تجرباتی انسان بنیں، نئی نئی کتابیں پڑھیے، تھیٹر جایئے، نئے دوست بنائیں،کام پر جاتے ہوئے نیا راستہ استعمال کریں

تجرباتی انسان بنیں، نئی نئی کتابیں پڑھیے، تھیٹر جایئے، نئے دوست بنائیں،کام ...
تجرباتی انسان بنیں، نئی نئی کتابیں پڑھیے، تھیٹر جایئے، نئے دوست بنائیں،کام پر جاتے ہوئے نیا راستہ استعمال کریں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
قسط:44
یہاں ہم روایتی سوچ کے تدارک کیلئے 3 طریقے پیش کرتے ہیں:
-1نئے آئیڈیا کو خوش آمدید کہیں۔ یہ کام نہیں ہو سکتا، شاید نہ ہو سکے جیسے خیالات کو اپنے ذہن سے نکال دیں، ایسے خیالات غیرضروری او ر نقصان دہ ہوتے ہیں۔ میرے ایک دوست ہیں جو کہ ایک بیمہ کمپنی میں بہت ہی کامیاب ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اس بزنس کو کوئی زیادہ نہ جانتے تھے لیکن میں نے سوچا کہ میں اس کام کیلئے بہت موزوں ہوں۔ میں نے اس کام میں اپنے تمام آئیڈیاز کو استعمال کیا اور کامیاب رہا۔
-2ایک تجرباتی انسان بنیئے۔ روایات کو توڑ دیجیے۔ نئے نئے ریستورانوں میں جایئے، نئی نئی کتابیں پڑھیے، تھیٹر جایئے، نئے دوست بنائیں۔ کام پر جاتے ہوئے نیا راستہ استعمال کریں۔ اس سال نئے ملک کی سیر کیجیے۔
اپنے آپ کو نئی ذمے داریوں کےلئے تیار رکھیے۔
-3 ترقی پسند بنیے لیکن منفی سوچ نہ رکھیے۔ کسی کام کو کرنے کیلئے جائز طریقہ اپنایئے۔ پسماندگی کو دور کیجیے سوچ کو جوان رکھیے اگر آپ ساڑھے پانچ بجے جاگتے ہیں، دودھ لینے کیلئے یا اخبار وغیرہ اٹھانے کیلئے، تو اس کام کیلئے اپنے بچوں سے نہ کہیے بلکہ نوجوانوں کی طرح خود اپنا کام کیجیے۔
فورڈ موٹر کمپنی اگر کہے کہ وہ اس سال موٹروں میں کوئی جدت پیدا نہیں کرے گی تو تصور کریں اس کمپنی کا کیا حال ہو جائے گا؟
اس طرح تمام انجینئرنگ، ڈائیز وغیرہ کی سرگرمیاں معطل ہو کر رہ جائیں گی اور موٹر کمپنی تنزلی کا شکار ہو جائے گی۔
کامیاب لوگ اور کامیاب ہنرمند ہمیشہ نئے آئیڈیاز کی تلاش میں رہتے ہیں کہ وہ اپنے کام کے معیار کو مزید کیسے بہتر کر سکتے ہیں؟
کامیاب لوگ کبھی نہیں کہتے: کیا میں یہ کام بہتر طور پر کر سکوں گا؟ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ بہتر طور پر کام کر سکتے ہیں۔ وہ تو کہتے ہیں :دیکھو میں نے یہ کتنا اچھاکام کیا ہے!
میری ایک شاگرد نے چند ماہ پہلے اپنے چوتھے ہارڈویئر سٹور کا افتتاح کیا، اس نوجوان خاتون نے صرف 4 سال پہلے3500 ڈالرز سے اپنا کاروبار شروع کیا تھا جبکہ اس کا دوسروں لوگوں کے ساتھ بھی کافی مقابلہ تھا۔میں اس کے سٹور میں اس سے ملنے گیا اور اسے چوتھے سٹورکی مبارکباد دی نیز اس نے کاروبار میں جو غیرمعمولی ترقی کی تھی اس کی تعریف کی۔میں نے پوچھا کہ آپ نے اس کاروبار میں اتنی شاندار ترقی کیسے کر لی جبکہ عام لوگ تو صرف ایک ہی سٹور کو کامیاب بنانے میں بھی کامیاب نہیں ہوتے۔
اس نے جواب دیا، کہ میں نے بہت محنت کی ہے۔ میں صبح جلدی اٹھتی ہوں اور رات گئے تک کام کرتی ہوں۔ میرے ملازم بھی میرے ساتھ سخت محنت کرتے ہیں، لیکن جو میں اصل کام کرتی ہوں وہ یہ ہے کہ میں ہر ہفتے کو بہتری کیلئے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیتی ہوں اور اپنے آپ سے پوچھتی ہوں کہ کام کیسا ہو رہا ہے؟ یہ سوال نئی منصوبہ بندی میں میری مدد کرتا ہے اورمیں بہتر طور پر کام کرتی ہوں۔
میں ہفتہ کے دوران 4 باتوں کا خاص جائزہ لیتی ہوں، گاہکوں کا، ملازموں کا، سٹور پر مال سپلائی کرنے والے تاجروں کا اور ہفتے بھرمیں کیا بہتری ہوئی ہے۔ تو اس سے میں اندازہ کرتی ہوں کہ میں اپنے کاروبار کو مزید بہتر کیسے کر سکتی ہوں؟
میں ہر سوموار کی شام کو اپنے آئیڈیاز پر4 گھنٹے تک سوچتی ہوں اور اچھے آئیڈیاز کو اپنے کاروبار پر آزماتی ہوں۔
میں یہ نہیں چاہتی کہ میرے سٹور سے بہت زیادہ لوگ خریداری کریں بلکہ میں یہ دیکھتی ہوں کہ انہیں بہت زیادہ توجہ ملے۔ کیا میرے گاہک باقاعدہ میرے سٹور پر آتے ہیں؟
اس نے بتایا کہ وہ انہیں چیزوں کو اپنے 3 سٹوروں پر آزما چکی ہے اور کامیاب ہو چکی ہے۔ میں بار بار اپنے گاہکوں کو قائل کرتی ہوں، اس طرح میرے سٹور میں ہر آنے والے 3 گاہکوں میں سے 2 ایسے ہوتے ہیں جو کہ ہمارے سٹور سے خریداری کرتے ہیں جبکہ انہوں نے اس خریداری کی منصوبہ بندی پہلے سے نہیں کی ہوتی۔ اس لیے ہمارے سٹور پر مندے کے دنوں میں بھی بہت زیادہ سیل ہوتی ہے۔ اس کے باوجود میں اپنے آپ سے سوال کرتی ہوں کیا ہم بہتر کر رہے ہیں یا نہیں؟ اس سے مجھے نئے آئیڈیاز آتے ہیں۔
ایک واقعہ میں آپ کو بتاتی ہوں، چند ہفتے پہلے میں نے سوچا کہ اگر میں بچوں کی توجہ سٹور کی جانب کھینچ لوں تو ان کے والدین بھی یہاں ضرور آئیں گے۔ میں نے 4 سے8 سال کے بچوں کیلئے چھوٹے چھوٹے کھلونے رکھوا دیئے۔ میرا یہ آئیڈیا کامیاب رہا اور میں نے بہت پیسہ کمایا۔ ان کھلونوں کی وجہ سے سٹور میں بہت رش رہنے لگا۔
یقین کیجیے کہ میرا ہفتہ وار منصوبہ بہتری بہت کام کرتا ہے۔ ہر ہفتہ کوئی نہ کوئی خیال اور تکنیک اپنا کر ہم اپنے کام میں بہتری پیدا کرتے ہیں۔
میں نے کاروبار کے بارے میں کامیابی عام لوگوں کی طرح ہی حاصل کی، یعنی کہ میں نے کاروبار کر کے ہی سیکھا۔ کاروبار میں کامیابی انہی لوگوں کو ملتی ہے جو مسلسل اپنے معیار کو بلند کرتے رہتے ہیں اور جو لوگ بہتری کے راستے تلاش کرتے رہتے ہیں۔
جنرل الیکٹرک کمپنی کا سلوگن ہے: ترقی ہماری بہترین پیداوار ہے۔
آخر بہترین ا ور اہم پیداوار کیوں ہے؟ میں بہتری کا فلسفہ جادو کی طرح کام کرتا ہے۔ جب آپ اپنے آپ سے سوال کرتے ہیں کہ میں بہتری کیسے کر سکتا ہوں؟ تو آپ کی تخلیقی قوتیں حرکت میں آ جاتی ہیں اور بہتری کی تجاویز خودبخود آنے لگتی ہیں۔
ہر روز کام شروع کرنے سے پہلے10 منٹ تک سوچیں کہ آج میں کیسے بہتر کام کر سکتا ہوں؟ کیا آج میں اپنے ماتحتوں کا حوصلہ بڑھا سکتا ہوں؟ کیا آج میں اپنے گاہکوں کی کوئی خاص مدد کر سکتا ہوں؟ کیا میں اپنی ذاتی صلاحیت کو مزید بہتر کر سکتا ہوں؟
یہ سادہ سی مشق بہت اچھا کام کرتی ہے۔ اس مشق کو آزما کر دیکھیں یہ آپ کیلئے کامیابی کے بہت سے راستے کھول دے گی۔( جاری ہے )
نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم “ نے شائع کی ہے ( جُملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -