ارمی چیف کی طرف سے مشترکہ آپریشن کا مطالبہ مستر دکرنا خوش آئندہے:منور حسن

ارمی چیف کی طرف سے مشترکہ آپریشن کا مطالبہ مستر دکرنا خوش آئندہے:منور حسن

لاہور (پ ر) امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منو ر حسن نے شمالی وزیرستان میں مشترکہ آپریشن کے امریکی مطالبہ کو مسترد کرنے کے آرمی چیف کے بیان کو خوش آئند اور قومی امنگوں کا عکاس قرار دیاہے اور امید ظاہر کی ہے کہ فوج ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے دفاع کے لیے ملک دشمن عناصر کی سازشوں کو ناکام بنادے گی۔ 2014 ءتک افغانستان سے انخلا کے امریکی دعوﺅں میں قطعی کوئی حقیقت نہیں ، وہ خطے میں اپنے مستقل قیام کی راہ ہموار کررہاہے جس کا اظہار امریکی انتظامیہ کے اہلکار متعدد بار اپنے بیانات میں کر چکے ہیں ۔انہو ں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے جبکہ وزیر داخلہ خفیہ اداروں کی دہشتگردی کی وارداتوں کی قبل از وقت رپورٹوں کے باوجو د ان کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جامع مسجد منصورہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سید منورحسن نے کہاکہ نائن الیون کے بعد یورپ اور امریکہ میں اٹھنے والی اسلام دشمن وبا جس میں انہوں نے بڑے پیمانے پر قرآن پاک کو نذر آتش کیا ،قرآن پر نعوذ باللہ مقدمہ چلایا اور اسے دہشتگردی کا مجرم ٹھہرایا اور کہاکہ جب تک دنیا میں یہ کتاب موجودہے ، عالمی امن شدید خطرہ میں رہے گا ، حضور کے کارٹون اور خاکے بنا کر آپ کی شان میں گستاخی کو معمول بنا لیا ، اس کے باوجودوہاںاسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہاہے اور یہ اضافہ خواتین میں سب سے زیادہ ہے جو 65 فیصد ہے جسے روکنے میں مغرب اور یورپ بری طرح ناکام ہو چکاہے ۔ انہوں نے عید الفطر کے موقع پر قوم کے نام اپنے تہنیتی پیغام میں کہاہے کہ عید الفطر خوشی و شادمانی اور اللہ رب العزت کا شکر بجا لانے کا دن ہے ۔ یہ مبارک دن اللہ رب العزت کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے انعام و اکرام کا دن ہے جس کی بے پایاں برکتوں رحمتوں اور سعادتوں کا شمار ممکن نہیں۔سید منور حسن نے کہاکہ یہ عید ایسے وقت میں آئی ہے کہ امت مسلمہ کے زخمی بدن پر برما میں مسلمانوں کے قتل عام اور ان کے گھروں کو نذر آتش کرنے کے ایک اور گہرے زخم کا اضافہ ہو گیاہے ۔ ہم گزشتہ نصف صدی سے کشمیری اور فلسطینی مظلوم و مقہور مسلمانوں کی حالت زار پر رو رہے تھے کہ اب برما میں ہزاروں مسلمانوں کو انتہائی بے دردی سے شہید کر دیاگیاہے لیکن عالمی برادری اور عالمی امن کے ٹھیکیداروں کی طرف سے ان کے حق میں اور ان پر ہونے والے ظلم و بربریت کے خلاف آواز اور نہ مسلم امہ اور اس کے حکمرانوں کی طرف سے کوئی خاطر خواہ ردعمل سامنے آیاہے ۔ انھوں نے کہاکہ عید کے موقع پر اپنے برمی مسلمانوں کو بھی یاد رکھا جائے سید منورحسن نے کہاکہ امریکی سرپرستی میں نیٹو اتحادیوں کی خطے میں موجودگی ملکی سلامتی اور خود مختاری کے لیے انتہائی خطرناک ہے جبکہ حکمرانوں نے پارلیمنٹ کی قرار دادوں اور متفقہ قومی مطالبے کو درخور اعتنا نہ سمجھتے ہوئے نیٹو سپلائی بحال کر کے انہیں افغان بھائیوں کے قتل عام اور پاکستان کو اپنی تخریبی سرگرمیوں کا نشانہ بنانے کی کھلی چھٹی دے دی ہے ۔

مزید : صفحہ آخر