قیام پاکستان کے معاشرتی اور معاشی پہلو .... (2)

قیام پاکستان کے معاشرتی اور معاشی پہلو .... (2)

یہ صرف عام ہندوﺅں کا رویہ نہیں تھا،بلکہ تجارتی میدان کے علاوہ سرکاری و غیر سرکاری ملازمتوں کے میدان میں پڑھے لکھے ہندوﺅں کا رویہ بھی ایسا ہی متعصبانہ تھا ۔ ”شہاب نامہ“ میں قدرت اﷲ شہاب لکھتے ہیں کہ جب مَیں آئی سی ایس کے امتحان میں انٹرویو کے بورڈ کے سامنے پیش ہوا تو بورڈ کے تین ممبروں میں سے ایک ڈاکٹر رادھا کرشن( جو بعد میں بھارت کے صدر بھی رہے) بھی تھے۔ شری رادھا کرشن بلند پایہ عالم اور عالمی شہرت یافتہ فلسفی بھی تھے، لیکن انٹرویو کے دوران ان کے اندر کا برہمن نکل کر باہر آگیا اور اس نے مجھے آڑے ہاتھوں لیا ۔ بات یوں چلی کہ آئی سی ایس کے درخواست فارم میں ایک کالم تھا، جس میں مشغلے کا ذکر کرنا تھا ۔مَیں نے مشغلے کے کالم میںدرج کیا کہ مجھے مذاہب عالم کے تقابلی مطالعے کا شوق ہے ۔ ڈاکٹر رادھا کرشن نے چھوٹتے ہی سوال کیا کہ کیا تم نے مذاہب عالم کا مطالعہ اسلامی آنکھ سے کیا ہے یا انسانی آنکھ سے؟ مَیں نے جواب دیا کہ میرے نزدیک انسانی آنکھ اور اسلامی آنکھ میں ہر گز کچھ فرق نہیں ۔ اس پر وہ چڑ گئے اور مضحکہ خیز سوالات کی بوچھاڑ کر دی ۔

 شہاب مزید لکھتے ہیں کہ امتحان میں مجھے کامیابی حاصل ہوئی تو عجائب گھر کے وسیع و عریض کمپاﺅنڈ میں ڈوگروں کی دو تین ٹولیاں حسب معمول اپنے مشاغل میں مصروف تھیں۔ مَیں نے کان لگا کر سنا تو میرا ہی ذکر خیر ہو رہا تھا ،جنرل ٹھاکر جنک سنگھ فرما رہے تھے، مسلمان ہے تو کیا نام تو جموں و کشمیر کا ہی چمکے گا۔ دیوان بدری ناتھ اس نظریے سے متفق نہیں تھے کہ سانپ کا بچہ سانپ ہی ہوتا ہے ۔ وزیر چند نے حقارت آمیز قہقہہ لگایا اور کہا کہ یہی سانپ کا بچہ حکومت انگلشیہ کی طرف سے Lent Officer کی حیثیت سے ہماری گردن پر سوار ہو گا تو پھر کیسی رہے گی ؟ ”واہ جی واہ“ مہتہ رام رتن نے تردید کی، یہ حرامی کیوں آئے گا، ہم اپنے ترلوجی کو بلائیں گے۔ یہی وہ رویے تھے، جن کی بنا پر ہندو مسلم تفریق قائم رہی ۔ ٹیکنیکل ایجوکیشن حاصل کرنے کے بعد بھی مسلمان ملازمت سے محروم رہتے تھے، کیونکہ تمام کارخانے ہندوﺅں کی ملکیت تھے ۔

مشہور صحافی حبیب اﷲ اوج نے آئل ٹیکنالوجی میں ڈگری حاصل کی اور کوشش کی کہ کسی تیل یا صابن کے کارخانے میں ملازمت مل جائے، مگر وہ ہندوﺅں کے متعصب رویے کی وجہ سے ملازمت حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ مسلمانوں کو ملازمت نہ دینے کے لئے ہندو تعصب طرح طرح کے رنگوں میں ظاہر ہوتا تھا ۔ مشتاق احمد وجدی اپنی خود نوشت ”ہنگاموں میں زندگی “ میں دفاتر میں ہندو مسلم تلخی کے ماحول کو بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے مقابلے کا امتحان پاس کیا، مگر چار ماہ گزر جانے کے باوجود انہیں تقرری کے احکامات موصول نہ ہوئے، جبکہ دوسرے امیدواروں نے کام بھی شروع کر دیا ۔ پریشانی کے عالم میں دہلی پہنچا۔ دفتر میں ایک کمرے کے باہر یعقوب شاہ کے نام کی تختی دیکھی تو ہمت کر کے اندر گیا ۔ انہوں نے فائل منگوائی تو معلوم ہوا کہ فائل گم ہو گئی ہے دو، تین روز تک اس فائل کی تلاش جاری رہی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ایک ہندو اسسٹنٹ نے یہ فائل چھپا دی تھی۔ ایسے ہی ہندو اسسٹنٹ ہندوستان کے ہر دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے۔

 نامور ادیب ممتاز مفتی اپنے مضمون ”رام دین “ میں کہتے ہیں کہ مَیں گریجوایٹ تھا، ڈبل سٹینو گرافر Stenographerتھا ، اردو کا بھی اور انگریزی کا بھی ، اس زمانے میں سٹینو گرافر خال خال ہی ملتے تھے اور گریجوایٹ سٹینو گرافر تو سارے پنجاب میں انگلیوں پر گنے جاسکتے تھے، اس کے باوجود مجھے تین سال تک نوکری نہ مل سکی ۔ مانگ بہت تھی، روزانہ Wanted کے کالم میں دو ، چار اشتہار ہوتے تھے ، روزانہ عرضیاں بھی گزارتا تھا ، کال بھی آتی ۔ نوکری ملنے میں ایک چھوٹی سی فصیل حائل تھی، وہ یہ کہ دفتر کے سپرنٹنڈنٹ لالہ جی احتیاط سے خط پوسٹ کیا کرتے تھے کہ خط کہیں انٹرویو سے پہلے موصول نہ ہو جائے ۔ پہلے اسے ڈاکخانہ کی غفلت سمجھتا رہا، پھر بات کھل گئی۔ آخر میں سکول ماسٹر بن گیا ۔ وہاں بھی تجربہ ہوا کہ ہیڈ ماسٹر لالہ جی بڑے اہتمام سے بدمعاش اور نالائق طالبعلموں کا ایک سیکشن بنا دیتے تھے اور مسلمان ٹیچر کے سرمنڈھ دیتے تھے تاکہ بُرا نتیجہ آنے پر مسلمان ٹیچر کی سالانہ رپورٹ خراب کی جاسکے تاکہ ہندو ٹیچر کو پروموشن مل سکے۔

 1916 ءمیں لاہور میونسپل کمیٹی کے اسسٹنٹ سیکرٹری کی آسامی خالی ہوئی ۔ اس آسامی کے لئے سولہ امیدواروں نے درخواستیں دیں۔ ان میں صرف دو گریجوایٹ تھے۔ ایک مسلمان، دوسرا ہندو۔ مسلمان امیدوار پنجاب یونیورسٹی کا فیلو اور انگریزی اخبار کا کئی سال تک ایڈیٹر رہ چکا تھا ۔ غرض وہ اپنے ہندو امیدوار سے کئی لحاظ سے اس عہدے کے لئے موزوں تھا، مگر جب کمیٹی کے اجلاس میں یہ معاملہ پیش ہوا تو ہندوﺅں نے بالاتفاق ہندو امیدوار کی حمایت کی او رمسلم دشمنی میں اس حد تک جانے کا فیصلہ کر لیا کہ ہندوامیدوارمنتخب نہ ہو سکا تو مسلمانوں کے مقابلے میں کسی انگریز کو ترجیح دیں گے ۔ ہندوﺅں اور مسلمانوں کے درمیان سماجی تعلقات اس قدر خراب ہو چکے تھے کہ سرکاری اور پرائیویٹ ملازمتوں میں امیدوار کا ہندو اور مسلمان ہونا ہی ملازمت ملنے یا نہ ملنے کا سبب بنتا تھا۔ مذکورہ واقعات سے عیاں ہوتا ہے کہ جب کبھی خوش بختی مسلمان کا ساتھ دیتی اور وہ راہ کی مشکلات کو عبور کر لیتا تو بھی ہندو ذہنیت اس کا تعاقب کرتی۔ کسی بھی مسلمان کا افسر مقرر ہونا ہندوﺅں کے لئے درد سر بن جاتا۔ 1913ءمیں ایک مسلمان شیخ اصغر علی کا گوجرانوالہ میں بحیثیت ڈپٹی کمشنر تقرر عمل میں آیا ۔ اس پر پنجاب بھر کے ہندوﺅں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ۔ ہندو پریس سیخ پا ہو گیا اور اس تقرر کو ”اسلامی راج“ کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالنے لگا۔ ۔

ہندوﺅں کا یہی تعصب تھا کہ ملازمتوں میں مسلمانوں کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ 1857ءکی جنگ آزادی کے بعد انگریز نے ملی بھگت سے مسلمانوں پر نوکریوں کے دروازے بند کئے۔ ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر اپنی کتاب ”ہمارے ہندوستانی مسلمان “ میں رقمطراز ہے کہ اگر کسی خالی آسامی کو پُر کرنے کے لئے اخبار میں اشتہار دیا جاتا تو اس امر کی وضاحت ساتھ ہی کر دی جاتی کہ مسلمان اس آسامی کے لئے درخواست دینے کا اہل نہیں، لیکن بیسویں صدی کے وسط میں تعلیم کے حصول کے بعد بھی حالات مسلمانوں کے لئے سازگار نہ ہو سکے ۔ محکمہ تعلیم ہی کو لیں، چونکہ وزارت تعلیم ایک ہندو منوہر لعل کے قبضہ میں تھی، اس لئے وہ حسب عادت مسلمانوں کے ساتھ تعصب برتنا اپنا دھرم سمجھتا تھا ۔ اس کی ہندو نوازی سے تنگ آکر روزنامہ پیسہ اخبار نے 13 اکتوبر1927ءکو اداریہ لکھا کہ حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں جو انٹرمیڈیٹ کالج قائم کئے ہیں، ان میں مسلمانوں کو جان بوجھ کر ملازمت سے محروم رکھا جاتا ہے ۔ پنجاب مسلمانوں کا اکثریتی صوبہ ہونے کے باوجود یہاں کے مسلمانوںکو ملازمت کے جائز مواقع فراہم نہیں کر سکا ۔

 گورنمنٹ کالج دھرم سالہ میں 12 ہندو سکھ اساتذہ تھے، جبکہ صرف ایک مسلمان تھا۔گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں 20 غیر مسلم اور صرف چار مسلم، ہوشیارپور میں 22 غیر مسلم اور 5 مسلم ، گورنمنٹ کالج لائلپور میں 20 غیر مسلم اور صرف تین مسلم اساتذہ تھے۔ گجرات بھی مسلم اکثریتی ضلع تھا ۔ 1892-93ءمیں اس ضلع میں چھ لاکھ انہتر ہزار تین سو سینتالیس مسلمان آباد تھے، جبکہ ہندوﺅں کی آبادی بہتر ہزار تین سو چورانوے افراد پر مشتمل تھی ۔ اس ضلع میں 1924ءمیں ایک گورنمنٹ انٹر کالج قائم ہوا۔ 1925ءمیں گورنمنٹ انٹر کالج گجرات کا اسٹاف تیرہ اساتذہ پر مشتمل تھا ، جن میں مسلمان صرف پانچ، یعنی عبدالحمید خاں ، محمد حسین (انگریزی و فلسفہ)، غلام عباس خاں(حساب) میر عبدالرشید(عربی) اور فقیر محمد(فارسی) تھے۔ 1928ءمیں 21 غیر مسلم اساتذہ کے مقابلے میں کل پانچ۔ محمد حسین حکیم محبوب الہیٰ، میر عبدالرشید، فقیر محمد اور چراغ دین تھے ۔

اگلے سال سٹاف کی تعداد میں چار حضرات کا اضافہ ہوا، لیکن مسلمانوں کی تعداد میں کوئی فرق رونما نہ ہوا۔ 1936ءمیں سٹاف کی تعداد 25 میں تو کوئی کمی نہ ہوئی، لیکن مسلمان پانچ سے گھٹ کر چار رہ گئے ۔ 1932ءمیں سٹاف کی تعداد 24 تھی، جن میں مسلمان محض 5 تھے۔ 1933 میں تعداد 25 تھی اور مسلمان پھر صرف 5 تھے۔ اس کمی کی کئی وجوہات تھیں، مگر سب سے بڑی وجہ یہ تھی محکمہ تعلیم کے صوبائی ڈائریکٹوریٹ پر ہندوﺅں کا مکمل قبضہ تھا۔ دفتر کی پانچوں برانچوں کے ہیڈ اسسٹنٹ ہندو تھے ۔ اسی طرح انسپکٹر مدارس لاہور چار تھے اور چاروں ہندو تھے۔ ملتان میں 8 انسپکٹر مدارس تھے، جن میں سے تین مسلمان تھے، حالانکہ ملتان 80.5 فیصد آبادی مسلمان تھی۔ ایسا ہی عدالتی معاملات میں تھا ۔ 1927 میں ہندوستان کی تمام ہائی کورٹوں اور چیف کورٹس میں مسلمان ججوں کی تعداد لمحہ فکریہ ہے ؟کل 89 ججوں میں مسلمان ججوں کی تعداد صرف 9 تھی ۔ اسی طرح محکمہ ڈاک و تار میں سے 1910 میں حکومت ہند نے محکمہ تار میں تبدیلیوں کا ارادہ ظاہر کیا اور ہندوستان کو چالیس ڈویژنوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور چالیس ڈویژنل آفیسروںکی تقرری ہوئی۔ کسی بھی مسلمان کا تقرر نہ ہو سکا ۔ اس کے نیچے اسی طرح 29 اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ مقرر ہوئے، مگرکوئی مسلمان نہیں تھا بعینہ کل ہندوستان میں 260 ٹیلی گراف ماسٹر تھے۔ ان میں بھی کوئی مسلمان نہیں تھا، یہی حال ریلوے اور دیگر محکموں کا تھا۔(جاری ہے)

مزید : کالم