غیر ملکی افطاری اور چودھری پرویز ا لٰہی کی باتیں

غیر ملکی افطاری اور چودھری پرویز ا لٰہی کی باتیں
غیر ملکی افطاری اور چودھری پرویز ا لٰہی کی باتیں

  

لاہور میں ایک غیر ملکی قونصل خانے کی طرف سے صحافیوں کے لئے افطاری کا اہتمام کیاگیا۔ رائل پام کے پُرسکون گوشے میں ہونے والی افطاری کی اس تقریب میں صحافت کے کئی سینئر اور معتبر قلم کاروں نے شرکت کی ۔ سرخ شربت کے گلاسوں کے اردگرد صحافی ٹولیوں کی شکل میں براجمان تھے۔صحافی اکٹھے ہوں اور سیاسی موشگافیاں نہ ہوں، شگفتہ جملے نہ کسے جائیں، یہ تو ممکن ہی نہیں۔ میرے دوست علی نواز شاہ کہتے ہیں کہ روزہ نہ بھی رکھا ہو،لیکن افطاری سے پہلے بندہ تھوڑی تھوڑی سچی باتیں کرنے لگتا ہے۔افطاری سے چند منٹ پہلے کی یہی باتیں مجھے صحافیوں کے دل کی آواز لگیں ۔ موجودہ پنجاب حکومت کی کارکردگی کا ذکر ہوا توصحافی برادری نے خادم اعلیٰ کی کارکردگی پر انتہائی مایوسی کا اظہار کیا اور جو باتیں کیں ، مَیں انہیں کالم کا حصہ نہیں بنانا چاہتا۔ تقریب میں چار پانچ صحافیوں کے ایک ٹولے میں سہیل وڑائچ بھی کھڑے تھے اور بات ہورہی تھی چودھری پرویزالٰہی کی ، بلکہ چودھری صاحب کے ان کاموں کی ، جن کی آج ان کے دوست اور مخالف سبھی کھلے دل سے تعریف کرتے ہیں۔

ایک صحافی نے کہاکہ پنجاب کی تاریخ میں عوام کی فلاح وبہبود کے لئے جتنے کام چودھری صاحب نے کئے، ان کی مثال نہیں ملتی۔ کسی مصیبت میں مدد کے لئے ریسکیو1122کی امدادی ٹیمیں جب شہر کی سڑکوں پر دوڑتی ہیں تو لگتا ہے کہ چودھری پرویزالٰہی مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہے۔ کہیں آگ لگ جائے، فائر فائیٹر کے جب ہوٹر بجتے ہیں اور دہکتی آگ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے پڑتے ہیں تو لگتا ہے کہ چودھری پرویز الٰہی دھوپ میں سایہ بن کر آگئے ہیں۔ شہر کے کونے کونے میں نوجوان اور پڑھے لکھے وارڈن بکھری ہوئی ٹریفک کو ترتیب دے رہے ہیں، رکی ہوئی گاڑیوں کو راستہ بتا رہے ہیں، قانون توڑنے والوں کو قانون کے دائرے میں لارہے ہیں، تو چودھری پرویز الٰہی کی عوامی سوچ پر قانون کی پاسداری اور نظم وضبط کا عکس نظر آتا ہے۔سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی میں جب زخمیوں اور بیماروں کو مفت طبی امدادملتی ہے تو لواحقین کے ہاتھ چودھری پرویز الٰہی کے لئے دعا بن جاتے ہیں۔

افطار پارٹی کے دوسرے کونے میں جانے کا اتفاق ہوا تو حیرانی ہوئی کہ یہاں بیٹھے ہوئے صحافی بھی چودھری پرویزالٰہی کے دورحکومت کی یادیں تازہ کررہے تھے۔آج صوبے میں لاءاینڈ آرڈر کی جو صورت حال ہے، جہاں اس پر صحافی فکر مند تھے، وہاں وہ چودھری صاحب کے دور میں قائم کی گئی پٹرولنگ پوسٹوں کو یاد کررہے تھے، جنہوں نے دور دراز دیہی علاقوں اور بڑی بڑی شاہراہوں پر جرائم کی روک تھام کے لئے مستعدی سے کردار ادا کیا۔لیپ ٹاپ کی تقسیم کے حوالے سے صحافیوں نے جن خدشات کا اظہار کیا، اسے ہم پھر حذف کردیتے ہیں، لیکن چودھری پرویز الٰہی کے دور میں غریب سکولوں کے بچوں میں جس طرح مفت کتابیں تقسیم کی گئیں اور غریب اور مستحق طلباءاور طالبات کو وظائف دیئے گئے، سرکاری سکولوں کی ا َپ گریڈیشن اور تزئین و آرائش کے لئے جو خطیر فنڈز دیئے گئے، صحافیوں نے ان کا خاص طورپر ذکر کیا۔ تعلیم کو عام کرنے کے لئے چودھری پرویز الٰہی نے ایک عالمی ادارے کے تعاون سے دیہی علاقوں کے سکولوں کی بچیوں کو سکول میں حاضری پر جو مراعات دیں، اس سے سکولوں میں طالبات کی تعداد غیر معمولی حد تک بڑھ گئی۔

صحافیوں کی یہ بات مجھے اچھی لگی کہ چودھری صاحب نے جو بھی منصوبہ شروع کیا، اس میں ان کے احساسات اور ذاتی تجربہ شامل تھا ، یہی وجہ ہے کہ ایسے منصوبوں کے فوائد حقیقی معنوں میں عام آدمی تک پہنچے۔اساتذہ کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ چودھری صاحب کا ایک غیر معمولی اچھا کام تھا، جس سے اساتذہ کو نہ صرف مالی فائدہ ملا، بلکہ انہیں معاشرے میں وہ مقام بھی ملا جس کے وہ مستحق تھے۔ صحافیوں نے خادم اعلیٰ کے سرکاری افسروں کے ساتھ جس آمرانہ سلوک کا ذکر کیا، کالم میں ہم اس کو شامل نہیں کرتے، تاہم مَیں صحافیوں کی اس بات کو ضرور لکھوں گا جس میں انہوں نے چودھری پرویز الٰہی کی سرکاری افسروں کے ساتھ عزت سے پیش آنے اور ان سے عوام کی خدمت کرانے کی حکمت عملی کو سراہا گیا۔ایک صحافی نے واقعہ سنایا کہ وہ ایک سرکاری افسر کے پاس چودھری پرویز الٰہی کی طرف سے کسی کام کے سلسلے میں رقعہ لے کر گئے، جب وہ اس افسر سے ملے اور رقعہ پیش کیا تو اس افسر نے کہاکہ کام تو ہوجائے گا، لیکن میں یہ اس لئے نہیں کررہا کہ یہ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہاہے، بلکہ مجھے یہ خوشی ہے کہ یہ کام چودھری پرویز الٰہی صاحب نے کہاہے ۔یہ وہ محبت اور عقیدت ہے جو سرکاری افسروں کے دلوں میں چودھری صاحب کے لئے تھی۔ چودھری صاحب افسروں کی عزت کرتے اور ان سے کام لیتے۔یہ تھی لیڈر شپ، جس میں تکبر نہیں ،عاجزی تھی۔ وہ جس سے ملتے، اتنے باوقار انداز میں ملتے کہ ملنے والا سرکاری حیثیت سے بڑھ کر دل سے ان کی عزت کرنے لگتا۔

تقریب میں چودھری صاحب کے حوالے سے باتیں جاری تھیں کہ افطاری کا وقت ہوگیا۔۔۔افطاری کے وقت مَیں سوچ رہا تھا کہ چودھری صاحب کتنے خوش نصیب ہیں کہ وہ اس تقریب میں موجود نہیں، لیکن باتیں ان کی ہورہی ہیں اور جو بھی ذکر ہورہا ہے، ان کی کامیابیوں کا اور صحافیوں کی باتیں سن کر غیر ملکی بھی یہ بات سوچ رہے تھے کہ شاید پرویز الٰہی ابھی تک پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں۔ تقریب سے واپسی پر مَیں نے گاڑی میں بیٹھے اپنے ساتھی رپورٹر نواز اعوان سے پوچھا ۔۔۔ یار یہ بتاو¿ آج کی تقریب میں جو ایک انگریز قونصل خانے کی طرف سے تھیں، اس میں سارا وقت چودھری پرویزالٰہی کا ذکر ہوتا رہا۔۔۔نواز اعوان کی یہ بات میرے دل کو لگی کہ سرجی لوگ صحیح کہتے ہیں، بندے کی یادیں اس کے کاموں میں ہوتی ہیں۔ اگر آپ نے اچھے کام کئے ہیں تو وہ خود بخود بولتے ہیں ۔رائل پام سے ٹرن لے کر گاڑیوں کے رش میں جب ہم مال روڈ کے سامنے سیون کلب سے گزرے تو مجھے اس بات کا یقین ہوگیا کہ چودھری پرویز الٰہی سے کسی کو لاکھ اختلاف ہو ۔۔۔صوبہ پنجاب کی تاریخ میں انہوں نے اتنے اچھے کام کردیئے ہیں جو ہر وقت بولتے رہیں گے۔۔۔ اور محفل کوئی بھی ہو، سیاسی یا غیر سیاسی، عوام کی خدمت کا ذکر ہوگا تو چودھری پرویز الٰہی کے عوامی کاموں کو زبان ضرور ملے گی۔

مزید : کالم