ہے شعارِ زیست ناصر نعت گوئی اور بس‘الحمرا نعتیہ مشاعرہ!

ہے شعارِ زیست ناصر نعت گوئی اور بس‘الحمرا نعتیہ مشاعرہ!
ہے شعارِ زیست ناصر نعت گوئی اور بس‘الحمرا نعتیہ مشاعرہ!

  

 رحمتوں کا مہینہ،برکتوں کا مہینہ،ضبط ِ نفس کا مہینہ،مبارک،مقدس،ماہ رمضان المبارک رخصت ہورہا ہے ،عید کی آمد آمد ہے ۔اﷲ تعالیٰ نے نماز فرض کی، روزے فرض کئے،زکوٰة فرض کی اور حج کو استطاعت پر رکھا اور شاعر نے شاعرانہ انداز میں کہہ دیا:

دل بدست آور کہ حجِ اکبر است

از ہزاراں کعبہ یک دل بہتر است

یوں بھی دیکھا جائے تو:

کیا ہماری نماز ، کیا روزہ؟

بخش دینے کے سب بہانے ہیں

اﷲ تعالیٰ غفورالرحیم ہے ،بخشش کرنے والا ہے ،بخشش دینے والا ہے ۔میری نعت کا ایک پُرانا شعر ہے :

مجھے یقیں ہے کہ سب خطائیں وہ بخش دے گا بروزِ محشر

 سو اُس کی رحمت کے آسرے پر میں خودکو عصیاں میں سانتا ہوں

 اِ س رحمتوں والے، برکتوں والے مہینے میں ذکرِ خدا ورسول خضوع وخشوع سے ہوتا رہا کہ مسلمانوں کا یہی وتیرہ ہونا چاہیے....!

محافلِ وعظ ورُشد وہدایت کے ساتھ ساتھ محافلِ نعت اور نعتیہ مشاعروں کا بھی اہتمام رہا،چنانچہ الحمراءآرٹس کونسل لاہور میں جبکہ پورے رمضان میں ناچ،گانے، ڈرامے بند رہے۔مختلف تنظیموں کی جانب سے ادبی وعلمی اور دینی اجلاس کے پہلو بہ پہلو محافلِ نعت خوانی اور نعتیہ مشاعروں کا انعقاد ہوتا رہا۔خود الحمراءآرٹس کونسل لاہور کے زیر اہتمام ایک نعتیہ مشاعرہ جمعتہ الوداع کی شام ادبی بیٹھک میں منعقد ہوا....جزوی صدارت ظفر اقبال نے کی جبکہ مہمان خصوصی نجیب احمد تھے۔ظفر اقبال صاحب کے جلدی چلے جانے کے بعد چیئرمین الحمراءآرٹس کونسل عطاءالحق قاسمی نے افطار تک یہ ذمہ داری خود سنبھالے رکھی اور آخری دور میں سرور حسین نقشبندی سے نظامت کے فرائض مستعار لے کر ڈاکٹر صغریٰ صدف کے سپرد کردئیے۔ ڈاکٹر صغریٰ صدف نے ہی مشاعرے کو اختتام تک پہنچایا....!

 اِس نعتیہ مشاعرے میں صاحب ِ صدارت اور مہمان خصوصی کے علاوہ جن شعراءنے اپنا اپنا ہدیہ نعت ، سرور ِ کائنات کے حضور پیش کرنے کی سعادت حاصل کی اُن میں ناصر زیدی، خالد احمد، شہزاد مجددی، راجا رشید محمود، اعجاز کنور راجہ، حسن عسکری کاظمی، صوفیہ بیدار، واجد امیر، رخشندہ نوید،حسن عباسی، اکرم سحر فارانی، ایوب ندیم، راحیلہ رباب، رابعہ رحمان، حِرا رانا، فاطمہ غزل، صغریٰ صدف،ابرار ندیم،عُذیر احمد، عمران نقوی، شہزاد نیر، علی اصغر عباس اور سرور حسین نقشبندی شامل تھے۔اِس نعتیہ مشاعرے کے چند ناقابل فراموش اشعار:

چرچے مرے نبی کے ہر آن ہورہے ہیں

قرآن کے معانی آسان ہورہے ہیں

         رخشندہ نوید

اِ ک خوشبو میرے سانسوں میں جو پھولوں کی محتاج نہیں

 اِک نعت ہے میرے سینے میں جو لفظوں کی محتاج نہیں

        حسن عباسی

گنبدِ سبز منور ہے تو حیرت کیسی

یہ مکاں کیوں نہ ہو روشن کہ مکیں روشن ہے

         واجد امیر

عید کا چاند تو طبیہ میں نظر آتا ہے

ہم تو شہزاد یہاں کرتے ہیں بس نام کی عید

         شہزادمجددی

ہم نے انصار سے سیکھا ہے کہ اثیار ہے کیا

ہم نے میثاقِ مدینہ سے سیاست سیکھی

        اعجاز کنور راجا

جو روز شہرِ مدینہ سے ہوکے آتی ہے

میں اُس ہوا کو ادب سے سلام کرتی ہوں

         صغریٰ صدف

کوئی مرے نبی سا نہ آیا نہ آئے گا

حرفِ تمام ہوگئی سیرت حضور کی

         ایوب ندیم

کس رُخ کروں قصیدہ شاہِ زمن تمام

تشبیب ہی میں ہوگئی تابِ سخن تمام

          خالد احمد

نبی جی آپ تو سب جانتے ہیں

میں کیا روزِ قیامت چاہتا ہوں

مرے آقا ‘ سفارش میرے آقا

نکما ہوں رعایت چاہتا ہوں

          نجیب احمد

 غیر کی دہلیز پر کب جُبّہ سائی سے ہوا

 باالیقیں آسودہ میں مشکل کشائی سے ہوا

 تھا بہت نادار حرف ولفظ کے بازار میں

میں تو نگر آپ کی مدحت سرائی سے ہوا

 میرے آقا آپ نے بلوایا اپنے درپہ جب

 اُس گھڑی میں آشنا حق تک رسائی سے ہوا

مال ودولت کی نہ کچھ دنیائے دُوں کی تھی ہوس

 میں تو جو کچھ بھی ہوا دل کی صفائی سے ہوا

  ہے شعارِ زیست ناصر نعت گوئی اور بس !

 کس قدر میں معتبر اِس خوش ادائی سے ہوا

         ناصر زیدی

الحمرا آرٹس کونسل کی جانب سے افطاری کا بہت معقول انتظام تھا مگر اکثر شعراءکلام پڑھتے گئے اور چیک لے کر روانہ ہوتے گئے۔چلئے ایک آدھ سینئر شاعر کو تو ”استثنیٰ“ دیا جاسکتا ہے ۔ بہت ہی بزرگ شاعر ظفر اقبال اتنی دیر بیٹھنے کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے یا پروفیسر حسن عسکری کاظمی کے گھر پر افطاری میں مہمان مدعو تھے اور وہ ٹھیک ساڑھے چار بجے اِس شرط پر پہنچ گئے تھے کہ ساڑھے پانچ بجے تک فارغ کردئیے جائیں گے مگر اِس کا کیا علاج کہ مشاعرہ شروع ہی ساڑھے پانچ بجے ہوسکا۔بہر حال وہ جلد ہی کلام سنا کر روانہ ہوگئے۔شہزاد مجددی بھی تاخیر سے آئے،کلام سناتے ہی فوراً روانہ ہوگئے۔یقینا اُن کی مصروفیت ناگزیر ہوگی مگر وہ اتنے بڑے سکالر اور شاعر ہیں کہ اکثر شعراءکی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھی اُنہیں سنیں۔

بہت جونیئر شعراءنے بھی دیکھا دیکھی یہی طرزِ عمل اپنایا جن میں سے بعض تو ایسے شاعر بھی تھے جن کا نام ہم نے زندگی میں پہلی بار سنا او رپہلی ہی بار اُنہیں دیکھا مثلاً سلطان محمود۔وہ بھی چیک لے کر چلتے بنے تو ہم نے ذوالفقار علی زلفی(ڈپٹی ڈائریکڑ) کو چٹ لکھی کہ یہ سلسلہ فوراً بند کیا جائے اور تمام شعراءکو چیک افطاری کے بعد دئیے جائیں ورنہ آخر میں ہم خود ہی ”شاعر وسامع “رہ جائیں گے.... پھر بھی رخشندہ نوید کو اُن کا چیک خالد احمد نے دلوا کر روانہ کیا....اور بھی کئی شاعر تھے۔نام بہ نام لکھ کر کیا گنواﺅں۔یہی شعرا جب ریڈیو، ٹی وی کے مشاعرے میں شامل ہوتے ہیں تو آخر تک بیٹھتے ہیں خصوصاً ٹی وی کے کیمرے کے سامنے سے تو مشاعرہ ختم ہوجانے کے بعد بھی ہٹنے کا نام نہیں لیتے۔گذارش یہ ہے کہ ایسی محفلوں میں نعت کے تقدس کا خیال رکھنا چاہیے۔نعتیہ مشاعرے میں پورے حُسنِ عقیدت کے ساتھ شریک ہونا چاہیے اور آخر تک بیٹھنا چاہیے ۔یہ کیا کہ اپنا کلام سنایا۔ داد بیداد سمیٹی ،چیک یا نقد لفافہ لیا اور تُو کون میں کون؟ تلخ نوائی کیلئے معذرت کہ میں ”زہر ہلاہل“ کو کبھی کہہ نہ سکا قند“....!!

مزید : کالم