غیر ملکی فوجی قبو ل نہیں

غیر ملکی فوجی قبو ل نہیں

آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے شمالی وزیرستان میں پاک امریکہ مشترکہ فوجی آپریشن کے حوالے سے امریکی میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ بیرونی دباﺅ پر کارروائی ہو گی نہ ہی اِس حوالے سے امریکہ کو کوئی یقین دہانی کرائی ہے۔ جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں مشترکہ آپریشن پاکستانی فوج اور عوام کے لئے قابل قبول نہیں ۔ اِن خیالات کا اظہار انہوں نے امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل میٹس سے ملاقات کے دوران کیا۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کی جانے والی پریس ریلیز کے مطابق جنرل کیانی نے جنرل میٹس کو بتایا کہ اگر وزیرستان میں آپریشن کی ضرورت پڑی تو ملک کے سیاسی اور عسکری حالات سامنے رکھتے ہوئے اِس حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا اور وقت کا انتخاب بھی پاکستان خود ہی کرے گا۔ جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ اِس معاملے میں جو بھی فیصلہ کیا گیا وہ پاکستان کے قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز میں مغربی میڈیا میں آنے والی اِن رپورٹس کی تردید کی گئی ہے کہ جنرل کیانی نے ایساف کمانڈ جنرل ایلن کو شمالی وزیرستان میں آپریشن کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اِس کے علاوہ بین الاقوامی میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی تھیں کہ جنرل ظہیر الاسلام کے دورہ ¿ امریکہ کے دوران انہوں نے مشترکہ آپریشن کے بارے میں رضا مندی ظاہر کی ہے۔ پریس ریلیز میں وضاحت کی گئی ہے کہ مشترکہ آپریشن اور ”کوآرڈی نیٹڈ ایکشن“ میں فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ”کوآرڈی نیٹڈ ایکشن“ کا مطلب ہے کہ دونوں ممالک کی افواج اپنی سرحد کے اندر آپریشن کریں اور انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کریں تاکہ دہشت گرد فرار نہ ہو سکیں،جبکہ مشترکہ آپریشن کا مطلب ہے کہ دونوں فورسز بارڈر کے ایک جانب مشترکہ کارروائی کریں، جو کہ پاکستانی فوج اور عوام کے لئے قابل قبول نہیں ۔ امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری کی جانے والی پریس ریلیز میں دونوں جرنیلوں کے درمیان مذاکرات کو کامیاب قرار دیا گیا۔

ملکی اور بین الاقوامی میڈیا میں شمالی وزیرستان میں آپریشن کے حوالے سے گزشتہ کچھ عرصے سے طرح طرح کی باتیں گردش کر رہی ہیں۔ لیون پنیٹا کے حوالے سے خبریں شائع ہو چکی ہیں کہ پاکستان جلد شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی پاکستانی اور امریکی افواج مشترکہ طور پر کریں گی۔ جمعہ کے روز جاری ہونے والے بیان میں جنرل اشفاق پرویز کیانی نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستانی سرزمین پر امریکی فوجی قبول نہیں ، لہٰذا اگر کسی کارروائی کی ضرورت ہوئی بھی تو وہ پاکستانی فوج ہی کرے گی۔ جنرل کیانی کا مو¿قف درست ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ریاست پاکستان کا تحکم قائم ہو۔ وہ عناصر جو ملکی نظام کو ماننے سے انکاری ہیں اور جو جمہوریت کی بجائے بندوق کی زبان بولنے پر یقین رکھتے ہیں، ریاست کو اُن کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کرنا چاہئے۔ کوشش کی جانی چاہئے کہ یہ مسلح جدوجہد ترک کر کے ملکی نظام کے اندر اپنے لئے جگہ بنانے کی کوشش کریں، لیکن اگر یہ اس پر رضا مند نہ ہوں تو پھر ریاست بھی مجبور ہوتی ہے کہ وہ طاقت کا استعمال کرے۔ ابھی شمالی وزیرستان میں آپریشن کے حوالے سے میڈیا پر صرف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں اور دہشت گردی کی وارداتوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ کامرہ ائر بیس کو نشانہ بنایا گیا، لیکن سیکیورٹی پر مامور اہلکار چوکس تھے، لہٰذا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ وزیر داخلہ رحمن ملک کا کہنا ہے کہ چار حملہ آوروں کی شناخت کر لی گئی ہے۔ رحمن ملک کے مطابق انہیں وزیرستان میں تربیت دی گئی تھی۔

موجودہ صورت حال سے نمٹنا آسان کام نہیں ہے۔ امریکہ ایک عرصے سے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے لئے دباﺅ ڈال رہا ہے۔ حکومتی حلقوں میں بھی یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ وزیرستان میں دہشت گردوں کو پناہ میسر ہے، لیکن ضروری ہے کہ اِس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ نہایت سوچ سمجھ کر کیا جائے۔ پاکستان کے وسائل محدود ہیں اور فوج پہلے ہی کئی محاذوں پر لڑائی لڑنے میں مصروف ہے۔ وزیرستان میں کوئی کارروائی کی جاتی ہے تو اِس کے لئے وسائل درکار ہوں گے اور کئی ہزار افراد کے بے گھر ہونے کا خطرہ بھی موجود ہو گا۔ دوسری جانب پاکستان کی معیشت بھی اِس وقت مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ امریکہ کی جانب سے”ڈو مور“ کا مطالبہ تو مسلسل کیا جاتا ہے، لیکن پاکستان کی وہ مدد نہیں کی جا رہی ، جس کی اسے ضرورت ہے۔ اتحادی سپورٹ فنڈ کے ذریعے پاکستان کو جنگ میں کئے جانے والے خرچوں کی ادائیگی کی جاتی ہے، لیکن اِس کی ادائیگی بھی بروقت نہیں اور کئی ارب ڈالر کے بلز پر امریکہ کی جانب سے آڈٹ اعتراضات لگائے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ نیٹو سپلائی بند کی گئی تو امریکہ نے اتحادی سپورٹ فنڈ کے قریباً 1.1ارب ڈالر کی ادائیگی کو نیٹو سپلائی کھولنے سے مشروط کر دیا۔ اِس صورت حال میں یہ واضح ہے کہ پاکستان کو اِس جنگ میں فیصلے اپنے وسائل اور مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کرنا ہوں گے۔ یہ جنگ امریکہ کی جانب سے پاکستان پر مسلط کی گئی اور اب حالات یہ ہیں کہ پاکستان میں ایسے عناصر موجود ہیں، جو ملکی نظام کے خلاف مسلح جدوجہد میں مصروف ہیں، ریاست پاکستان کے لئے ان سے عہدہ برآ ہونا بھی ضروری ہے کہ فوجی تنصیبات اور عوامی مقامات پر حملوں کے جواب میں محض خاموش نہیں بیٹھا جا سکتا، لیکن ضروری ہے کہ جو بھی فیصلہ کیا جائے تمام پہلوﺅں کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا جائے۔ کوشش کی جانی چاہئے کہ طاقت کے استعمال کی نوبت نہ آئے، لیکن اگر یہ راستہ اپنانا ناگزیر ہو جائے تو فیصلہ بہرحال یکسوئی سے کیا جانا چاہئے۔ اِس حوالے سے عوام، سیاست دانوں اور مذہبی رہنماﺅں کو اعتماد میں لینا چاہئے۔ معاشرے کے تمام طبقوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں اور ملکی سلامتی کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اتفاق اور اتحاد کا راستہ اپنائیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض طاقت سے نہیں جیتی جا سکتی، اس میں معاشرے کے تمام لوگوں کا کردار اہم ہے۔

مزید : اداریہ