جولین اسانج کی گرفتاری کیلئے برطانوی پولیس نے ایکواڈور کے سفارتخانے کا گھیراﺅ کر لیا

جولین اسانج کی گرفتاری کیلئے برطانوی پولیس نے ایکواڈور کے سفارتخانے کا ...

 لندن(مرزا نعیم الرحمان )برطانوی پولیس نے لندن میں قائم ایکواڈور کے سفارت خانے کو گھیرے میں لے لیا ہے، جہاں وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج نے پناہ لے رکھی ہے۔ برطانیہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اسانج کو ملک سے نکلنے کا محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا۔ ایکواڈور نے جمعرات کے روز اسانج کو سیاسی پناہ دینے کا اعلان کیا تھا۔ برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت اپنے قوانین کے تحت خود کو اس بات کا ذمہ دار سمجھتی ہے کہ اسانج کو سویڈن کے حوالے کیا جائے۔ سویڈن میں اسانج کو جنسی الزامات پر مقدمات کا سامنا ہے۔ولیم ہیگ نے لندن میں ایک پریس کانفرنس کہا، ایکواڈور کی حکومت سمیت کسی کو بھی اس حوالے سے کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ ہم پر قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ مسٹر اسانج کو سویڈن کے حوالے کیا جائے۔جولیان اسانج کی سیاسی پناہ کے معاملے پر ایکواڈور کی درخواست پر امریکی ملکوں کی تنظیم دی آرگنائزیشن آف امیریکن اسٹیٹس OAS کے وزرائے خارجہ کا ایک اجلاس 24 اگست کو طلب کر لیا گیا ہے۔ ایکواڈور کی طرف سے اس معاملے پر واشنگٹن میں قائم اس تنظیم کے ہیڈکوارٹرز میں اجلاس بلانے کی قرارداد پیش کی گئی تھی جس کے حق میں 23 ممالک نے ووٹ دیے۔ امریکا، کینیڈا اور ٹرینی ڈاڈ اینڈ ٹوباگو نے اجلاس بلانے کے خلاف ووٹ دیا۔ایکواڈور کی خواہش ہے کہ یہ تنظیم برطانیہ کی طرف سے اس کے سفارت خانے میں موجود اسانج کو زبردستی تحویل میں لینے کی دھمکی پر غور کرے۔ ایکواڈور کی طرف سے اسانج کو سیاسی پناہ دینے کے فیصلے سے ایک روز قبل لندن حکومت کی طرف سے دھمکی دی گئی تھی کہ جولیان اسانج کی گرفتاری کے لیے لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے پر چھاپہ بھی مارا جا سکتا ہے۔جولیان اسانج رواں برس جون سے لندن میں قائم کیٹو کے سفارتخانے میں پناہ لیے ہوئے ہیں تاکہ انہیں سویڈن کے حوالے نہ کیا جا سکے۔ اسانج پر سویڈن میں جنسی حملے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اسانج کا کہنا ہے کہ اسٹاک ہولم حکومت انہیں امریکا کے حوالے کر دے گی، جہاں ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اسی لیے وہ ایکوڈور میں پناہ چاہتے ہیں۔وکی لیکس ویب سائٹ کے مطابق پولیس نے لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے کا محاصرہ کر رکھا ہے، جو طاقت کے مظاہرے سے کم نہیں ہے، ''سفارتخانے کی سکیورٹی کے خلاف کوئی بھی غیر قانونی عمل یک طرفہ اور شرمناک ہو گا۔ ایسا عمل جنیوا کنونشن کی بھی خلاف ورزی ہو گا، جس میں دنیا بھر میں سفارتخانوں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

مزید : صفحہ اول