پولٹری انڈسٹری تباہی کے دہانے پر

پولٹری انڈسٹری تباہی کے دہانے پر
پولٹری انڈسٹری تباہی کے دہانے پر

  

پاکستان میںموجودہ مہنگائی نے عوام کا جینا محال کردیا ہے اور آئے روز اشیائے خور دونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، حالانکہ دنیا بھر میں اشیائے خور و نوش کی قیمتیں ہمیشہ کم و بیش ایک ہی سطح پر رہتی ہیں۔ اب تو خاص طور پر ، جبکہ دنیا ایک گلوبل ویلیج کی صورت اختیار کرچکی ہے، ڈبلیو ٹی او پر دستخط کرنے کے بعد ہر ملک دوسرے ملک کے ذرائع پر اتنا اختیار رکھنے کے قابل ہوگیا ہے، جتنا کہ وہاں کے مقامی لوگوں کو اختیار حاصل ہے۔دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جو چیز جہاں پیدا ہورہی ہے ،وہ اس جگہ پہنچ جاتی ہے ،جہاں اس کو صحیح قیمت ملتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کسی ملک کی اشیاءزیادہ قیمتیں ملنے کی وجہ سے دوسرے ملک میں پہنچ جاتی ہیں تو پہلے والے ملک میں ان کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جس سے بچنے کا صرف ایک ہی طریقہ باقی رہ گیا ہے کہ ہر ملک اپنے عوام کی قوت خرید میں اضافہ کرے، یعنی پوری دنیا میں کم از کم اجرت اتنی ہونی چاہیے کہ ہر شخص کم از کم اپنی خوراک خریدنے کی استطاعت رکھتا ہو۔

دنیا کے امیر ممالک کو اس میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا ،ورنہ دہشت گردی کی وباءسے کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ پاکستان کو دیکھیں، یہاں پچھلے دس سال میں حکومت کی کوششیں کیا نتائج لائی ہیں؟حکومت کی ساری کوششیں گندم کی پیداوار بڑھانے اور اس کی قیمت کو کنٹرول کرنے پر صرف ہوتی ہیں۔ حکومت ہمیشہ بکرے کے گوشت اور گائے کے گوشت کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں مصروف رہی ہے، مگر انڈے اور مرغی کی قیمتوں کو فری مارکیٹ مکینزم پر چھوڑے رکھا ہے۔ اس میں ہائیکورٹ نے بھی اپنا کردار ادا کیا اور حکومت کو پولٹری مصنوعات کی قیمتوں میں مداخلت کرنے سے باز رکھا۔ ان ساری چیزوں کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے تو ایک ہی چیز واضح ہوتی ہے کہ حکومت کا پولٹری کی قیمتوں میں مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ ہی ایک درست فیصلہ تھا جو اکنامک سروے آف پاکستان کے کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔

سال 2000-2001ءمیں گندم کی قیمت 8.67روپے فی کلوگرام ، گائے کے گوشت کی قیمت 56.01روپے فی کلوگرام، مٹن کی قیمت 109.38روپے فی کلوگرام اور چکن کی قیمت 50.65روپے فی کلوگرام تھی، جبکہ 2008-09ءمیں گندم کی قیمت 23.85روپے فی کلوگرام، گائے کے گوشت کی قیمت 141.59روپے فی کلوگرام، بکرے کے گوشت کی قیمت 258.36روپے فی کلوگرام، جبکہ مرغی کے گوشت کی قیمت 103روپے فی کلوگرام ہوگئی۔ اس طرح اس عرصے کے دوران گندم کی قیمت میں 175فیصد، گائے کے گوشت کی قیمت میں 152.7فیصداضافہ، بکرے کے گوشت کی قیمت میں 136فیصد،جبکہ چکن کی قیمت میں 103فیصداضافہ ہوا۔ اسی طرح ایک سال کی بات کریں تو جولائی 2011ءمیں گندم کی قیمت 25.4روپے فی کلوگرام، گائے کے گوشت کی قیمت 233.7روپے فی کلوگرام، بکرے کے گوشت کی قیمت 451روپے فی کلوگرام، چکن کی قیمت 160.8روپے فی کلوگرام، جبکہ انڈوں کی قیمت 79روپے فی درجن تھی۔

اپریل 2012ءمیں گندم کی قیمت 7.9فیصداضافے کے ساتھ 27.4روپے فی کلوگرام، بڑے گوشت کی قیمت 11.7فیصداضافے کے ساتھ 261روپے فی کلوگرام، مٹن کی قیمت 10.8فیصداضافے کے ساتھ 499.9روپے فی کلوگرام، چکن کی قیمت 3.5فیصدکے معمولی اضافے کے بعد 166.5روپے فی کلوگرام اور انڈوں کی قیمت 8.4فیصدکمی کے بعد 72.4روپے فی درجن ہوگئی۔ ان اعداد و شمار کے مطابق سب سے کم اضافہ پولٹری مصنوعات کی قیمتوں میں ہوا ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ تمام اشیاءکی قیمتوں کی پالیسی بناتے وقت پولٹری کی قیمتوں کے طریقہ کار کو رول ماڈل بنائے تاکہ عوام کو بہتر ریلیف مل سکے اور اپنی انتظامیہ کے اہلکاروں کو پولٹری کی قیمتوں کے مکینزم میں مداخلت سے باز رہنے کی تلقین کردے تاکہ اس کا بھی انجام گندم اور دوسری چیزوں جیسا ہونے سے بچایا جاسکے۔

گائے کے گوشت اور بکرے کے گوشت کی کھپت میں اضافہ ہی اس کی قیمتوں میں اضافے کا سبب ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر گوشت کی فروخت میں ناغہ دو دن کے بجائے تین کردے اور اس پر سختی سے عمل درآمد بھی کروائے۔ اس طرح گوشت کی قیمتوں میں اضافے پر کنٹرول ہوسکے گا۔ پولٹری مصنوعا ت کی قیمتوں میں کمی ایک انتہائی خطرناک اشارے کی طرف ہم سب کی توجہ مبذول کروارہی ہے۔ پیداواری لاگت تمام دوسری چیزوں کی طرح مستقل بڑھ رہی ہے، مگر قیمت فروخت مستقل طور پر کم ہورہی ہے۔ اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق پچھلے دس سال میں گندم کی قیمت میں سب سے زیادہ یعنی 175فیصداضافہ ہوا ہے حالانکہ حکومت کی ساری توجہ گندم زیادہ پیدا کرنے اور اس کی قیمت کو کنٹرول کرنے پر مبذول رہی ہے۔ گائے کے گوشت کی قیمت میں 153فیصد، جبکہ بکرے کے گوشت کی قیمت میں 136فیصداضافہ ہواہے۔ دونوں چیزوں کی قیمت پر حکومت نے کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے، مگر بڑھتے ہوئے افراط زر کی وجہ سے ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا گیا۔

افراط زر تو سب پر ایک ہی طرح اثر انداز ہوا، مگر پولٹری مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ سب سے کم ہوا، یعنی صرف 103فیصد۔ اب اس سال یعنی 2011-12ءکی قیمتوں کا جائزہ لیں تو ظاہر ہوتا ہے کہ ایک سال میں گندم کی قیمت میں 8فیصداضافہ ہوا ہے۔ گائے کے گوشت کی قیمت میں 11.7فیصد اضافہ ہوا ہے، بکرے کے گوشت کی قیمت میں 11فیصد اضافہ ہوا ہے ،جبکہ انڈوں میں قیمت میں 8.4فیصدکمی واقع ہوئی ہے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک صورت حال ہے۔ پولٹری فارمر نقصان کررہا ہے، کیونکہ اس کی پیداواری لاگت میں دوسری انڈسٹری کی نسبت بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، مگر اس کی پیداوار کی قیمت فروخت میں کمی یا لاگت کے حساب سے اضافہ نہیں ہوا۔ ابھی امریکہ اور برازیل کی مکئی اور سویا بین کی فصل کی تباہی کی وجہ سے پیداواری لاگت میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے اور مزید اضافہ ہونے کا خطرہ سروں پر منڈلا رہا ہے۔ چونکہ اس کی قیمت فروخت کا تعین صرف اور صرف طلب و رسد کے تحت ہوتا ہے، فارمر کے کنٹرول میں بالکل نہیں ہوتا ، اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو یہاں مرغی اور انڈے کی پیداوار کا عمل رک جائے گا اور لوگوں کو پروٹین کا بہترین ذریعہ حاصل نہیں رہے گا جو کہ حکومت اور عوام دونوں کے لئے ایک بہت بڑا لمحہءفکریہ ہے۔

حکومت انتظامیہ کے اہلکاروں کو سمجھائے کہ اس پراڈکٹ کے مارکیٹ کے عمل میں مداخلت سے باز رہیں۔ یہی عوام کے لئے بہتر ہے اور حکومت کے لئے بھی۔ ہماری انتظامیہ بھی امریکہ کی طرح ڈو مور کی رٹ میں ایک سستے پروٹین کے ذریعے کو تباہ کرنے کی سازش نہ کرے۔ہمیشہ پولٹری والوں کو ہی مزید کم قیمت پر مرغی اور انڈا فروخت کرنے کے لئے پریشر بڑھاتے رہتے ہیں ،جیسا کہ یکم رمضان کو جو قیمت مرغی کی تھی، یعنی 182روپے فی کلوگرام بک رہی تھی۔ پولٹری ایسوسی ایشن کو مجبور کیا کہ پندرہ روپے سبسڈی دی جائے ،حالانکہ سبسڈی دینا تو ایسوسی ایشن کا کام نہیں، یہ تو حکومت کا کام ہے، مگر حکومت کے اصرار پر ایسوسی ایشن کے ممبران نے چندہ اکٹھا کرکے رمضان بازاروں میں پندرہ روپے کلو کم پر مرغی بیچی، پھر مرغی 145روپے کلو ہوگئی تو پھر بھی انتظامیہ کا اصرار تھا کہ اس سے بھی پندرہ روپے کلو کم پر مرغی بیچی جائے۔ اوپر دئیے گئے اعداد و شمار سے انتظامیہ کو سمجھ لینا چاہیے کہ ان کا یہ رویہ پولٹری کے کاروبار کو بند کردے گا اور پھر کسی بھی چیز کی قیمت ان کے کنٹرول میں نہیں رہے گی۔  ٭

مزید : کالم