جھنجھلاہٹ

جھنجھلاہٹ
 جھنجھلاہٹ

  

سیاست، عبادت کے ساتھ ساتھ تحمل، برداشت، برد باری، تدبر اور حوصلے کا بھی نام ہے، جس کا اظہار میاں محمد نواز شریف جیسے سیاسی قائدین کے کردار اور رویے سے ہوتا ہے۔ پرویز مشرف نے جمہوری حکومت پر شب خون مارا۔ اس کی آمریت کے پہلے روز سے شریف خاندان پر مصائب اور آلام کے پہاڑ ٹوٹنے لگے۔ پھر قید و بند اور جلاو طنی کا سلسلہ کئی سال پر محیط رہا۔ شریف فیملی کو جس نے انتہائی اذیت پہنچائی ،وہ شخص پرویز مشرف ہی تھا۔ اس نے جلا وطنی میں انتقال کرنے پر باپ کی میت کے ساتھ بیٹوں کو پاکستان آنے کی اجازت بھی نہ دی۔ اب پرویز مشرف کو خود ساختہ جلاوطنی کا سامنا ہے۔ مجھے نہیں یاد! کہ میاں نواز شریف نے پرویز مشرف کو بُرے نام یا تضحیک زدہ لہجے میں کبھی پکارا ہو۔ جب بھی اس کا نام لینے کی ضرورت محسوس ہوئی، مشرف صاحب ہی کہا۔

آج عمران خان اور اُن کی سیاست کو مرکزی حکمرانوں کی کرپشن، بدنظمی اور اُن کی نااہلی سے برپا ہونے والی جان لیوا لوڈشیڈنگ، مہنگائی اور بے روز گاری کے باعث پَر لگ گئے ہیں، تو وہ کسی کو خاطر میں نہیں لا رہے۔ گردن میں سریا، چال میں اکڑ اور باتوں میں تکبر نمایاںہے۔ البتہ اس کا کسی کی ذات پر کوئی مثبت اور منفی نہیں پڑتا۔ تاہم جب سے ان کو عوام میں مقبولیت کا زعم ہوا ہے، وہ سیاسی مخالفوں پر بالعموم اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر بالخصوص الزام لگائے چلے جا رہے ہیں۔ اپنی دانست میں وہ ان کی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ عمران خان جس تواتر سے مخالفین پر جائز ناجائز چڑھائی کرتے ہیں، تو جواب آنے پرانہیں حوصلے اور برداشت کا مظاہرہ بھی کرنا چاہئے۔ خان صاحب کا ایک بال پر دو وکٹیں گرانے کا دیرینہ مو¿قف ہے، وہ کرکٹ کے کپتان رہے۔ ان سے زیادہ اس حقیقت سے کون واقف ہو گا کہ تکنیکی طور پر ایک بال پر دو وکٹیں نہیں گر سکتیں، یہ غیر حقیقی منطق ہے۔ اسی طرح کے اُن کی ہتھیلی پر سرسوں جمانے والے دیگر دعوے بھی غیر حقیقی اور غیر منطقی ہیں۔

 ایک صبر آزما انتظار اور خان صاحب کی طرف سے لغو اور بے بنیاد الزامات کی تکرار کے بعد خواجہ محمد آصف اور چودھری نثار علی خان نے ابھی ایک ہی وکٹ گرائی ہے کہ عمران خان کے اوسان خطا ہو گئے اور وہ طوفان خان بن گئے۔ اُن کی خواجہ آصف اور چودھری نثار علی خان کے حقائق کے جواب میں کی گئی پریس کانفرنس تضادات کا مجموعہ تھی۔ اس دوران عمران خان شدید غصے میں آپے سے باہر ہوتے رہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں نے جو حقائق بیان کئے، وہ اُن کا کوئی تسلی بخش جواب تو نہ دے سکے، البتہ طعن و تشنیع کے تیر ضرور برساتے رہے۔ میاں برادران کے لئے اُن کا جو عمومی طرز تخاطب ہے، وہ کسی مہذب شخصیت کے شایان شان نہیں ہو سکتا۔ وہ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا کبھی میاں نواز شریف نے بھی اُن کو ایسے لہجے میں مخاطب کیا ہے؟ یہی فرق ہے باوقار اور بازاری لیڈر شپ میں۔ ایک ٹی وی پروگرام میں شوکت خانم ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو فیصل سلطان کے ساتھ خواجہ آصف موجود تھے۔ دونوں ایک دوسرے کے احترام کا اظہار کرتے رہے۔ خواجہ آصف نے شوکت خانم کے لئے اپنی خدمات تک پیش کیں۔ البتہ عمران خان کی سیاست اور پاکستانیوں کی زکوٰة کے غلط استعمال پر ضرور بات کی.... اسی کو تہذیب یافتہ اور سلجھا ہوا رویہ کہا جاتا ہے۔

عمران خان، خواجہ آصف اور چودھری نثار علی خان کے حقائق کا جواب دیتے ہوئے جھنجھلاہٹ کا شکار اور باقاعدہ پریشان تھے۔ اُن کی پیشانی پر غصے اور جذبات کی رو میں بہہ جانے سے بل پڑ رہے تھے۔ عمران خان نے حسب معمول، مسلم لیگ(ن) کی قیادت پر ایک بار پھر کرپشن کے الزامات کی بھرمار کی اور اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا بڑی ڈھٹائی سے انکار کیا۔ یہ کوئی مردوں والی بات نہیں! آپ اپنے اوپر لگنے والے الزامات کو بے بنیاد اور فریق ثانی پر لگائے گئے الزامات کو درست سمجھتے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مشاہد اللہ خان اور خواجہ محمد آصف نے عمران خان کو بڑا معقول مشورہ دیا اور اُن کی یہ بات آب زر سے لکھنے کے قابل ہے کہ عمران خان شوکت خانم کے زکوٰة فنڈ میںمالی بے ضابطگیوں سمیت دوسرے الزامات کے خلاف عدالت میں جائیں، لیکن پرویز مشرف کے پولنگ ایجنٹ میںاتنی جرا¿ت کہاں؟ خان صاحب کو آزاد عدلیہ پر پورا اعتماد بھی ہے۔ وہاں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ عمران خان اپنی ذات کے اندر سونامی خان بھی ہیں۔ اُن کو اپنے رویے پر بھی غور کرنا چاہئے۔

 میاں نواز شریف نے وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے شوکت خانم ہسپتال کے لئے اراضی عطیہ کی تھی۔ شوکت خانم ہسپتال جو عوام کے پیسے سے بنا اور شریف خاندان بھی شوکت خانم ہسپتال کی مالی اعانت کرتا رہا۔ 1996ء میں عمران خان نے اپنی سیاسی جماعت ”تحریک انصاف“ کا سنگ بنیاد رکھا، تو میاں نواز شریف کی شوکت خانم ہسپتال کی سنگ بنیاد والی تختی اکھاڑ پھینکی۔ کیا اس طرح حقائق پر مٹی ڈالی جا سکتی ہے؟ گنگارام، گلاب دیوی اور میو ہسپتال جیسے ادارے غیر مسلم مخیر حضرات نے بنائے، لیکن اُن کے ناموں کی تختیاں آج بھی بدستور وہاں موجود ہیں۔ خان صاحب! سیاست میں حوصلہ، تحمل، برداشت اور بردباری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اشتعال اور لغویات خود آپ کی اپنی شخصیت کو داغدار کرتی ہیں، لہٰذا سیاست دان بننے کے لئے بڑے حوصلے کی ضرورت ہے۔ وہ خصوصیات اپنے اندر پیدا کیجئے۔ بے بنیاد اور بڑے الزامات کسی کو بڑا لیڈر نہیں بنا سکتے۔ ایک بال سے دو وکٹیں گرانے کا دعویٰ ہے، تو دو بالوں سے ایک وکٹ گرنے سے اتنی جھنجھلاہٹ کیوں؟

مزید : کالم