قارئین! عید مبارک؟

قارئین! عید مبارک؟
قارئین! عید مبارک؟

  

 ہم اخبار نویسوں کی یہ مشکل آج سے نہیں تب سے ہے، جب سے روزانہ اخبارات کی اشاعت کا سلسلہ ہوا، پورا سال امن سے گزرتا ہے، ہر ایک کارکن کو علم ہوتا ہے کہ اُس کی اپنی ہفتہ وار رخصت کب اور اخبار کی مکمل چھٹی کس تہوار پر کب ہونا ہے، لیکن سال بھر میں ایک دن ایسا آتا ہے، جب کسی بھی روزنامے کا عملہ ایک ٹانگ پر کھڑا نظر آتا ہے اور یہ دن ہمیشہ29رمضان المبارک ہوتاہے کہ اس روز چاند ہونے نہ ہونے کے فیصلے کا انتظار ہوتا ہے،پورے اخبار کی کاپیاں کوشش کر کے تیار کی جاتی ہیں تاکہ بر وقت پریس میں جائیں اور اخبار بھی اپنے وقت پر شائع ہو کر مارکیٹ میں پہنچ جائے، لیکن چاند کا انتظار کسی محبوب کے انتظار سے بھی زیادہ طویل اور صبر آزما ثابت ہوتا ہے۔ عموماً فیصلہ رات گئے ہوتا ہے تو افراتفری کا عالم ہو جاتاہے۔ اب تو خیر سے الیکٹرانک میڈیا میدان عمل میں ہے جو خود بھی آسمان پر چاند تلاش کرنے میں مصروف رہتا ہے۔

پاکستان میں آج تک رویت ہلال کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا، کیونکہ ہمارے علمائے کرام فلسفہ ¿ قرآن اور فرامین نبوی کو جدید سائنس سے مطابقت پاتے یا تو دیکھ نہیں سکتے یا پھر اپنی حیثیت منوانے کے لئے غورو فکر سے ہی انکار کر دیتے ہیں۔ جدید سائنس ہی نے یہ ثابت کیا ہے کہ اللہ تبارک تعالیٰ نے یہ زمین و آسمان بنائے توگردش افلاک کی ایک خاص ترکیب بھی رکھی۔ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے تو چاند کی گردش اس خطہ ارضی کے گردا گرد ہوتی ہے۔ یوں یہ گردشیں دُنیا کے مختلف ممالک میں مختلف اوقات کے مطابق ہوتی رہتی ہیں۔ پاکستان میں دن ہو تو امریکہ میں رات، آسٹریلیا میں صبح اور برطانیہ میں ناشتے کا وقت ہوتا ہے، اسی طرح پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بھی کم از کم دو گھنٹے کا فرق ہے۔ اس کے مطابق زمین کا وہ ٹکڑا ،جسے پاکستان کہتے ہیں، سورج کے سامنے پہلے اور سعودی عرب والا دو گھنٹے بعد آتا ہے، لیکن چاند کی صورت میں یہ صورت حال بالکل اُلٹ ہو جاتی ہے۔ چاند سعودی عرب کے خطے پر پاکستان کی نسبت دو گھنٹے پہلے نمودار ہوتا ہے۔ یوں یہ ممکن ہی نہیںکہ سعودی عرب اور پاکستان میں یکم شوال کا چاند بیک وقت نظر آئے۔ یکم شوال کے چاند کی عمر یوں بھی کم ہوتی ہے، اس لئے یہ سعودی عرب میں جس روز دکھائی دے گا، پاکستان میں اس سے اگلے روز ہی نظر آ سکتا ہے۔

سائنس کے اس فکری علم نے تو خود دین حق اسلام کی حقانیت کو ثابت کیا ہے۔ جب یہ حدیث بیان کی جاتی ہے کہ جہاں رمضان المبارک کا چاند نظر آئے، روزہ رکھ لو، اور جب شوال کا چاند دکھائی دے تو عید کر لو۔ اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ سائنس آج کے دور میں اوقات اور گردش بتاتی ہے، تو حضور اکرمﷺ پر چودہ سو سال پہلے ہی یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ زمین کے ہر ٹکڑے پر سورج اور چاند کی گردش ایک ہی روز اور وقت کے مطابق نہیں ہو سکتی، اسی لئے ہر ملک کو اپنے اپنے اوقات گردش کے مطابق عمل کرنا ہو گا اور یہی روایت ہے کہ چاند دیکھو تو عمل کرو۔ اب تو سائنس نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ آلات و حساب کی رو سے چاند اور سورج کے لمحہ لمحہ کے تحرک کو بھی بیان کیا جا سکتا ہے، تو پھر جھگڑا کیوں؟.... اس بار تو یوں بھی صورت حال واضح ہے کہ خود سعودی عرب میں تیس روزے مکمل ہوئے ہیں۔

دُکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ اس سال رمضان کے چاند کی جو خوشی ہوئی، وہ عید کے چاند کے لئے ماند پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ سعودی حکومت اور خلیجی ممالک کے اعلان کے مطابق عیدالفطر اتوار کے روز ہو گی، لیکن ہمارے ملک ہی کے ایک خطے میں، جو افغانستان سے نزدیک اور متاثرہے، آج (ہفتہ) کو عید منا لی ہے۔ پاکستان کے مطابق تو یہ 28 روزوں کی عید ہے۔ بتایا گیا ہے کہ میرانشاہ (شمالی وزیرستان) کے علمائے کرام نے پندرہ شہادتوں کی بناءپر عید کا اعلان کیا اور وہاں آج عید منا بھی لی گئی۔ پاکستان میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کراچی میں ہو رہا ہے۔ یہ کالم اشاعت کے لئے جانے کے وقت تک پاکستان کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس جاری تھا اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فیصلے میں تاخیر ہو گی اور عوام سولی پر لٹکے رہیں گے۔ خصوصاً جو افراد اعتکاف کی حالت میں ہیں، اُن کی پوزیشن بہت مختلف ہے اور اُن کا انتظار محبوب کے انتظار سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہے۔ ان کی پورے عشرے کی عبادت اور تحمل آج کے دن بے چینی میں تبدیل ہیں اور ہم ہیں کہ اپنے اپنے اعتقادات کی الجھن میں پھنسے انتظار کرا رہے ہیں۔

ماہرین فلکیات نے پہلے ہی واضح کر دیا ہوا ہے کہ ہفتے کو پاکستان میں چاند نظر آنے کا امکان نہیں، اگر کوئی بہت ہی ہلکا امکان ہے بھی تو وہ گوادر یا بلوچستان کے دُور کے علاقوں کا ہے، لیکن وہاں بھی شائبہ ہی ہو سکتا ہے۔ آنکھ ٹکا کر چاند نہیں دیکھا جا سکے گا، لیکن مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو تو شرعی احکام کی اطاعت کرنا اور شہادتوں کا انتظار کرنا ہے۔ چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں بھی صوبائی رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس جاری ہیں۔ میرانشاہ والوں کی جلدی سے ہم بہت خائف ہو گئے ہیں کہ شاید رمضان کے اول روزے والا جذبہ برقرار نہ رہ سکے اور اس بار شاید پھر تین عیدیں ہوں۔ یہ تو یقین ہے کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو فیصلہ کرنے میں دشواری ہو رہی ہو گی، تاہم ماہرین فلکیات اور محکمہ موسمیات کی معاونت اُن کے کام کو قدرے آسان بناتی ہے، لیکن خوف تو اس امر کا ہے کہ شمال کی طرف سے مزید اعلان نہ ہو جائے کہ کوئی اللہ کا بندہ ایسا سامنے آئے، جو حلف لے کر چاند دیکھنے کی گواہی دے ،وہ اپنے طور پر سچا ہو سکتا ہے کہ وہ تو چاند کو دیکھ کر آیا ہو گا کہ اس کے بیٹے کا نام چاند ہے۔ قارئین ! ہمارے پاس آپ کے لئے خود پر گزری تاریخی حقیقت بھی ہے، لیکن جگہ کی قلت نے مجبور کیا کہ بات یہیں ختم کریں کہ آپ سب کو پیشگی عید مبارک ہو، چاہے وہ آج (اتوار) ہے یا پھر کل (سوموار) کو ہو گی۔ اللہ تعالیٰ سے امن و خیر کی دُعا کریں اور یہ بھی دُعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کو ہدایت دے کہ اب وہ قیمتیں اعتدال پر لے آئیں کہ وہ رمضان المبارک کا مہینہ ہی نہیں،عید بھی کما چکے۔

مزید : کالم