اس سال ہم بھی حج معاملات کی نگرانی کریں گے، اگر کسی نے ٹیکسی سے متعلق بھی شکایت کی تو آپ کی خیر نہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کی حج عمرہ سروسز فراہم کرنیوالی کمپینز کو تنبیہ

اس سال ہم بھی حج معاملات کی نگرانی کریں گے، اگر کسی نے ٹیکسی سے متعلق بھی ...
اس سال ہم بھی حج معاملات کی نگرانی کریں گے، اگر کسی نے ٹیکسی سے متعلق بھی شکایت کی تو آپ کی خیر نہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کی حج عمرہ سروسز فراہم کرنیوالی کمپینز کو تنبیہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جج عمرہ سروسز فراہم کرنیوالی نجی کمپنیزکی حج کوٹہ سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ نے تنبیہ کرتے ہوئے کہاکہ اس سال ہم بھی حج معاملات کی نگرانی کریں گے،اگر کسی نے ٹیکسی سے متعلق بھی شکایت کی تو آپ کی خیر نہیں ۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں جج عمرہ سروسز فراہم کرنیوالی نجی کمپنیزکی حج کوٹہ سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس ارباب طاہر نے نجی کمپنیز کی درخواستوں پر سماعت کی ،نجی کمپنیز کی حج کوٹہ کی درخواست پر وزارت مذہبی امور کا نمائندہ عدالت میں پیش ہوا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے حج پر جانیوالے تمام افراد کو مکمل سہولیات فراہم کرنے کا حکم حاجیوں کی معلومات کیلئے الرٹ مسیجز جاری کرنے اور مکمل گائیڈ لائن فراہمی کی ہدایت کی،جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہاکہ ہم یہ سارے کیسز التوا میں رکھ رہے ہیں،اگست کے پہلے ہفتے دوبارہ سماعت کرینگے۔

عدالت نے تنبیہ کرتے ہوئے کہاکہ اس سال ہم بھی حج معاملات کی نگرانی کریں گے،اگر کسی نے ٹیکسی سے متعلق بھی شکایت کی تو آپ کی خیر نہیں ،عدالت نے استفسار کیا کہ وزرا، سیکرٹری اور دیگر کیساتھ کتنے بندے حج پر جاتےہیں؟نمائندہ وزارت مذہبی امور نے جواب دیا کہ وزرا اور سیکرٹریز کیساتھ کوئی نہیں جاتا،عدالت نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ آپ حاجی ہیں ایسے مت کہیں، ہمیں معلوم ہے ہر سال ان کے ساتھ بندے جاتے ہیں،جانتے ہیں ہر سال ان کیساتھ بندے جاتے ہیں، ہم رپورٹ منگوا لیں گے۔

جسٹس ارباب طاہر نے کہاکہ آپ حاجی اور باریش ہیں، امید ہے سچ بولیں گے،ہر سال 5،5بندے سیکرٹریز اور وزرا اپنی طرف سے بھیجتے ہیں،عدالت نے کہاکہ ہم ایف آئی اے سے بھی ساری تفصیل منگوا لیں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ پیرامیڈیکس سٹاف میں کس کس کو بھیجتے ہیں؟جسٹس ارباب طاہر نے کہاکہ آپ جھوٹ نہ بولیے گا وہ آپ کے گلے فٹ ہو جائے گا، ہم سارا فرانزک کروائیں گے، کتنا کوٹہ دیا گیا ہے،5،5افراد ان کیساتھ جاتے ہیں، ہم ایف آئی اے سے چیک کرائیں گے،اس سال حج میں وزارت کی کارکردگی دیکھیں گے پھر ان کیسز کا فیصلہ کریں گے،ایک بھی شکایت آئی تو پھر نہیں چھوڑیں گے، آپ نے لوگوں کو بہت تنگ کیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہاکہ اگر ایک بھی شکایت آئی تو لائسنس منسوخ ہونگے،وزارت مذہبی امور نے کہاکہ ہر حاجی کو بتا دیا جاتا ہے کہ اس کی بکنگ کس کمپنی سے ہوئی،عدالت نے استفسار کیا کہ میسج میں کیا لکھا ہوتا ہے کہ شکایت کی صورت میں کس سے اور کیسے رابطہ کریں؟وزارت مذہبی امور کے حکام نے جواب میں کہا کہ جی! رابطہ کرنے سے متعلق نہیں لکھا ہوتا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماعت اگست کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔