میرانشاہ میں ڈرون حملہ،6افراد جا ں بحق ،3زخمی ،ایسے حملے قبول نہیں ‘پاکستان کا احتجاج

میرانشاہ میں ڈرون حملہ،6افراد جا ں بحق ،3زخمی ،ایسے حملے قبول نہیں ‘پاکستان ...

میران شاہ (آن لائن ) شمالی وزیرستان میں عیدالفطر کے موقع پر امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں چھ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں جن کا تعلق حافظ گل بہادر گروپ سے بتایا جاتا ہے۔شمالی وزیرستان میں مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ڈرون حملہ صدر مقام میرانشاہ سے ساٹھ کلومیٹر دور تحصیل شوال کے علاقے شوئی دار غر میں ایک مکان پر کیا گیا۔ اس حملے کے نتیجے میں چھ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ جمعہ کو وزیرستان میں چاند نظر آنے کی شہادتیں موصول ہونے کے بعد ہفتے کی عید کا اعلان کیا گیا تھا۔اہلکار کے مطابق امریکی جاسوس طیارے سے دو میزائل ایک مکان پر داغے گئے جس سے مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور مکان کے اندر کھڑی وہ گاڑی جس میں جنگجو آئے تھے مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔جس جگہ ڈرون حملہ کیا گیا ہے یہ پاک افغان سرحد سے متصل شمالی اور جنوبی وزیرستان کا سرحدی علاقہ ہے۔ اس علاقے میں گھنا جنگل ہے جس میں حقانی نیٹ ورک اور پنجابی طالبان کے کئی ٹھکانے موجود ہیں۔ایک مقامی شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے سے چند منٹ پہلے حافظ گل بہادر گروپ کے جنگجوو¿ں کی ایک گاڑی اسی مکان میں داخل ہوئی جس پر بعد میں ڈرون حملہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ یہ مکان پہلے سے ان جنگجوو¿ں کے زیر استعمال تھا لیکن عید کی وجہ سے مکان میں زیادہ افراد نہیں تھے۔انہوں نے بتایا کہ ان کو یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا ہلاک ہونے والوں میں کوئی اہم شحص شامل ہے یا نہیں البتہ دھماکے کے بعد مقامی لوگوں نے تمام لاشوں کو ملبے سے نکال لیا جو مکمل طور جلھس چکیں تھیں۔واضح رہے کہ یہ ٹھکانے خصوصاً افغانستان آمدورفت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ شمالی، جنوبی وزیرستان اور افغانستان کے درمیان نقل و حرکت کے لیے بھی یہی راستہ استعمال ہوتا ہے۔اسی طرح ماضی میں بھی اس علاقے میں ڈرون حملے ہوچکے ہیں جن میں حافظ گل بہادر گروپ کے علاوہ حقانی نیٹ ورک اور پنجابی طالبان بھی مارے جا چکے ہیں۔دریں اثناءپاکستانی دفتر خارجہ نے ڈرون حملوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے حملے قبول نہیں ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ڈرون حملے پاکستان کی سا لمیت اور خود مختاری کے خلاف ہیں اس سلسلے میںامریکہ سے شدید احتجاج کیا جائیگا۔

مزید : صفحہ اول