عدالتوں کو حق نہیں کہ قانون سازی کو کالعدم قرار دے، لطیف کھوسہ

عدالتوں کو حق نہیں کہ قانون سازی کو کالعدم قرار دے، لطیف کھوسہ

لاہور(نمائندہ خصوصی( آئین میں ترمیم اور قانون سازی کا حق صرف پارلیمان کو حاصل ہے۔ پارلیمینٹ واحد ادارہ ہے جسے عوام اپنے حق رائے دہی کے ذریعے وجود میں لاتی ہے اور انہی کے منتخب کردہ پارلیمینٹیرین قائد عوام کو منتخب کرتی ہے ۔ عدالتوں کو حق نہیں کہ وہ پارلیمان کی طرف سے کی گئی قانون سازی کو کالعدم قرار دے۔تمام اداروں کو اپنے حدودوقیود میں رہ کر کام کرنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار گورنر پنجاب سردار محمد لطیف خاں کھوسہ نے آج گورنر ہاﺅس لاہور میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی برادری کے اعزاز میں دیئے گئے افطار ڈنر کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ تمام ادارے پارلیمینٹ کے طابع ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ پارلیمینٹ ایک ریاست کا نام ہے اور کوئی بھی شخص اپنی ریاست کے خلاف بات نہیں کر سکتا۔ اُنہوں نے کہا کہ ریاست کے خلاف بات کرنا پاکستانی عوام کے خلاف باتیں کرنا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بعض لوگ تنظیم یا تقریب میں کھلے عام پاریمان کے خلاف غلط قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ پارلیمینٹ کو بنانا یا اسے ختم کرنا صرف عوام کا حق ہے اور یہ حق ان سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ اُنہوں نے کہا کہ عدلیہ کو اپنے فیصلوں کے ذریعے بولنا چاہئے اور یہ کیا لمحہ فکریہ نہیں کہ یہ کہا جائے کہ حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسی باتیں کرنے سے عوام میں مایوسی پھیلانے کے سوا کچھ نہیں ، انہیں ایسے الفاظ بولنے سے گریز کرنا چاہئے۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ ہماری حکومت اداروں کو کمزور نہیں کرنا چاہتی بلکہ انہیں مستحکم دیکھنا چاہتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اس وقت1973ءکا متفقہ طور پر منظور کردہ آئین موجود ہے جس میں حدود وقیود بالکل واضح طور بیان کئے گئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ آئین میں صدر اور وزیر اعظم کو مکمل طور پر استثنیٰ حاصل ہے۔

مزید : صفحہ آخر