علی آباد پہنچ کر قطعاً پتہ نہیں چلتا کہ آپ ہنزہ میں ہیں۔ اس شہر کا کو ئی تاثر ہے نہ کو ئی خوبصورتی

علی آباد پہنچ کر قطعاً پتہ نہیں چلتا کہ آپ ہنزہ میں ہیں۔ اس شہر کا کو ئی تاثر ...
علی آباد پہنچ کر قطعاً پتہ نہیں چلتا کہ آپ ہنزہ میں ہیں۔ اس شہر کا کو ئی تاثر ہے نہ کو ئی خوبصورتی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف : عمران الحق چوہان 
قسط :51
علی آ باد کے بازار میں ہنزہ والی کو ئی بات نہیں ہے۔یہ ایک عام سا بازار ہے۔ فیصل آباد، منگو رہ، لا ہور یا ایسے ہی کسی بھی شہر کے مشا بہ۔ مسا فر کو اس میں اور دوسرے شہروں کے بازاروںمیں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔ علی آباد پہنچ کر آپ کو قطعاً پتہ نہیں چلتا کہ آپ ہنزہ میں ہیں۔ اس شہر کا کو ئی تا ثر ہے نہ اس میں کو ئی خوب صورتی۔ اکثر لو گ بھی ہنزہ کے روایتی لوگو ں کے بر عکس کھر درے، خشک اور سخت کاروباری ہیں۔ مجھے ایک دو بار یہاں رات رہنے کا تجربہ ہوا ہے۔ یہاں کے ہو ٹلوں والے مری کے ہوٹل مالکان کی طرح( گو اُن سے کم) باقاعدہ بد اخلاق ہیں۔ شاید یہ اس تجارتی ماحول کا نتیجہ ہے جس کا خمیر آ ہستہ آہستہ انسانوں اور ان کے ماحول کو محبت، اخلاق اور مہمان نوازی سے محروم کر کے محض پیسا کمانے کی بے حس، بے روح اور بد صورت مشین میں تبدیل کر دیتا ہے۔ راکا پو شی کاماورائی حسن بھی علی آباد کی سڑکوں پر شور مچاتی، دھواں اگلتی، آ تی جا تی ویگنوں، بسوں اور جیپوں کے پیش منظر میںمر جھایا ہو ا لگتا ہے۔ حسن اپنے اظہار کے لیے خاص پس منظر ہی نہیں خاص پیش منظر بھی چاہتا ہے۔
ویگن نے بازار میں کچھ دور چل کر ہمیں سڑک کنارے اتار دیا۔سڑک پر کا فی چہل پہل تھی۔ دائیں جانب ”بی بی انجیر گرلز ہا سٹل“ کی عمارت تھی۔ دھوپ تیزتھی۔ ہم نے اپنے بیگ سنبھال کر قریب ترین سا یہ ڈھونڈنے کےلئے اِدھر ُادھر دیکھا لیکن ایسی کوئی جگہ دکھائی نہیں دی۔
فیصلہ یہ تھا کہ پہلے پسُّو اور شمشال چلا جائے پھر واپسی پر کریم آباد آیا جائے کیوں کہ غالب امکان یہ تھا کہ اعظم کے دوستوں کو کریم آباد کی چہل پہل کے بعد پسو اور شمشال کا سکون پسند نہیں آئے گا۔ پسو کی ویگن کا اڈّا جو بلی ہو ٹل کے پاس تھا۔
 کافی دور چلنے کے بعد ہم جو بلی ہوٹل پہنچے اور سستا نے کےلئے ہو ٹل میں دا خل ہو گئے۔ یہ ایک سادہ سا روڈ سائیڈ ہوٹل تھا ۔ دھوپ کی چمک اور گرمی کے بعد نیم تاریک ماحول میں باہر کی نسبت کافی سکون تھا۔ دروازے کے ساتھ ہی دائیں ہاتھ کا و نٹر تھا، جس کے اوپر دیوار میں شیلف پررکھا ایک بڑا ٹی وی اونچی آواز میں بے معنی، نا گوار اور بے مقصدٹاک شو نشر کر رہاتھا۔ ان ٹاک شوز نے نا ظرین کے ذوق اور شعور کو بہت نقصان پہنچا یا ہے۔ہو تا یہ ہے کہ ایک مداری نما آدمی جو بزعمِ خود عقلِ کُل اور حکیم لقمان ہونے کےساتھ ساتھ قانون دان، معیشت دان، سائنس دان، کوتوال ، چیف جسٹس، فلسفی، جیمزبانڈ، شرلاک ہومز وغیرہ وغیرہ ہو تا ہے، تین چار بد تہذیب، بد اخلاق، غیر سنجیدہ اور چرب زبان سیا سی نمائندوں کے سا منے ایک غیر ضروری اور غیر اہم سوال کی گیند پھینک دیتا ہے۔جس پر اینکر کا اشارہ پاتے ہی شرکاءٹوٹ پڑتے ہیں۔ اب الزام تراشی، ڈھٹا ئی، بے شرمی اور گا لی گلوچ کا انتہائی قا بل ِ شرم مقا بلہ شروع ہو تا ہے۔ اس دوران میزبان اشتعال انگیزی کر کے ما حول کو ہیجان انگیز اور گرم رکھنے میں اپنا حصہ بھی مسلسل ڈالتا رہتاہے۔ ایک ڈیڑھ گھنٹا کی لڑائی کے بعد مسئلہ زیر ِبحث کی دھجیاں اڑ جا تی ہیں، سوال لِیر و لِیر ہو جاتا ہے اور مو ضوع تار تار ہو جاتا ہے لیکن کو ئی بھی با معنی تو کجا بے معنی نتیجہ بھی نکالے بغیرپروگرام کا وقت ختم ہو نے کا اعلان کردیا جاتا ہے۔ ہر بار، ہر روز اور ہر پروگرام میں یہی ہو تا ہے۔ جس پروگرام میں زیادہ بے ہودگی ہوتی ہے، جس میں مخالف کی پگڑی زیادہ اونچی اچھا لی جاتی ہے، اس کی ریٹنگ (rating) زیادہ ہو جاتی ہے۔ سنجیدگی اور تحمل سے دوسرے کی بات سننے کے بجائے شور مچانے، دشنام طرازی اور ڈھٹائی اختیار کر نے کو ذہانت اور ہوشیاری سمجھا جا نے لگا ہے۔ دلیل کی جگہ دہشت اور مکالمے کی جگہ وحشت نے لے لی ہے۔
ہو ٹل میں درجہ ءحرارت باہر سے کم تھا۔ نیم اجالے میں ٹی وی اور گاہکوں کی آوازیں اور بر تنوں کی کھنک تھی۔کا ونٹر کے پیچھے پرنس کریم آ غا خان کی ایک تصویر آویزاں تھی جس میں وہ کافی خوب صورت اور وجیہ دکھائی دے رہے تھے۔ چو بی میزوں پر لوگ آمنے سامنے بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔ ہم بھی دو میزوں پربیٹھ گئے۔ ایک طرف پانی کا بڑا ڈرم رکھا تھا جس میں سے بیرے نے سلور کے 2جگ بھر کر ہمارے سامنے رکھ دئیے۔ جگ میں وہی گدلا پانی تھا جو ہنزہ کے چشموں سے آتا ہے اور جسے ہنزہ واٹر کہتے ہیں۔ہم چاہتے تھے کہ پسو روانہ ہونے سے پہلے کچھ پیٹ پو جا کر لی جائے۔ کھانا اچھا تھا۔ بیرے نے کھانے کے اختتام پر زردے کی ایک ایسی پلیٹ اعظم کے سامنے رکھی جس کے اوپر چنوں کا سالن ڈلا ہوا تھا۔ 
”حا جی صاب! زردے پر چھولے؟“ ندیم نے اعتراض نما سوال کیا۔
©©”وہ در اصل مجھے شوگر ہے نا، اس لیے ۔“اعظم نے لطیف طبّی نکتہ بیان کیا۔ 
شوگر کے ہر مریض کی طرح اعظم نے بھی طبّی سائنس کے مقابلے میںاپنی ہی ایک شوگر سائنس ایجاد کر رکھی ہے ۔ جس کی مددسے کسی بھی وقت میٹھا کھانے کی گنجائش نکالی جا سکتا ہے۔ 
 کھا نے کے بعد چائے پی گئی جو اعظم نے شوگر کے سب مریضوں کی ترکیب پر عمل کرتے ہوئے پھیکی پی۔ اور ہم پھر باہر سڑک پر آ گئے۔ (جاری ہے )
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -