قومی وحدت پر "چاند کے ڈرون حملے"میں پاکستان کے تین "ٹکڑے"ہوگئے

قومی وحدت پر "چاند کے ڈرون حملے"میں پاکستان کے تین "ٹکڑے"ہوگئے
قومی وحدت پر

  

لاہور ( نواز طاہر ) رویتِ ہلال کمیٹی ،شرعی شہادتوں اور مشینی اختلاف نے ملک میں تین عیدیں منانے سے جغرافیائی اور وفاقی وحدت پر کئی سوالیہ نشان لگادیے ہیں۔ عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ کیا چاند کا مسئلہ بھی انتہاءپسندی ہے یا علیحدگی پسندی یاپھر کسی معاملے میں محض’ میں نہ مانوں‘ کا معاملہ اور ہٹ دھرمی ہے۔ جدید سائنسی علوم و آلات سے انکار ممکن نہیں تو شرعی شہادت کو جھٹلانا بھی ممکن نہیں ۔ سائنسی علوم اور آلات کے مطابق ملک بھر میں چاند کسی جگہ نظر نہیں آیا پھر خیبر پختونخواہ میں اتنے لوگوں نے چاند کیسے دیکھ لیاجبکہ ماہرینِ فلکیات کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ جنوبی ایشیا ءمیں شوال کا چاند کسی ملک میں نظر نہیں آیا (سب سے بڑا مسلم ملک انڈونیشیا میں بھی اتوار کو عید منا رہا ہے )کیونکہ تیس گھنٹے کی عمر کے چاند کی عمر تیس گھنٹے کے بجائے پچیس گھنٹے تھی جو کل رات پونے نو بجے طلوع ہوا۔ چاند دیکھنے والوں میں ایک مذہبی سیاسی جماعت کے اہم اور ذمہ دار عہدیدار مولانا عبدالجلیل بھی شامل ہیں اور اُنہوں نے علماءکے پاس جا کر چاند نظر آنے کی شہادت بھی دی۔

شہری یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ خیبر پختونخواہ کی زونل رویت ہلال کمیٹی کو موصول ہونے والی شہادتوں پر اعتبار اور کمیٹی کے فیصلے کا انتظار کیوں نہ کیا گیا ؟ کیا مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی طے شدہ فیصلے کے ساتھ’ محض آئی واش ‘ کے طور پر اجلاس کی ’رسم ‘ پوری کر رہی تھی ۔ اس ضمن میں خیبر پختونخواہ حکومت کا یہ گلہ بھی کیسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے کہ مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی صوبہ خیبر پختونخواہ کی شہادتوں کو اہمیت نہیں دیتی۔ شہریوں کا یہ سوال انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اگر جغرافیائی اعتبار سے اس علاقے میں چاند ملک کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں خیبر پختونخواہ میں پہلے نظر آجا تا ہے تو اسے تسلیم کرنے میں کیا ہرج ہے اور مرکزی رویتی ہلال کمیٹی کے اجلاس ان علاقوں میں کیوں نہیں ہو سکتے جہاں چاند پہلے نظر آجاتا ہے جبکہ یہ علاقے اسی ملک کا حصہ ہیں؟ پاکستان میں تین عیدوں نے نہ صرف قوم کو تقسیم کردیا ہے بلکہ ملک گیر مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علماءاسلام (جے یو آئی ) میں بھی دراڑیں ڈال دی ہیں جس جماعت کے سیکرٹری اطلاعت مولانا عبدالجلیل نے چاند نظر آنے کی شہادت دی لیکن ان کی جماعت کے امیر مولانا فضل الرحمان نے پیر کو سرکاری اعلان کے مطابق عید منانے کا اعلان کیا ہے۔ فاٹا اور خیبر پختونخواہ کے ساتھ ساتھ صوبہ بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ ، چمن اور ملحقہ علاقوں میں بھی اتوار کو عید منانے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ اتوار کو عید منانے والے صوبہ خیبر پختونخواہ میں الگ صوبہ ہزارہ بنانے کی تحریک چلانے والے بابا حیدر زمان نے بھی صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کے فیصلے سے’ بغاوت‘ کرتے ہوئے ایبٹ آباد اور ہزارہ میں اتوار کے بجائے پیر کو عید منانے کا اعلان کیا ہے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی منیب الرحمان میڈیا پر واضح جواب دینے کے بجائے محض آئیں بائیں شائیں کیوں کر رہے ہیں ۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا صرف رمضان ، شوال اور ذیقعد کا چاند ہی فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں پہلے نظر کیوں آتا ہے ؟ باقی مہنیوں کے چاند دیکھنا مناسب خیال نہیں کیا جاتا یا پھر یہ جان بوجھ کر باقی مہنیوں کے چاند کے بارے میں مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے فیصلے مان لئے جائیں لیکن ان تین مہنوں کے بارے میں جان بوجھ کر ’شہادتی اختلاف ‘کیا جاتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ان تمام علاقوں میں رہنے والوں پربالواسطہ افغانستان اوربلا واسطہ بھارت کا گہرا اثر ہے ۔۔۔تو کیا یہ بھی ’بیرونی ‘ سازش ہے ؟

مزید : قومی