کراچی میں عید کی خوشیوں کو دھندلانے کی سازش کی جارہی ہے

کراچی میں عید کی خوشیوں کو دھندلانے کی سازش کی جارہی ہے

کراچی (آن لائن)آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے شہر میں گذشتہ دو روز سے جاری بدامنی کے واقعات پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے دہشت گردی ، قتل و غارتگری، کشیدگی اور خوف و ہراس کی حالیہ لہر مارکیٹوں میں رواں سال عید کی خریداری کا حوصلہ افزاءسلسلہ عید سے قبل روکنے کی کوششوں کا حصہ ہے ، معیشت کے دشمنوں کو کراچی کی رونقیں اور کاروباری بحالی پسند نہیں آئی، عیدالفطر کے موقع پر حالات کی خرابی کے ذمے دار شہریوں اور ان کے معصوم بچوں کی خوشیوں کا قتل کررہے ہیں، کراچی میں دنیا کے سب سے بڑے عید تہوار کی خوشیوں کو دھندلانے کی سازش کی جارہی ہے ، شہر کی مختلف مارکیٹوں کا دورہ کرنے کے بعد جاری کئے گئے ایک بیان میں عتیق میر نے کہا کہ گذشتہ دو روز کی بدامنی نے بیشتر بازاروں کو ویران کردیا ہے ، پُرامن حالات اور خوشیوں کے لمحات کیلئے ترسے ہوئے شہری خوف و ہراس کا شکار ہوگئے ہیں اور موجودہ صورتحال میں بال بچوں کے ہمراہ بازاروں میں آنے سے خوفزدہ ہیں ، بدامنی کا حالیہ قابلِ افسوس سلسلہ جاری رہا تو شہریوں کی چاند رات میں خریداری اور رونقوں سے لطف اندوز ہونے کی روایت کو دھچکا لگ سکتا ہے ، انھوں نے کہا کہ عید سیل سیزن کے حوالے سے تاجروں نے بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا ہے ، گذشتہ 20روز کے دوران کاروباری مراکز 15/15گھنٹے متواتر کھلے رہے ، شہر کی بعض مارکیٹوں میں رعائتی سیل اور عید کی خوشی میں خواتین کیلئے مہندی اور چوڑیوں کے تحائف کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے تاکہ عوام عید کی شاپنگ کا بھرپور لطف اٹھاسکیں، انھوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال کی بہ نسبت رواں سال رمضان المبارک میں امن و امان کی بہتر صورتحال کے باعث بازاروں میں عید کی خریداری تسلی بخش رہی تھی۔، تاجروں نے انفرادی اور اجتماعی طور پر تجارتی مراکز اور دکانوں کو سجا کر شہر کی رونقیں بحال کردیں جس کے نتیجے میں اوائلِ رمضان سے ہی بازاروں میں گہما گہمی شروع ہوگئی، عید کی شاپنگ کا تخمینہ 40ارب روپے سے زائد رہا جوکہ گذشتہ پانچ سال کے دوران بہترین ریکارڈ ہے ، انھوں نے کہا کہ عید پر ریڈی میڈ گارمنٹس، کپڑوں پر کڑھائی، جوتے، ہوزری، چوڑیاں، کاسمیٹکس ، آرائش کا سامان، کارپٹ ، خواتین کے پرس،مہندی، پردے ، مختلف اقسام کا کپڑا،کھلونے، کراکری، آرٹیفیشل جیولری اور دیگر سامان کے علاوہ دیگر اقسام کا کاروبار شدید مندی کا شکار رہا اور عوام کی زیدہ تر توجہ عید کی تیاریوں پر مرکوز رہی، انھوں نے پولیس اور رینجرز کے افسرانِ اعلیٰ سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ بدامنی کے مزید واقعات کی روک تھام کیلئے بھرپور کوششیں کی جائیں، شہر کے تمام تجارتی مراکز پر فی الفور خصوصی حفاظتی انتظامات کیئے جائیں اور خوف و ہراس کی موجودہ صورتحال کا خاتمہ کیا جائے تاکہ شہریوں کو اپنا مذہبی تہوار بھرپور خوشیوں کے ساتھ منانے کا موقع میّسر آسکے۔

مزید : کامرس