آل پارٹیز سکھ کوآرڈی نیشن کمیٹی کی طرف سے سانحہ چھٹی سنگھ پورہ کی دوبارہ تحقیقات کا مطالبہ

آل پارٹیز سکھ کوآرڈی نیشن کمیٹی کی طرف سے سانحہ چھٹی سنگھ پورہ کی دوبارہ ...

سرینگر(اے پی پی )مقبوضہ کشمیر میںآل پارٹیز سکھ کوآرڈینیشن کمیٹی نے سانحہ چھٹی سنگھ پورہ کی دوبارہ غیر جانبدرانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کمیٹی کے اراکین نے سرینگر میںسکھوں کی ایک پریس کانفرنسسے خطاب کرتے ہوئے سانحہ چھٹی سنگھ پورہ پر کٹھ پتلی انتظامیہ کی خاموشی کو مجرمانہ قراردیا ۔ آل پارٹیز سکھ کوآرڈینیشن کمیٹی کے چیئرمین جگموہن سنگھ رینا نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تحقیقاتی اداروں نے پتھری بل مقابلے کو جعلی قراردیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ چھٹی سنگھ پورہ ا ور پتھری بل دونوں سانحات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں لہذا کٹھ پتلی انتظامیہ کو اس سانحے کی بھی دوبارہ غیر جانبدرانہ تحقیقات کرانی چاہیے۔ واضح رہے کہ 20مارچ2000کی شام کو بھارتی فوج کی وردیوں میں ملبوس نامعلوم مسلح افراد نے چھٹی سنگھ پورہ گاﺅں میں بچوں سمیت35سکھوں کو قتل کر دیا تھااور یہ سانحہ اس وقت پیش آیاجب اسوقت کے امریکی صدر بل کلنٹن بھارت کے دورے پر تھے ۔قتل عام کے پانچ دن بعد فوجیوںنے پتھری بل گاﺅں میں سات افراد کو غیرملکی عسکریت پسند قراردیتے ہوئے قتل کر دیا تھا۔تاہم بعد میں سی بی آئی کی تحقیقات میں سانحہ پتھری بل میں مقابلے کو جعلی قراردیتے ہوئے قتل ہونے والے تمام افراد کو بے گناہ شہری قرردیا گیا تھا ۔ متعدد سکھ تنظیمیں اور بزرگ کشمیری حریت رہنماءسید علی گیلانی بھی سانحہ چھٹی سنگھ پوہ کی کسی بین الاقوامی ادار ے سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر چکے ہیں ۔کانفرنس سے سکھ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر کرنیل سنگھ ، اکالی دل کے لیڈر جوگیندر سنگھ شان ، ہرچندر سنگھ خالصہ ، دلمگ سنگھ اور دیگر نے خطاب کیا۔

مزید : عالمی منظر