ذہنی معذور خاتون کی شادی نہیں ہو سکتی ، برطانوی جج

ذہنی معذور خاتون کی شادی نہیں ہو سکتی ، برطانوی جج

لندن(بیور ورپورٹ) ایک برطانوی جج نے مسلم خاتون کی جبری شادی کیلئے جو سیکھنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتی کہا ہے کہ اس شادی کو ختم کر دینا چاہیے اور وہ خاندان قابل مذمت ہیں جنہوں نے اس کا اہتمام کیا مسز جسٹس پارکر ان ڈاکٹروں اور سماجی کارکنوں پر بھی سخت تنقید کی جو اس بارے میں پہلے سے وارننگ جاری کرنے میں ناکام رہے جب اس خاتون کو اپنے ایک کزن کے ساتھ شادی کے لئے بنگلہ دیش بھیجا جا رہا تھا تاکہ وہ اس ذریعہ سے برطانیہ آکر سکونت اختیار کرسکے ڈیلی ٹیلیگراف کے مطابق انہوں نے کہا کہ اس شادی کی وڈیو سے پتہ چلتا ہے کہ وہ لڑکی قطعی طور پر ذہنی معذور تھی اور سمجھ سے عاری تھی اور اسے کوئی بات سمجھانے کے لئے الفاظ کو بار بار دہرانا پڑتا تھا جبکہ اس کے عزیزوں نے اس کی حالت کے بارے میں جھوٹے گمراہ کن بیانات جاری کئے انہوں نے لڑکی کے والدین کے دعوے کو مسترد کر دیا کہ اس کی شادی کو ختم کر دینے سے خاندان کی بدنامی ہوگی اٹارنی جنرل مسز جسٹس پارکر نے کہا کہ ایسی خاتون کے ساتھ شادی کرنا جو ذہنی اہلیت سے محروم ہو اس کی عزت اور وقار کے خلاف ہے اور اس سے جنسی تعلق قائم کرنا اس کی مرضی کے خلاف اس سے مجامعت کرنا ہے جج نے فیصلہ دیا کہ ایسی خاتون کی بیرون ملک شادی کو انگلینڈ میں تسلیم نہیں کیا جائے انہوں نے کہا کہ یہ اس عورت کے وسیع تر حق میں ہے کہ شادی کی تنسیخ کا حکم جاری کیا جائے عدالت کے فیصلے کے مطابق یہ خاتون ذہنی معذوری کے اس درجہ میں ہے کہ وہ روزمرہ وظائف کسی دوسرے کی مدد کے بغیر انجام نہیں دے سکتی لڑکی کی شادی دوہزار تین میں بنگلہ دیش میں اپنے ایک کزن سے ہوئی اور اس کے شوہر نے دو ناکام کوششوں کے بعد سپاونسز ویزا حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔

مزید : صفحہ آخر