"عمران خان اگر بزدار کو پنجاب میں نہ لگاتے تو ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہ آتی اور اگر آتی بھی تو کامیاب نہ ہوتی"ارشاد بھٹی کا تجزیہ

"عمران خان اگر بزدار کو پنجاب میں نہ لگاتے تو ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہ ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا کہ  پنجاب میں  اگر بزدار نہ ہوتا اور اس کی جگہ کوئی تگڑا وزیراعلیٰ  ہوتا ، ایک تو تحریک عدم اعتماد آتی ہی نہ اور اگر آ بھی جاتی تو کبھی کامیاب نہ ہوتی۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو بھی اقتدار میں آتا ہے  اور جب وہ حکومت  سے نکلتا ہے تو ان کو اپنی غلطیاں نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔کہ میں نے کیا کام کیا ہے اور کیا نہیں ؟میں نے ٹکٹیں غلط لوگوں کو دیں،ارے میں نے لوٹو ں کو نہیں لینا تھا،ارے میں اب اس پر اعتبار نہیں کروں گا اوراب اسے معاف نہیں کروں گا۔اگر اب اس کے ساتھ چلا گیا تو اللہ بھی مجھے معاف نہیں  کرے گا۔ارے وہ تو ہے ہی مودی کا  یار،فلاں فلاں۔ان کا کہنا تھا کہ جب ان کوپھر   اقتدار ملتا ہے تو وہیں سے بات شروع کرتے ہیں باپ وزیراعظم بیٹا وزیراعلیٰ اس کے بعد سمدھی بجٹ تیار کرے گااور بھائی کو ویلکم کیا جاتا ہے۔تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ عمران خان جب اقتدار میں تھےتو  ان کو نواز شریف کو باہر نہیں جانے دینا چاہیے تھا۔ان کو ڈالر پر فوکس کرنا چاہیے تھا۔ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے ہوم ورک نہیں کر کے آئے۔صحیح جگہ پر صحیح لوگوں کو نہیں لگایا گیا،کے پی کے میں محمود خان کی جگہ تگڑا بندہ جیسےکے پرویز خٹک کو وزیراعلیٰ بنایا جانا چاہیے تھا۔پنجاب میں  اگر بزدار نہ ہوتا اور اس کی جگہ کوئی تگڑا وزیراعلیٰ  ہوتا ، ایک تو تحریک عدم اعتماد آتی ہی ناں اور اگر آ بھی جاتی تو کبھی کامیاب نہ ہوتی۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی تیسری غلطی یہ تھی کہ وہ  احتساب اور ریفارمز نہیں کر سکے۔اس کے علاوہ وعدے دعوے نعرے پورے نہیں کر سکے۔

مزید :

قومی -