لیے جانا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ جب میں وزیراعلیٰ پنجاب تھا کہ پی ٹی آئی کے وکیلوں نے لاہور میٹرو کا منصوبہ ایک سال سے زیادہ تعطل کا شکار کروایا، پی ٹی آئی کے وکلاء  نے گلے پھاڑ پھاڑ کر کہا کہ اربوں روپے کی کرپشن ہوئی لیکن ججز نے منصوبے کو قریب سے دیکھا تو اسے کلین چٹ دی۔انہوں نے کہا کہ میرے وزیراعظم بننے سے سابق وزیراعظم کو گھبراہٹ تو ہو گی لیکن عوام کی گھبراہٹ اب ختم ہو گئی ہے، اب ہم ساری جماعتیں دن رات محنت اور لگن سے عوامی فلاح کے لیے کام کریں گے اور اگر سابق وزیراعظم کو گھبراہٹ ہوتی ہے تو ہو لیکن میں اسی رفتار سے کام کروں گا جس کا میں عادی ہوں۔دوسری جانب شہباز شریف سے سابق سپیکر بلوچستان اسمبلی و قائم مقام صدرمسلم لیگ ن بلوچستان جمال شاہ کاکڑ  نے  ملاقات  کی جس میں  جمال شاہ کاکڑ نے وزیرِ اعظم کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد اور ملک کو واپس ترقی کی راہ پر گامزن کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ وزیر اعظم نے کہا  بلوچستان میں ترقی کی رفتار کو مزید تیز کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،ہماری حکومت بلوچستان کی باصلاحیت افرادی قوت کو ترقی کے یکساں مواقع کی فراہمی یقینی بنائے گی۔وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن جہانزیب خان نے ملاقات کی جس میں انہوں نے وزیرِ اعظم کو تعطل کے شکار ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے آگاہ کیا گی، اس موقع پروزیرِ اعظم نے عوامی فلاحی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل اور  پلاننگ کمیشن کو مزید فعال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ  جامع منصوبہ بندی سے ٹھوس پالیسیوں کی تشکیل اور پالیسیوں کے تسلسل سے ملکی معاشی و اقتصادی ترقی یقینی بنائیں گے،وزارتیں و ڈویژن باہمی تعاون کو یقینی بنائیں،عوامی فلاحی منصوبے مزید مجرمانہ غفلت اور نظر اندازی کا شکار نہیں ہوں گے،ترقی کا سفر وہیں سے شروع ہے، جہاں سے رکا تھا،ملک و قوم کا ایک روپیہ بھی ضائع نہیں ہونے دیں گے۔وزیرِ اعظم نے پلاننگ کمیشن کو مزید فعال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وزارتیں و ڈو یژن باہمی تعاون کو یقینی بنائیں۔ شہباز شریف سے سابق وزیرِ اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے ملاقات کی اور وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی۔حافظ حفیظ الرحمن نے کہا چلاس میں وزیرِ اعظم کی عالمی معیار کی سہولتوں سے آراستہ ہسپتال کی منظوری مقامی لوگوں کیلئے نعمت سے کم نہیں،ٹر یفک کی سارا سال روانی کیلئے بابو سر ٹنل کی منظوری سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ مقامی آبادی کی آمدورفت و معاشی سرگرمیاں سارا سال بلا تعطل جاری رہیں گی. حافظ حفیظ الرحمن،دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کو 2029 کی بجائے 2026 میں مکمل کرنے کی ہدایات پر حافط حفیظ الرحمن  نے  وزیرِ اعظم شہباز شریف  کو خراجِ تحسین.  پیش کیا۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ  ہماری حکومت کی اولین ترجیح عوام کی خدمت ہے،چار سال کے سیاہ دور میں عوامی فلاحی منصوبوں کو نظر انداز کیا گیا،انشاء اللہ ملک و قوم کی خدمت کا سفر اب تیزی سے جاری رہے گا۔وزیر اعظم شہباز شریف سے پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سید المالکی نے ملاقات کی، جس میں سعودی سفیر نے وزیر اعظم کو وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی، اور دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے موجود دو طرفہ دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے تجارت، سرمایہ کاری اور سٹرٹیجک تعلقات کے شعبوں میں سعودی عرب کیساتھ تعاون کے فروغ پر زور دیا۔ علاوہ ازیں انہوں نے تعلیم، صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، متبادل ایندھن اور صا ف توانائی کے فروغ کیلئے سعودی عرب کے تجربے سے استفادہ کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔علاوہ ازیں وزیر اعظم شہباز شریف سے اسلام آباد میں قطر کے سفیر شیخ سعود عبدالرحمن الثانی نے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات سمیت مختلف امورپر تبادلہ خیال کیا گیا۔سفیر نے وزیر اعظم شہباز شریف کو وزیر اعظم منتخب ہونے پر قطری قیادت کی جانب سے مبارکباد کا پیغام پہنچایا۔دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کی قطر کی خواہش کا اعادہ کیا۔وزیراعظم نے قطری قیادت کی جانب سے تہنیتی پیغامات پر قطری سفیر کا شکریہ ادا کیا۔بعد ازاں وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد آلثانی کا ٹیلیفون کرکے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے میں پوری حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ پیر کو جاری اعلامیہ کے مطابق امیرِ قطر نے وزیر اعظم شہباز شریف کو وزارتِ عظمی کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور پاکستان قطر تعلقات کو مزید مضبوط کرنے میں پوری حمایت کی یقین دہانی کرائی۔وزیر اعظم نے امیرِ قطر کا  شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے قطر پاکستان کے تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا،خاص طور پر وزیر اعظم نے پاکستان اور قطر کے مابین معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا - جس میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، مواصلات، فوڈ سیکیورٹی اور دیگر اہم شعبے شامل ہیں۔وزیر اعظم نے سیکیورٹی، صحت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں پاکستانی افرادی قوت کی فلاح و بہبود کے لئے قطر کے اقدامات کو بھی سراہا۔وزیر اعظم نے افغان امن عمل میں قطر کے کردار کو سراہا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک افغان عوام کے لئے امن، استحکام اور انسانی امداد کے لئے مل کر کام کرتے رہیں۔وزیر اعظم نے امیرِ قطر کو جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دے دی۔دونوں رہنماؤں نے قریبی باہمی روابط مضبوط کرنے اور پاکستان قطر تعلقات میں استحکام اور مزید وسعت لانے پر اتفاق کیا۔
شہباز شریف

مزید :

صفحہ اول -