تحریک انصاف کی خاتون رکن اسمبلی گرفتار، مزید گرفتاریوں کا امکان 

تحریک انصاف کی خاتون رکن اسمبلی گرفتار، مزید گرفتاریوں کا امکان 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(کرائم رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پنجاب اسمبلی میں نئے قائد ایوان کے انتخابات کے موقع پر پولیس افسران و اہلکاروں پر تشدد کرنے کا معاملہ،پنجاب پولیس نے تشدد کرنیوالے ممبران پر مقد مہ درج کرنے اور گرفتارکرنے کا فیصلہ کر لیا۔ پنجاب پولیس کی جانب سے بڑی گرفتاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ اسی اثنا میں گلبرگ سے پی ٹی آئی خاتون رکن اسمبلی کو گرفتار کرلیا گیا۔ اگلے 24 گھنٹوں میں مزید ارکان اسمبلی کی گرفتاریاں متوقع ہیں۔ واضح رہے کہ پولیس نے پنجاب اسمبلی سے سی سی ٹی وی فوٹیجز کا ریکارڈ کل ہی حاصل کر لیا تھا۔سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے تشدد کرنے والے ممبران کی شناخت کر لی گئی۔ تشدد کرنے والے ممبران میں خواتین ایم پی ایز بھی شامل ہیں، میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل فوٹیجز میں فیاض الحسن چوہان، عمر تنویر، رانا شہباز، خیال کاسترو، خافظ عمار یاسر اور مہندر سنگھ پال کو تشدد کرتے واضح دیکھا جاسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق فوٹیجز میں واثق قیوم عباسی، نوابزادہ وسیم، تیمور سعود مومنہ وحید، زینب عمر، شاہدہ احمد اور آسیہ امجد کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری پر حملے میں ملوث ملزمان کی شناخت کرلی گئی، ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملے میں چوہدری پرویزالٰہی کے امیدوار، ان کے پرائیویٹ سکیورٹی چیف، سیکرٹری اسمبلی محمد خان بھٹی سمیت 15 اراکین پنجاب اسمبلی شامل ہیں۔ذرائع  کے مطابق پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وزیر اعلی کے عہدے کے امیدوار چوہدری پرویز الٰہی کے حکم پر سابق ایس پی اور ریٹائر میجر فیصل مبینہ طور پر کچھ نجی افراد کو لے کر ایوان میں داخل ہوئے،انہوں نے پنجاب اسمبلی کے سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے عہدیداران کا لباس پہنا ہوا تھا۔ذرائع  کے مطابق پیشرفت سے باخبر ایک عہدیدار نے بتایا کہ تفتیش کاروں نے فوٹیج کی جانچ کی ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ پرویز الٰہی کے چیف سکیورٹی افسر ریٹائرڈ میجر فیصل چند افراد کے ساتھ پنجاب اسمبلی کے سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں کی وردی میں ایوان میں داخل ہوئے تھے۔عہدیدار کا کہنا تھا کہ پرویز الٰہی کی سفارش پر، انہیں 15 سال قبل پنجاب پولیس میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتی کیا گیا تھا۔بعد ازاں جب مسلم لیگ (ن)کے دور حکومت میں ان کا معاہدہ ختم کر دیا گیا تو پرویز الٰہی نے انہیں اپنا چیف سکیورٹی افسر رکھ لیا وہ تب سے چوہدریوں کے ساتھ ہیں۔ڈپٹی سپیکر دوست مزاری اور پولیس کی تحقیقات میں پرویز الٰہی اور سیکرٹری اسمبلی محمد خان بھٹی کے علاوہ 14 اراکین سمیت دیگر افراد کی نشاندہی کی گئی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق 14 اراکین اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمر تنویر، واثق قیوم عباسی، ملک تیمور مسعود، خیال احمد کاسترو، محمد وارث عزیز، عمر فاروق، شہباز احمد، شامل ہیں۔ملک ندیم عباس، مہندر پال سنگھ، محمد رضوان، محمد ندیم قریشی، محمد علی رضا خان خاکوانی، اعجاز خان اور شجاعت نواز شامل ہیں۔انہوں نے مبینہ طور پر پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کو مارا پیٹا، ان سے بدتمیزی کی اور ان پر تشدد کیا۔ایک سرکاری دستاویز میں لکھا گیا ہے کہ ان مشتبہ افراد نے دوست مزاری کو زد و کوب کا نشانہ بنایا اور انہیں لاتوں اور مکوں سے مارنے کی کوشش کی۔دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ پرویز الٰہی، محمد خان بھٹی، سپیشل سیکرٹری عامر حبیب، سیکرٹری کوارڈی نیشن عنایت اللہ، سکیورٹی آفیسر سردار اکبر ناصر اور ریٹائرڈ میجر فیصل کئی نجی نامعلوم افراد کے ساتھ ایوان میں داخل ہوئے تھے۔مذکورہ دستاویز کے مطابق انہوں نے بہت سے صوبائی قانون سازوں پر حملہ کرتے ہوئے ان پر تشدد کیا ملزمان نے ایوان کے قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی کا تقدس پامال کیا ہے۔درجنوں قانون سازوں اور دیگر پرائیویٹ افراد کے خلاف درج مقدمے کی پولیس تفتیش کے بارے میں بات کرتے ہوئے عہدیدار نے انکشاف کیا کہ پولیس نے قانون کو ہاتھ میں لینے والے تمام مشتبہ افراد کی شناخت کے لیے واقعے کی فوٹیج اکٹھی کر لی ہے۔
گرفتاریاں 

مزید :

صفحہ اول -