کراچی میں خون کی ہولی ،15افراد ہلاک ڈبل سواری پر 3روز کیلئے پابندی

کراچی میں خون کی ہولی ،15افراد ہلاک ڈبل سواری پر 3روز کیلئے پابندی

کراچی (آن لائن/اے پی اے) جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب رات 12 بجے کے بعد کراچی شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور تشدد کے واقعات میں چند گھنٹوں کے دوران 10 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ فیڈرل بی ایریا میں مسجد کے باہر فائرنگ کے واقعہ کے بعد مشتعل افراد نے شارع پاکستان پر ہنگامہ آرائی کی اور کاروباربند کرا دیا، گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 15 ہوگئی۔ متاثرہ علاقوں میں کشیدگی جاری، پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق خواجہ اجمیر نگری تھانہ کی حدود نارتھ کراچی سیکٹر 5.C-4 میں غازی بابا مزار والی گلی میں مدینہ مسجد کے قریب جمعہ کی شب موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 3 افراد 25 سالہ مجاہد ولد عبدالعلیم، 25 سالہ فیضان ولد الیاس اور 30 سالہ یحییٰ جاں بحق ہوگئے، مقتولین کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا، اس واقعہ کے فوری بعد سرسید ٹاﺅن تھانہ کی حدود نارتھ کراچی سیکٹر 10 میں ڈسکو موڑ پر جمعہ کی شب مسجد قبا کے باہر ہوٹل پر بیٹھے افراد پر موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 5 افراد ظہور، شرجیل، عاطف، نوید اور شوکت ہلاک ہوگئے جن کی لاشیں عباسی شہید اسپتال پہنچائی گئیں۔ ادھر سمن اباد میں فیڈرل بی ایریا بلاک 17 میں جمعہ کی شب موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے جامع مسجد تقویٰ کے باہر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے مسجد کمیٹی کے 2 ارکان مولانا شاکراللہ اور مولانا آصف موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ دہشت گردوں نے جامع مسجد تقویٰ کے مرکزی دروازے پر لگے اسٹال پر فائرنگ کی جہاں مسجد کمیٹی کی افراد نمازیوں سے مسجد کے لئے چندہ جمع کررہے تھے، اس واقعہ کے بعد مشتعل افراد شاہراہ پاکستان پر نکل ائے اور احتجاج شروع کردیا، مظاہرین نے گاڑیوں پر پتھراﺅ کیا اور ٹائر جلائے جس سے ٹریفک معطل ہوگیا جبکہ واٹر پمپ چورنگی اور اطراف میں مارکیٹیں بند ہوگئیں، اس صورتحال کی اطلاع ملنے پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری پہنچ گئی، پولیس نے لاٹھی چارج کے بعد 12 افراد کو حراست میں لے لیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق سمن آباد، خواجہ اجمیر نگری اور سرسید ٹاﺅن میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہوئے موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اپنی شناخت کیلئے ہیلمٹ پہن رکھے تھے اور ان تینوں وارداتوں میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ دہشت گردی کے ان واقعات کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں جن میں فیڈرل بی ایریا، انچولی، نارتھ ناظم آباد، نارتھ کراچی ، نیو کراچی ، ناگن چورنگی اور دیگر علاقوں میں ہفتہ کی صبح شدید کشیدگی اور کاروبار بند رہا جبکہ کسی ناخوشگوار واقعہ اور امن وامان برقرار رکھنے کے لئے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔رات گئے ڈی جی رینجرز نے ڈسکو موڑ پر پیش آنے والے واقعے کا دورہ کیاجس کے بعد متاثرہ علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری کو تعینات کردیا گیا ہے۔ آئی جی سندھ نے فائرنگ کے تازہ واقعات کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ دوسری جانب کراچی میں سیکورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ شہر میں قتل و غارت گری کی کئی وارداتوں میں کالعدم تحریک طالبان ملوث ہے جس کی رپورٹ حساس اداروں نے مرتب کرلی ہے۔ شہرقائدایک بار پھر پرتشدد واقعات کی لپیٹ میں آگیاہے۔ٹارگٹ کلنگ معمول بن گئی ہے۔جرائم کی بیخ کنی پر مامورسیکورٹی ادارے بھی سرگرم ہیں۔سیکورٹی ذرائع نے انکشاف کیاہے کہ ٹارگٹ کلنگ کی کئی وارداتوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ طالبان سی آئی ڈی، ایس آئی یو سمیت اہم مقدمات پر کام کرنے والے اہلکاروں کو بھی نشانہ بنا چکے ہیں۔کئی وارداتوں میں ایک جیسا اسلحہ استعمال ہوا۔ حساس اداروں نے حالیہ پرتشدد واقعات کی فرانزک رپورٹ طلب کرلی ہے۔شبہ ظاہر کیا جارہا ہے حالیہ واقعات ایک ہی سلسلے کی کڑی ہے۔سیکورٹی ذرائع نے مزیدانکشاف کیاہے کہ حساس اداروں نے شہر میں تحریک طالبان پاکستان کے گروپ کی سرگرمیوں کی رپورٹ مرتب کرلی ہے۔شہرمیں دو سے تین کالعدم جماعتوں کے افراد سرگرم ہیں۔دریںاثناءکراچی میں امن و امان کے قیام کے سلسلہ میں تین روز کیلئے موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی شہر میں پیدا ہونے والی موجودہ کشیدہ صورتحال کے سبب شہر میں ڈبل سواری فوری پابندی لگاتے ہوئے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ صوبائی محکمہ داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق پابندی کا فوری اطلاق کردیا گیا ہے۔ بزرگ ،خواتین ،بچے اور پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار پابندی سے مستثنیٰ ہونگے۔دوسری طرف وزارت داخلہ سندھ نے عید کے روز دہشت گردی کاخدشہ ظاہر کرتے ہوئے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کی سیکورٹی اور مانیٹرنگ سخت کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ وزارت داخلہ سندھ کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دہشت گرد عید کے روز شہر قائد میں کارروائی کر سکتے ہیں۔ جس کی وجہ سے داخلی اور خارجی راستوں پر مانیٹرنگ اور سیکورٹی انتظامات سخت کئے جائیں۔ وزارت داخلے کی مراسلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سٹاپ کے بغیر کسی بھی مسافر بس کو راستے میں نہ رکنے دیا جائے اور احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے بس مالکان کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

مزید : صفحہ اول