عید منائیں، مگر اپنے ارد گرد بھی دیکھ لیں

عید منائیں، مگر اپنے ارد گرد بھی دیکھ لیں
عید منائیں، مگر اپنے ارد گرد بھی دیکھ لیں

  

ایک عید سے دوسری عید تک آتے آتے گزرے سال میں نجانے کتنے سانحے بیت جاتے ہیں۔ بم دھماکے، ٹارگٹ کلنگ، بھوک اور ننگ کی اذیت اور نجانے کیا کیا کچھ، مگر اس کے باوجود جب یہ روز سعید انسانوں کی زندگی میں آتاہے تو وہ بے اختیار ایک دوسرے کو عید مبارک کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

عید الفطر کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ ان لوگوں کی عید ہے جو رمضان شریف کے پورے روزے رکھتے ہیں، اس بات سے وہ لوگ چڑ جاتے ہیں جو غالب کی طرح اس بات کے دعویدار ہیں کہ خدا نے ان کو نماز اور روزہ معاف کر رکھا ہے۔ ایسے لوگوں سے اگر کہا جائے کہ جناب خدا نے آپ کے روزے نماز کے ساتھ ساتھ آپ کی عید بھی معاف کر دی ہے تو آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔ آپ اگر ان کے قریب کھڑے ہیں۔ تو اس بات کے امکانات روشن ہیں کہ وہ آپ کا گریبان پکڑیں اور کہیں: ”کیا ہم انسان نہیں، کیا ہمیں خوشی منانے کا کوئی حق نہیں“؟.... ایسے موقع پر خاموش رہنے ہی میں عافیت ہے، کیونکہ ہم حقوق کے معاملے میں خاصے زود و رنج اور جذباتی واقع ہوئے ہیں اور یہ بات بھول جاتے ہیں کہ حقوق کی دیوی سے مصافحہ کرنے کے لئے فرائض کے دیو سے اچھی خاصی کشتی لڑنا پڑتی ہے۔

بعض جہاں دیدہ لوگ عید منانے کے لئے روزے رکھنے کی شرط کو دوسرے طریقوں سے پورا کرنے میں خاصی مہارت رکھتے ہیں، مثلاًایک صاحب سے اس موضوع پر بات ہوئی تو فرمانے لگے: ”کیا روزہ صرف کھانے پینے سے اجتناب کا نام ہے“؟.... جواب کا انتظار کیے بغیر کہنے لگے: ”ہرگز نہیں، روزہ تو روح کی غذا ہے اور اس کی تعمیل مختلف طریقوں سے کی جا سکتی ہے“۔ عرض کیا: ”لیکن کھانے پینے سے پرہیز تو بہرحال روزے کی شرط اولین ہے“ ۔گویا ہوئے: ”جی نہیں مَیں اس فلسفے کا قائل نہیں ہوں، روزے کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز آپ کو سب سے زیادہ پسند ہے، آپ اس کی قربانی دیں“ دوبارہ عرض کیا: ”تو جناب آپ کس چیز کی قربانی دے کر روزے کے فرائض ادا کر رہے ہیں“؟ فرمانے لگے: ”بھئی ویسے تو روزے کا معاملہ بندے اور خدا کے درمیان ہوتا ہے، لیکن تمہیں بتا دینے میں کوئی حرج نہیں، بات یہ ہے کہ مَیں ایک ایسے دفتر میں بیٹھتا ہوں، جہاں لوگوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ لوگ اپنے مسائل کے سلسلے میں میری نظر التفات کے منتظر رکھتے ہیں، لیکن مجھے انہیں دور رکھ کر مزا آتاہے تو کہہ سکتے ہو کہ یہ میری پسندیدہ ”ہابی“ ہے، تاہم جب ماہ رمضان آتا ہے تو مَیں اپنی اس ہابی کو بڑی حد تک ختم کر دیتا ہوں، مثلاً اگر سو آدمی اپنے مسائل لے کر میرے پاس آتے ہیں تو مَیں ان میں سے پچاس کی بات سن لیتا ہوں۔ اب تم بتاﺅ، مَیں نے جو اپنی ہابی کو ماہ رمضان میں معطل کر دیا ہے تو کیا یہ میرا روزہ نہیں؟ مَیں نے زبان سے کچھ نہ کہا، البتہ دل سے آواز نکلی: ”صدقے جاواں تیریاں دلیلاں توں“۔

عید کی خوشی یوں تو سبھی کو ہوتی ہے، تاہم کاروباری حلقے اس کی آمد پر پُرجوش بھنگڑا ڈالتے ہیں، بلکہ یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو گا کہ کاروباری لوگ سارا سال اس روز سعید کے آنے کا شب ہجراں میں اسیر عاشق بے کل کی طرح انتظار کرتے ہیں۔ دوسری طرف ان کی محبوبہ، یعنی عید بھی انہیں مایوس نہیں کرتی اور اپنے حسن کے جلوﺅں سے سونے چاندی کے ڈھیر لگا دیتی ہے۔ ہمارے ہاں اگر کسی طبقے کو خوشحال ترین طبقہ کہا جا سکتا ہے تو وہ دکانداروں کا ہے۔ اس کے علاوہ یہی وہ طبقہ ہے جس پر مہنگائی کا اثر ہمیشہ مثبت ہوتا ہے۔ اس طبقے کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ اس کی چھٹی حس بہت تیز ہوتی ہے جو عام طور پر اسے بتاتی رہتی ہے کہ کون کون سی چیزوں کے دام بڑھنے والے ہیں۔ مستقبل قریب یا بعید میں کون سی شے ”شارٹ“ ہونے والی ہے؟ وغیرہ وغیرہ.... اور یہ اس کی اطلاع ملتے ہی بڑی چابکدستی سے قیمتوں کا قد کاٹھ بڑھاتے رہتے ہیں۔ خاص طور پر بجٹ کے دنوں میں تو ان کے 24 گھنٹے اسی تگ و دو میں صرف ہوتے ہیں۔ جونہی کسی چیز کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع پہنچتی ہے، اسے ”پردہ نشین“ کر دیا جاتاہے اور بجٹ کی آمد کے بعد بڑے طمطراق کے ساتھ دوبارہ ر ونمائی کی جاتی ہے ، یوں پرانے مال کے نئے دام کھرے کئے جاتے ہیں۔

تاہم کبھی کبھار ان کی چھٹی حس کے اندازے غلط بھی ثابت ہوجاتے ہیں اور حساب برابر ہو جاتا ہے۔ ایک بار بجٹ کے دنوں میں یہ افواہ اُڑی کہ پیاز کی قیمتیں بڑھنے والی ہیں، بس پھر کیا تھا، پیاز کو شرعی پردے میں بٹھا دیا گیا اور ”نامحرموں“ کو دور ہی سے ٹرخایا جانے لگا، لیکن چند دنوں کے بعد جب بجٹ آیا تو پیاز کی قیمتیں بڑھنے کی بجائے درآمدی پیاز کی وجہ سے کم ہو گئیں۔ شدید گرمی کی وجہ سے بند کوٹھڑیوں میں محبوس پیاز کو ”یرقان“ ہو گیا اور کاروباری حضرات کو ”نہ خدا ہی ملا، نہ وصال صنم“ کا ورد کرنا پڑا۔ ایک ایسا ہی بیوپاری بجٹ کا اعلان ہونے کے بعد اپنے مستقل گاہکوں کے گھر کا طواف کرتے ہوئے انہیں پیاز کی آمد کا مژدہ سنانے لگا، لیکن لوگ بھی بجٹ کا اعلان سن چکے تھے، اس لئے بیوپاری بھائی کے جھانسے میں نہ آئے۔ بیوپاری آخری امید کے طور پر اپنے سب سے بڑے گاہک، جو ایک ہوٹل کا مالک تھا، کے پاس گیا اور اسے پیاز کی دستیابی کی نوید سنائی، مگر ہوٹل کے مالک نے اس اطلاع پر خوش ہونے کے بجائے، جلے کٹے انداز میں کہا: ”سن او چودھری تو پیاز کی بات کر رہا ہے، ارے! اب تو ہمیں پیار بھی دے تو ہم نہیں لینے کے“....اس طرح بے چارے بیوپاری صاحب اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود دم توڑتے ہوئے پیاز کی جان نہ بچا سکے، لیکن چینی کے ذخیرہ اندوزوں کو ایسا کوئی خطرہ نہیں کہ چینی خراب ہو جائے گی، اس لئے وہ چینی باہر نہیں لا رہے اور میٹھی عید کو پھیکا کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔

  عید کی خریداری زیادہ تر خواتین کرتی ہیں۔ حقوق نسواں والے چاہے کچھ بھی کہیں، عورتیں بہرحال بہت بُھولی مخلوق ہوتی ہیں، جسے دکاندار حضرات بڑی آسانی سے شیشے میں اتار لیتے ہیں۔ عورتوں کے بھولپن کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ چوڑیاں پہننے کے لئے چاند رات کو نکلتی ہیں اور رش کی وجہ سے چوڑیاں پہنتے ہوئے یوں ایک دوسرے پر ٹوٹی پڑتی ہیں، جیسے مرد حضرات تھیٹر کا ٹکٹ لیتے ہوئے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کرتے ہیں۔ خریداری کی بات یہ ہے کہ جن چوڑیوں کو گھٹیا معیار کا کہہ کر انہوں نے دو دن پہلے رد کر دیا ہوتا ہے، انہی کو مہنگے داموں خرید کر لاتی ہیں اور اس کارنامے پر فخر کے ساتھ ساتھ خدا کاشکر بھی ادا کرتی ہیں، اگر وہ چوڑیاں پہننے کا شوق عید سے ایک دن پہلے پورا کر لیں تو ان کے پیسے بچ سکتے ہیں اور پسند کی چوڑیاں بھی ہاتھ آسکتی ہیں، تاہم انہیںیہ بات سمجھانا کسی بھی خطرے سے خالی نہیںہے۔ ایک بار ایک شوہر نے یہی غلطی کی تھی، اسے عید کی سویوں کے ساتھ ساتھ اپنی عینک اور ایک آنکھ سے بھی محروم ہونا پڑا تھا۔ خواتین کی یہی عادتیں دکانداروں کے پورے سال کے دلدر دور کر دیتی ہیں، دکاندار حضرات دس سال پرانے کپڑے کو ”بہن جی یہ دیکھئے عید کے لئے خاص طور پر منگوایا ہے“ کہہ کر کامیابی کے ساتھ عورتوں کے شاپنگ بیگ میں ڈال دیتے ہیں اور عورتیں اپنے کارنامے کے قصیدے پڑھتے نہیں تھکتیں۔

عید کا دن تجدید ملاقات کا جواز بھی فراہم کرتا ہے۔ اکثر بچھڑے ہوئے ساتھی اس دن کا شدت سے انتظار کرتے ہیں اور عید کے دن ایک دُوجے کو دیکھ کے ” عید کا دن ہے، گلے ہم کو لگا کر ملئے“ کے فارمولے پر لفظ بہ لفظ عمل کرتے ہیں۔ عید دراصل جذبہءمحبت کو پروان چڑھانے کے لئے آتی ہے۔ عید کے دن آدمی کا دل خواہ مخواہ کسی کی محبت کا اسیر ہوتا چلا جاتا ہے، جو پہلے ہی کسی کی محبت میں گرفتار ہو چکے ہوتے ہیں، عید کا دن ان کے جذبوں میں شدت پیدا کرتا ہے۔ جیسے ماہ رمضان شیطانی قوتوں کے لئے حبس دوام لے کر آتا ہے، اسی طرح عید کا دن بھی نفرتوں کے لئے فرشتہ اجل ثابت ہوتاہے۔ عید کے اجتماعات کے روح پرور مناظر دیکھ کر دل میں جینے کا نیا حوصلہ پیدا ہوتا ہے اور انسان سے انسان کے تعلق کی پرانی روایت میں نئی جان پڑ جاتی ہے۔ عید کا دن بلاشبہ قہقہے بکھیرنے، حوشیاں منانے، محبتیں بانٹنے اور مثبت جذبوں کو فروغ دینے کا نام ہے، لیکن یہ دن ہم سے اس کے علاوہ بھی بہت سے تقاضے کرتا ہے۔ اپنے لئے خوشیوں کی تلاش ہر انسان سال کے 12 مہینے جاری رکھتاہے، لیکن عید کا دن ہمیں اس بات پر اکساتا ہے کہ ہم ان لوگوں کو تلاش کریں جو خوشیوں سے محروم ہیں۔

عید خدا کی طرف سے سب انسانوں کے لئے آتی ہے، جیسے دھوپ اور ہوا پر سب انسانوں کا برابر حق ہے، بعض اوقات ہم انجانے میں کسی کی دھوپ یا کسی کی ہوا روکنے کا باعث بن جاتے ہیں یا بعض اوقات ہم اپنی مخصوص مصلحتوں کے تحت شعوری طور پر یہ راستہ اپناتے ہیں۔ بالکل اسی طرح عید کے سلسلے میں بھی ہم کسی کوتاہی کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔ یہ کوتاہی شعوری بھی ہو سکتی ہے اور لاشعوری بھی ، اس سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ ہم دیانت داری کے ساتھ آنکھیں کھول کر اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ ہماری دی ہوئی خوشیاں کس کس کی محرومیوں کا ازالہ کر سکتی ہیں؟ یاد رکھئے اگر آپ کی دی ہوئی خوشی سے کسی ایک افسردہ چہرے کی ہنسی بھی لوٹ آئے تو آپ کی زندگی کا ہر لمحہ عید بن جائے گا۔ آپ ایک عید کے لئے اتنے جتن کرتے ہیں، اگر آپ کو ایسی ہزاروں عیدیں مل جائیں تو کیسا رہے گا؟ آئیے اس عید کو ہزاروں عیدوں میں بدل ڈالیں۔

مزید : کالم