شیریں مزاری نے سپریم کورٹ سے سوالات پوچھ لیے

شیریں مزاری نے سپریم کورٹ سے سوالات پوچھ لیے
شیریں مزاری نے سپریم کورٹ سے سوالات پوچھ لیے
سورس: File

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے سپریم کورٹ کی جانب دیکھ رہی ہے، یہ سابق وزیر اعظم کا حق ہے کہ وہ نصف شب کو عدالت کے کھولےجانے سےمتعلق سوال پوچھ سکے۔

ٹوئٹر پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں شیریں مزاری نے کہا کہ اگر اخباری نامہ نگار درست ہیں توجناب چیف جسٹس نے نہایت مناسب سوال اٹھایاہے کہ سیاسی تنازعات کافیصلہ عدالتِ عظمیٰ کو کیوں کرناچاہیے؟نہیں معلوم مکمل احترام کےباوجود بھی کہیں جواب توہین کی زد میں ہی نہ آجائےمگر جواب حاضرہے کہ عدالتِ عظمیٰ اپنی متنوع تاریخ میں یہ کام کرتی آئی ہے۔سپیکر کی نشست پر بیٹھ کر ڈپٹی سپیکر کی جاری کردہ رولنگ سےپارلیمان کی بالادستی جھلکتی تھی جسےعدمِ اعتماد کےمعاملےپر معزز سپریم کورٹ  نےاٹھا پھینکا،حتیٰ کہ معزز عدالت نےیہ تک طےکردیاکہ  قومی اسمبلی  کا اجلاس کب اورکس تاریخ کو طلب کیاجائے۔اب ہم  63 اے کی تشریح کیلئےمعزز عدالت کیجانب دیکھ رہےہیں۔

انہوں نے کہا کہ  ہم نہایت احترام سے معزز عدالت سے ملتمس ہیں کہ ہمارے سفیر کی جانب سے بھجوائے گئے سرکاری مراسلے میں درج حکومت کی تبدیلی کے دھمکی آمیز امریکی پیغام کا بھی جائزہ لے اور کمیشن قائم کرے۔ اس ضمن میں حوالے کیلئےمیمو گیٹ کی مثال بہرحال سپریم کورٹ کیلئے موجود ہے۔آخر میں تمام تر تکریم و عاجزی سے جناب چیف جسٹس صاحب یہ یقیناً ایک شہری خصوصاً جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم جسے تبدیلی اقتدار کی غیرملکی سازش کے ذریعے ہٹایا گیا، کا حق ہے کہ وہ کم از کم نصف شب کو عدالت کے کھولےجانے سےمتعلق سوال پوچھ سکے۔ظاہرہے یہ معمول سےہٹ کر ایک واقعہ ہے۔
 شیریں مزاری کا مزید کہنا تھا "جو کچھ میں نےعرض کیاوہ اگر توہینِ کےزمرےمیں آتا ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔حکومت میں موجودامپورٹڈ سیاسی جماعت جس نےعدالت پر یلغار کی،کےبرعکس میرا تعلق  پی ٹی آئی سےہےجس نےفراہمی  انصاف کےاعلیٰ ترین ادارے کےطور پرہمیشہ  سپریم کورٹ کا احترام ملحوظِ خاطررکھاہے۔ہم تو بہرحال تحریک انصاف ہی ہیں۔
 

مزید :

قومی -