قائد کا پاکستان کہاں ہے ؟

قائد کا پاکستان کہاں ہے ؟
قائد کا پاکستان کہاں ہے ؟

  

 افسوس، قائد اعظم محمد علی جناح ؒ ہمیں نہیںجانتے تھے۔ اگر ان کی زندگی کچھ سال اوروفاکرتی تو وہ یہ دیکھ کر پریشان ہو جاتے کہ ہم بطور قوم اور ہمارے یکے بعد دیگرے بہت سے رہنما سیاسی اور غیر سیاسی پاکستان کے حوالے سے ان کے نظریات کو اپنانے اور اپنی قومی سلامتی ، خود مختاری اور علاقائی سا لمیت کی حفاظت کرنے میں کس بری طرح ناکام رہے ہیں۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو ہمیں اس پر رتی بھر شرمندگی نہیں کہ ہم نے ان کے پاکستان کے ساتھ کیا کیا ہے ۔ ہمیں بیٹھ کر سوچنا چاہیے تاکہ ہم اپنا محاسبہ کر سکیں۔ اب بطور ایک آزاد قوم ، ایک پوری نسل کی زندگی بیت چکی ہے ۔ قائد پاکستان کو ”دنیا کی عظیم ترین اقوام میںسے ایک“ بنانا چاہتے تھے ،مگر وہ قیام ِ پاکستان کے بعد اسے کامیابی و کامرانی کے راستے پر گامزن کرنے کے لئے زندہ نہ رہ سکے۔ میری نسل کے لوگ، جنہوں نے پاکستان کو بنتے ہوا دیکھا تھا اور جنہوںنے تقسیم ہند کے قہر کو برداشت کیا تھا، آج یہ دیکھ کر شدید کرب سے گزرتے ہیںکہ مسٹر جناح پاکستان کو کیا بنانا چاہتے تھے، مگر ہم نے اسے کیا بنا دیا ہے ۔

ہماری آزادی کے پہلے سال، جو کہ اُن کی زندگی کا آخری سال ثابت ہوا، قائد نے با لکل درست بھانپ لیا تھا کہ حالات کیا رخ اختیار کرنے والے ہیں۔ انہیں اس نئی ریاست کو چلانے والے سیاست دانوں، جو مفاد پرست جاگیر داروں، موقع پرست سیاست دانوں اور کوتاہ نظر رہنما وںکے سوا کچھ نہیں تھے، کی اہلیت اور کردار کے بارے میں کوئی خوش فہمی نہیں تھی۔ ان کی بے بدل بصیرت دیکھ چکی تھی کہ اس ملک کے سیاسی افق پر نا اہلی کا اندھیرا چھایا ہوا ہے ۔ اپنی رحلت سے ایک ماہ قبل قائد اعظمؒ نے 14 اگست1948ءکو قوم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا”آپ کی آزاد ریاست کی بنیاد رکھی جا چکی ہے اور اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس کی جلد از جلد تعمیر کریں “....رچرڈ سائمنز کے الفاظ میں” محمد علی جناح نے قیامِ پاکستا ن کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے سخت محنت کی اور اس طرح وہ زندگی کی بازی ہار گئے ۔ آج اگر پاکستان حیات ہے تو یہ مسٹر جناح کی کاوش کی بدولت ہے “۔ اس میںکوئی شک نہیںہے کہ جناح صاحب پاکستان کے لئے انتھک محنت کرتے ہوئے اپنی جان کو روگ لگا بیٹھے تھے۔

قائد اعظم کی قبل از وقت وفات کی وجہ سے پاکستان اپنی ”شیر خوارگی “ میںہی یتیم ہوگیا ، چنانچہ اس کا ریاستی ڈھانچہ بہت سی خامیوں اور کمزوریوںکی وجہ سے قدرتی نشوو نما نہ پا سکا۔ اس کے بعد یہ ملک اپنی راہ گم کر بیٹھا اور سیاسی افراتفری اور نظریاتی کشمکش کا شکار ہو گیا۔ دولخت ہونے کے سانحہ کے ساتھ ہی حقیقی پاکستان غائب ہو گیا اور جو حصہ باقی رہا ، اس میں اقتدار اور طاقت کے لئے چھینا جھپٹی شروع ہو گئی۔ قائد کے پاکستان کا بے رحمی سے خون پینے کے لیے ایک طر ف سول اور فوجی حکمرانوں اور دوسری طرف لبرل اور مذہبی رہنماﺅں میں رسہ کشی اقتدار کے ایوانوں کا انمٹ نقش بن کر رہ گئی۔ اس لوٹ مار کے ماحول میں پاکستان میں آئین کی بالا دستی اور اداروں کی مضبوطی پر مبنی جمہوری عمل پنپ ہی نہ سکا۔ اس کے نتیجے میں اداروں کی ترقی کے عمل کو شدید دھچکا لگا۔ اب قوم گزشتہ 65 برسوںسے ایک گرداب میں پھنسی ہوئی ہے ،جبکہ جمہوریت ، قانون کی حکمرانی اور اچھا حکومتی نظم نسق اس ملک میں ڈھونڈھے سے بھی نہیں ملتے۔ آج حال یہ ہے کہ چاہے حکمران ٹولہ ہو یا عوام، دونوں اپنی اپنی کوتاہیوں پر پچھتاتے نظر نہیں آتے ۔ کوئی ناوک ِ خلش ہمارے جگر کے پار نہیںہوتا ہے ذرا دیکھیںکتنی آسانی سے ہم نے سقوط ڈھاکہ کا زخم بھلا دیا۔ کسی بھی ملک کا دولخت ہو جانا، اس کے لئے بدترین سانحہ ہو سکتا ہے ، مگر یہ ہمارے ہاںکبھی بھی قومی مسئلہ بنا ہی نہیں، کیونکہ ہم دیگر مسائل میں خود کو بری طرح الجھا بیٹھے۔ ہم اپنے حقیقی مسائل سے صرف ِ نظر کرنے میں ماہر ہو چکے ہیں۔

ذہانت اور کردارکی مضبوطی اور دیگر خداداد صلاحیتوںکے علاوہ قائد اپنے وقت سے آگے دیکھنے کی بصیرت سے بھی مالا مال تھے۔ 14 جون 1948ءکو سٹاف کالج کوئٹہ میں فوجی افسران سے خطاب فرماتے ہوئے قائد ِ اعظم نے انہیں اُن کی آئینی ذمہ داریوںکا احساس دلایا ۔انہوںنے مسلح افواج کے افسران کو خبر دار کیا کہ وہ کبھی بھی ملکی سیاست میں نہ الجھیں، تاہم ہمارے ہاں حلف سے انحراف اور فوجی مداخلت کی طویل داستانیں ہیں۔اپنی زندگی کے آخری سال آپ نے ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد قانون ساز، فوجی افسران، سرکاری ملازم، اساتذہ، طلبہ، کاروباری افراد، مزدور، وکلاءوغیرہ سے خطاب فرمایا اور پاکستان کو ایک جدید فلاحی مملکت بنانے کے لئے انہیں رہنما اصول دیئے۔ قائد نے ان پر دوٹوک الفاظ میں واضح کر دیا کہ ریاست ان سے کس طرز ِ عمل کی توقع رکھتی ہے ۔

11 اگست 1947ءکو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے اپنے تاریخی خطاب کے دوران قائد اعظم نے اراکین ِ اسمبلی پر واضح کر دیا کہ اُن پر مستقبل کے لئے آئین ِ پاکستان کی تشکیل کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ،تاہم ہمارے سیاست دانوں نے پہلا دستور بنانے میں نو سال لگا دیئے.... (پاکستان کا پہلا آئین 1956ءمیں بنا).... مگر یہ تین سال بھی نہ چلا ۔ اس کے بعد ہم نے دو آئین دیکھے ہیں ایک 1962 ءمیں ایک فیلڈ مارشل نے نافذ کیا اور دوسراایک ”منتخب “ گروہ ، جن کے پاس اصولی طور پر آئین سازی کا مینڈیٹ تھا ہی نہیں، نے تشکیل دیا ،مگرا یسا کرتے ہوئے انہوںنے پارلیمانی جمود پیدا کر دیا جس کے نتیجے میں 1971ءمیں ملک دو لخت ہو گیا۔ 1973ءسے بنائے گئے آئین میں تقریباًبیس ترامیم ہو چکی ہیں اور اب تک اس کا اصل ڈھانچہ ان ترامیم کے پردے میں گم ہو چکا ہے ۔ آج یہ 1973 ءکا آئین ہر گز نہیںہے۔

حضرت قائداعظمؒ نے اپنے 11 اگست 1947ءکے خطاب میں آنے والی حکومتوں اور قانون سازوں کی اُس حوالے سے رہنمائی بھی کی جو آنے والے زمانے میں ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بننے والا تھا۔ انہوںنے فرمایا ”ایک حکومت کا سب سے اولین فریضہ امن و امان قائم رکھنا اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے “۔ قائد نے آنے والے حکمرانوںکو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ رشوت، بدعنوانی، چور بازاری، اقربا پروری اور کام چوری سے خبردار رہیں اور ان برائیوںکو آہنی ہاتھوںسے کچل دیں۔ آج ہم نے نہ صرف ان سنہرے حروف کو نظر انداز کر دیا ہے ، بلکہ اس کے برعکس ، یہ برائیاں ہماری سماجی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ آج جرائم اور بدعنوانی نے اس دھرتی کا چہرہ مسخ کر دیا ہے ۔ دنیا کے کسی اور ملک میں اوپر کی سطح پر قرضے معاف کرالینے والوں اور قومی خزانے کو لوٹنے والوں کو اس طرح معاف کرنے کا رواج نہیں ملتا۔ آج پاکستان لٹیروں، دھوکے بازوں، قاتلوں اور ناجائز منافع خوروںکی محفوظ جنت بن چکا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیںکہ بدنام ِ زمانہ این آر او کے دم قدم سے ملک میں لاقانونیت کی حکمرانی ہے ۔ آج پارلیمان میں قانون سازی مفاد ِ عامہ کی بجائے مراعات یافتہ طبقے کے مفادات کو تحفظ دینے کے لئے کی جاتی ہے ۔

محمد علی جناح مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی پر یقین رکھتے تھے۔ آپ نے قوم پر زور دیا کہ وہ فرقہ واریت کو ترک کر دے، مگر ہمارا طرز ِ عمل قائد کے فرامین کی نفی کرتا ہے ۔ آج ہمارے ہاں پائی جانے والی مذہبی انتہا پسندی ، تنگ نظری اور عدم برداشت کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ پُر تشدد فرقہ واریت نے معاشرے کا شیرازہ بکھیر دیا ہے ۔ دہشت گردی نے ہمیں تباہی کے دہانے پر لا کھڑ ا کیا ہے ۔ آج اگر قائد دیکھتے کہ ہم خانہ جنگی کی آگ میں کس طرح خود کو خاکستر کر رہے ہیں تو انہیں کتنی تکلیف ہوتی ۔ ہما رے قائد نے ہمیں تین رہنما اصول دیئے تھے اتحاد ، تنظیم اور ایمان .... تاہم ہمیں اپنی قومی زندگی میں ان کا کوئی ”مصرف “ نظر نہ آیا، اس لئے ہم نے ان کو بہت دیر سے دیس نکالا دے رکھا ہے ۔ درحقیقت ہم کسی بھی اصول پر عمل کرنے کے روادار نہیںہےںاور ، جہاںتک قانون کی حکمرانی کا تعلق ہے ، تو اس کا ہمارے ہاںکوئی کام ہی نہیں۔ سب سے بدتر بات یہ ہے کہ ہمارے اندر اتنی اخلاقی جرات بھی نہیںہے کہ ہم تسلیم کر لیں کہ ہمارے یہ معاملات غلط ہیں۔ ہم نے جس ڈھٹائی سے قائد کے ایک جدید ریاست کے تصور کو اپنی مفاد پرستی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے ، اس پر ہمیںکوئی پچھتاوا نہیںہے۔ افسوس، قائد اپنی بے مثال بصیرت کے باوجود ہمیںنہ پہچان سکے۔    ٭

مزید : کالم