امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں طالبان کا کردار؟

امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں طالبان کا کردار؟

افغانستان میں طالبان کے رہنما ملا عمر نے کہا ہے کہ 2014ءمیں نیٹو فورسز کے انخلا کے بعد وہ افغانستان کی حکومت میں شراکت چاہتے ہیں، عیدالفطر کے موقع پر سات صفحات پر مشتمل اپنے پیغام میں ملا عمر نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں امریکہ کے ساتھ جو مذاکرات کئے تھے وہ ان کی حکمت عملی کا ایک حصہ تھا، مذاکرات کا مقصد اپنے اہداف کو ترک کرنا نہیں تھا، انہوں نے طالبان سے کہا کہ کارروائیوں میں ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے کہ شہریوں کا جانی و مالی نقصان نہ ہو۔

امریکہ نے نائن الیون کے ٹھیک ایک ماہ کے بعد افغانستان پر فضائی حملہ کر دیا تھا اور ڈیزی کٹر بموں سے کارپٹ بمباری کر کے افغانستان کے پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر دیا تھا۔ اس طرح افغانستان سے طالبان کی حکومت تو ختم ہو گئی اور اس کی جگہ حامد کرزئی کی حکومت قائم ہو گئی لیکن طالبان افغان معاشرے میں گھل مل گئے، ظاہر ہے افغانستان ان کا وطن تھا وہ کسی دوسرے ملک بھی نہیں جا سکتے تھے، طالبان نے اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد دوبارہ اپنی صفوں کو ترتیب دیا اور افغانستان پر قابض افواج کو اپنے ملک سے نکالنے کے لئے کارروائیاں شروع کردیںاگرچہ تاحال انہیں اس سلسلے میں پوری طرح کامیابی تو نہیں ہوئی لیکن طالبان نے امریکہ اور ایساف کی لاکھوں کی فوج کو افغانستان میں پور ی طرح قدم جمانے نہیں دیئے، اب نیٹو افواج نے 2014ءتک افغانستان سے انخلا کا اعلان کر رکھا ہے تو یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ کیا امریکہ نے افغانستان آمد کے اپنے مقاصد حاصل کر لئے؟ طالبان حکومت کا خاتمہ اور اس کی جگہ اپنی حمایت یافتہ حکومت کی تشکیل کا مقصد تو امریکہ نے یقینا حاصل کر لیا لیکن بہت سے مقاصد ایسے تھے جو باوجود کوشش بسیار امریکہ کو حاصل نہیں ہو سکے، کرزئی حکومت بھی مستحکم نہیں ہو سکی اور طالبان نے اسے مختلف محاذوں پر چیلنج کر رکھا ہے، غالباً ایسے ہی چیلنجوں سے زچ ہو کر کچھ عرصہ پہلے صدر حامد کرزئی نے طالبان کو پیشکش کی تھی کہ وہ ہتھیار رکھ کر الیکشن لڑیں اور افغان حکومت میں شامل ہو جائیں۔ حال ہی میں طالبان کو قطر میں دفتر کھولنے کی اجازت دی گئی تھی اور بعض طالبان رہنماﺅں کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات بھی ہوئے تھے غالباً اسی لئے امریکی میڈیا میں ”اچھے طالبان “ کی اصطلاح بھی استعمال ہونا شروع ہوئی، اب ملا عمر نے واضح کر دیا ہے کہ طالبان نے جو مذاکرات امریکہ سے کئے تھے وہ حکمت عملی کا حصہ تھے اور ان کا مقصد اپنے موقف سے دستبردار ہونا نہیں تھا، ملا عمر کے اس بیان سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ وہ نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں افغانستان کی کرزئی حکومت تو امریکی قوت کے سہارے قائم ہے اور جب امریکہ وہاں نہیں ہو گا تو طالبان کی قوت کا مقابلہ کرنا اس کے لئے خاصا مشکل ہو گا۔ طالبان افغانستان کی حقیقت ہیں اور انہیں نظر انداز کر کے افغانستان میں کوئی مستحکم حکومت قائم نہیں ہو سکتی، طالبان میں زیادہ تر پشتون شامل ہیں جبکہ اس وقت کی حکومت میں دوسرے نسلی گروہوں کو بالادستی حاصل ہے، افغان امن کے لئے ضروری ہے کہ افغانستان میں طالبان کی سیاسی حیثیت کو تسلیم کر کے انہیں قومی دھارے میں شریک کیا جائے، ایک ایسی قوت کو نظر انداز کرنے سے جس نے افغانستان کی طویل خانہ جنگی کا خاتمہ کر کے ایک مستحکم حکومت قائم کرنے کا بظاہر ناقابل یقین کارنامہ انجام دیا تھا، افغانستان میں امن ممکن نہیں امریکہ کی نظر میں طالبان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے امریکہ کے دشمن نمبر ایک اسامہ بن لادن کو اپنے وطن سے نکالنے سے انکار کر دیا تھا، جس کی وجہ سے افغانستان پر حملہ ہوا اور طالبان حکومت ختم ہوئی، اب دیکھنا ہو گا کہ امریکہ کے جانے کے بعد طالبان کس طرح افغان حکومت اور معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں؟

مزید : اداریہ