‎مسلم اُمّہ کیلئے ایثار وقربانی،جرات و استقامت کا پیغام

‎مسلم اُمّہ کیلئے ایثار وقربانی،جرات و استقامت کا پیغام
‎مسلم اُمّہ کیلئے ایثار وقربانی،جرات و استقامت کا پیغام

  

ترجمہ "اور یقیناً اللہ تعالیٰ نے میدانِ بدر میں تمہاری خوب مدد کی جبکہ تم از حد کمزور تھے ، پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ،امید ہےکہ اب تم ا س کے شکر گزار رہو گے"۔ 

(آل عمران)

اللہ تعالیٰ نے اہل بدر  سے فرمایا 

 ترجمہ "(بدر والو!) (آج کے بعد) تم جو چاہو کرو ، میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے "۔ (بخاری شریف)

17 رمضان المبارک، جمعتہ المبارک کا دن غزوہ بدر کی یاد تازہ کرتا ہے جسکو" یوم الفرقان" بھی کہا جاتا ہے، 

یہ تاریخ اسلام کا وہ یادگار دن ہے جب اسلام اور کفر کے درمیان پہلی فیصلہ کن جنگ لڑی گئی، جس میں  کفارِ قریش کے طاقت کا گھمنڈ خاک میں ملنے کے ساتھ اللہ کے مٹھی بھر نام لیواؤں کو وہ ابدی طاقت اور رشکِ زمانہ غلبہ نصیب ہوا جس پر آج تک مسلمان فخر کرتے ہیں

 ’’بدر‘‘ ایک گاؤں کا نام ہے جہاں ہر سال میلہ لگتا تھا۔ یہ مقام مدینہ طیبہ سے تقریباً اسی (80) میل کے فاصلے پر ہے، جہاں پانی کے چند کنویں تھے اور ملک شام سے آنے والے قافلے اسی مقام پر ٹھہرا کرتے تھے۔ حضور اکرم سید عالمﷺ اور صحابہ کرامؓ نے جب ہجرتِ مدینہ فرمائی تو قریش نے ہجرت کے ساتھ ہی مدینہ طیبہ پر حملے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔

اسی اثناء میں یہ خبر بھی مکہ معظمہ میں پھیل گئی تھی کہ مسلمان قریش مکہ کے شام سے آنے ولے قافلے کو لوٹنے آ رہے ہیں اور اس پر مزید یہ کہ عمرو بن حضرمی کے قتل کا اتفاقیہ واقعہ بھی پیش آگیا، جس نے قریش مکہ کی آتش غضب کو مزید بھڑکا دیا۔ حضور نبی کریم ﷺکو جب ان حالات کی خبر ہوئی تو آپ ﷺنے اپنے صحابہ کرامؓ کو جمع کیا اور امر واقعہ کا اظہار فرمایا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ نے جواب میں نہایت جاں نثارانہ و فدایانہ تقریریں کیں۔ حضرت سعد بن عبادہؓ (خزرج کے سردار) نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہﷺ! خدا کی قسم! اگر آپؐ حکم فرمائیں تو ہم سمندر میں کودنے کو تیار ہیں۔

حضرت مقدادؓ نے کہا: ’’ ہم حضرت موسیٰؑ کی امت کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ آپؐ اور آپؐ کا رب خود جاکر لڑیں، ہم تو یہیں بیٹھے ہوئے ہیں بلکہ ہم آپؐ کے دائیں سے بائیں سے، سامنے سے اور پیچھے سے لڑیں گے ،ہم لوگ واقعی آپؐ کے تابعدار ہوں گے، جہاں آپؐ کا پسینہ گرے گا وہاں ہم اپنا خون بہا دیں گے۔ آپؐ بسم اﷲ کیجئے اور جنگ کا حکم فرمائیں، انشاء ﷲ اسلام ہی غالب آئے گا۔

حضور سرکارِ دو عالم ﷺنے جب صحابہ کرامؓ کے اس جذبہ سرفروشانہ اور جوش ِایمانی کو دیکھا تو آپﷺ کا چہرہ اقدس فرطِ مسرت سے چمک اٹھا۔ پھر آپؐ نے اپنا چہرہ مبارک آسمان کی طرف اٹھا کر ان سب کے لیے بارگاہِ خداوندی میں دعائے خیر فرمائی، اور ارشاد فرمایا: ’’ خداوند قدوس نے مجھے قافلہ و لشکر میں سے کسی ایک پر فتح عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ بلاشبہ اﷲ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور قسم با خدا! میں ابھی سے کفار کے سرداروں کی قتل گاہ دیکھ رہا ہوں۔‘‘ پھر آپؐ نے فرمایا کہ’’ اس جگہ فلاں کافر قتل ہوگا، اس جگہ فلاں کافر قتل ہوگا۔‘‘ آپؐ نے مقتولوں میں سے ہر ایک کا محل قتل بتا دیا۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ جہاں جہاں حضور سید عالم ﷺنے فرمایا تھا، وہ کافر وہاں ہی قتل ہوا۔ (مشکوٰۃ / مدارج النبوت)

چنانچہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مشورے سے آپ ﷺ کیلئے عریش (چھپر) بنوایا گیا تاکہ آپؐ  وہاں سے جنگی صورتحال کو بچشم خود ملاحظہ فرما سکیں۔آج کل اس جگہ ایک مسجد ہے۔ جسے ’’مسجد عریش ‘‘ کہا جاتا ہے۔16 رمضان المبارک کو دونوں فوجیں پڑاؤ ڈال چکی تھیں ۔ آپ ﷺ رات بھر بارگاہِ ایزدی میں دعا و مناجات کرتے رہے۔ بالآخر وہ وقت آن پہنچا جب بدر کا میدان رزم حق وباطل کا استعارہ بن گیا جو صحابہ کرامؓ کی جرأت و شجاعت، بہادری و جانبازی ،اللہ کی مدد اور نصرت اور نبی کریم ﷺ کی بہترین عسکری حکمت عملی کی مثال کے طور پر تاریخ عالم میں جانا جاتاہے۔ 17 رمضان المبارک، 2 ہجری کو نبی کریم ﷺ نے فوج کی صف بندی کی اور دست رحمت کو بارگاہ رحمت میں دراز کرتے ہوئے التجاء کی :’’ اے پروردگار !جو آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے اسے پورا فرما۔ آج اگر یہ مٹھی بھر جماعت مٹ گئی تو تاقیامت آپ کی عبادت کرنے والا کوئی نہیں ہوگا‘‘۔

    یہ صبر آزما امتحان تھا۔مسلمانوں کے تلواروں کے نیچے ان کے قلب و جگر کے ٹکڑے اور بزرگ بھی آ رہے تھے لیکن اسلام کی محبت رشتوں کی محبت پر غالب تھی ۔حضرت ابو بکرصدیقؓ کی تلوار ان کے بیٹے پر بے نیام ہوئی ، حضرت عمر فاروقؓ کی تلوار اُن کے ماموں کے خون سے رنگین ہوئی ، حضرت حذیفہ ؓ کی تلوار اپنے والد عتبہ پر تن گئی ، قریش کے سپہ سالار عتبہ پر حضرت حمزہؓ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کاری ضرب لگائی ، شیبہ کو حیدر کرارؓ کی ذوالفقار نے 2ٹکڑوں میں تقسیم کیا ، عبیدہ بن سعید کو حضرت زبیر ؓ نے جہنم رسید کیا ،2 انصاری بچوں حضرت معوذؓ اور حضرت معاذؓ نے ابوجہل کے غرور کو زمین بوس کیا ، عکرمہ  ( اللہ تعالیٰ نے بعد میں انہیں دامنِ اسلام سے پیوست فرمایا ) بن ابی جہل نے حضرت معوذ ؓ پر تلوار سے حملہ کیا جس سے ان کا بازو کندھے سے لٹک گیا لیکن شیر دل مجاہدِ اسلام پھر بھی لڑتے رہے۔ جب لٹکا ہوا بازو دشمن پر حملے کرنے سے رکاوٹ بنا تو حضرت معوذؓ نے اپنے ہاتھ کو پاؤں کے نیچے رکھ  کر ایک جھٹکے سے الگ کر دیا۔ ابو جہل کے مرنے سے قریش مکہ کی ہمت کافی حد تک پست ہوگئی، ان کے حوصلے جواب دینے لگے تھے لیکن ان کی ایک امید ابھی باقی تھی یعنی سردار امیہ بن خلف۔ پھر چشم فلک نے وہ نظارہ بھی دیکھا جب حضرت بلال حبشیؓ پر ستم ڈھانے والے امیہ کے جسم کو نیزوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ دشمن کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی ،اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کی فوج اتری ، کفر کے سرداروں کی لاشوں کے ڈھیر لگ گئے ۔ابوجہل ،امیہ بن خلف ، عتبہ ، شیبہ ، ولید ، زمعہ بن اسود ، عاص بن ہشام ،منبہ ابن الحجاج اور ابو البختری کے ناپاک وجود سے اللہ کی زمین پاک ہو گئی۔70کفار مارے گئے ، 70 کو قیدی بنا لیا گیاجبکہ باقی دُم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ دوسری طرف 14 مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ اب یہ مسئلہ پیش آیا کہ  قیدیوں کے ساتھ کیا کیا جائے ؟ اِس وقت قیدیوں سے جو وحشیانہ سلوک ہوتا تھا اس پر تاریخ کے اوراق نوحہ کناں ہیں لیکن آپﷺے ان سے ایسا رحم و کرم کا سلوک کیا کہ تاریخ انسانی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

   قیدیوں کو صحابہ کرامؓ میں تقسیم کر دیا گیا اور ان سے حسن سلوک کا تاکیدی حکم بھی سنا دیا گیا۔ صحابہ کرامؓ بھی اپنے جان کے دشمنوں سے ایسے کریمانہ سلوک سے پیش آئے کہ خود کھجوروں پر گزارہ کر کے قیدی بھائیوں کو کھانا کھلاتے۔

     ایک قیدی ابو عزیز کا بیان ہے کہ میں جس انصاری کے ہاں قید تھا ،وہ صبح و شام میرے سامنے کھانا رکھتے ، روٹی اور سالن وغیرہ میری طرف رکھتے اور خود چند کھجوریں کھا کر گزارہ کر لیتے ۔مجھ کو شرم آتی ۔میں روٹی ان کے ہاتھ میں دے دیتا لیکن وہ اسے ہاتھ بھی نہ لگاتے اور مجھے واپس کر دیتے۔

    انہی قیدیوں میں ایک شخص سہیل ابن عمرو بھی تھا جو بلا کا خطیب تھا۔ نبی کریم ﷺکے خلاف تقریریں کر کے لوگوں میں آپ ﷺ کیلئے نفرت پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہتا تھا ۔حضرت عمر فاروقؓ نے اس کے متعلق رائے دی کہ اس کے نچلے 2دانت اکھاڑ دئیے جائیں تاکہ تقریر نہ کر سکے لیکن آپﷺ نے اسے منظور نہ فرمایا۔ یہاں تک کہ جن قیدیوں کے کپڑے خراب ہو گئے یا پھٹ گئے ان کو کپڑے دینے کا حکم دیا ۔

    حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے صحابہ کرامؓ سے مشورہ لیا کہ ان قیدیوں کا کیا کیا جائے ؟ اس پر حضرت عمر ؓ نے کہا:  ان لوگوں نے آپؐ کی رسالت کو جھٹلایا، آپؐ کو اپنے گھر سے نکالا ، ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم ان کی گردنیں اڑا دیں۔ اسکے بعد حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے اس سے بھی زیادہ سخت رائے دی کہ : یارسول اللہﷺ !آپؐ  ایسے علاقے میں ہیں جہاں لکڑیاں بکثرت ہیں۔ جنگل میں آگ لگوا کر ان کو اس میں ڈال دیں۔ سب سے آخر میں مزاج شناسِ رسولؐ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کھڑے ہوئے اور بیان کیا کہ انہیں زندگی کی مہلت دیں، توبہ کرائیں۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی ان کی توبہ کو قبول فرمائیں گے۔میری رائے یہ ہے کہ ان سے کچھ فدیہ لے کر آزاد کر دیا جائے۔آپ ﷺ یہ سن کر اٹھ کر چلے گئے ، تھوڑی دیر بعد واپس تشریف لائے اور فرمایا:’’ اے ابو بکر !تمہاری مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسی ہے جنہوں نے فرمایا تھا ـ:جس نے میری اتباع کی وہ مجھ سے ہے۔ اے ابوبکر! آپ کی مثال حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسی ہے جنہوں نے فرمایا تھا :اے اللہ اگر تُوانہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر معاف کر دے تو تُو بخشنے والا ہے۔‘‘ اس کے بعد حضرت عمر ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :’’ اے عمر !تیری مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسی ہے جنہوں نے فرعون کے لیے اللہ سے بددعا کی تھی۔ اور اے عمر !تیری مثال حضرت نوح علیہ السلام جیسی ہے جنہوں نے اپنی قوم کی ہلاکت کے لیے یوں بددعا کی تھی : اے اللہ !کافروں کاایک بھی گھر زمین پر باقی نہ چھوڑ( ان سب کو ہلاک کر دے )‘‘پھر آپ ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو فرمایا :’’ اس وقت تم ضرورت مند ہو اس لیے ان قیدیوں کو ( ان کی حیثیت کے مطابق )فدیہ وصول کر کے  چھوڑ دو ۔‘‘چنانچہ ایسا ہی کیا گیا ۔جن کے پاس مال تھا ان کی حیثیت کے مطابق فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا اور جن کے پاس مال نہیں تھا ان سے کہا گیا کہ ہر قیدی مسلمانوں کے 10 ، 10 بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے۔ ان کا یہی فدیہ ہے۔

غزوہ بدر کے واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ ثابت قدمی ، جذبہ جہاد ، شوق شہادت اور اطاعتِ امیر سے کڑے حالات کو اچھے حالات کی طرف موڑا جا سکتا ہے، محض دنیاوی وسائل، آلات جنگ اور سپاہیوں کی کثرت ہی جنگ جیتنے کے لیے کافی نہیں ہوا کرتی۔ 

فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو 

اُتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

.

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

  ۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں. 

مزید :

بلاگ -روشن کرنیں -