آسٹریلیا:غیر قانونی تارکین وطن کے قانون کی منظوری پر عوام کاملاجلااظہار

آسٹریلیا:غیر قانونی تارکین وطن کے قانون کی منظوری پر عوام کاملاجلااظہار

سڈنی (اے پی پی) آسٹریلوی پارلیمنٹ میں غیر قانونی تارکین وطن کو دوسرے ممالک منتقل کرنے کے قانون کی منظوری پر عوام کی طرف سے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔نئے آسٹریلوی قانون پر اعتراض کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس کے نفاذ کے بعد غیر قانونی تارکین وطن کو دوسرے ملکوں میں اس مقصد کے لیے بنائے گئے کیمپوں میں زندگی گزارنا پڑے گی۔ دوسری جانب آسٹریلوی حکومت کا خیال ہے کہ اس قانون سے سمندر برد ہونے والے افراد کی زندگیاں بچائی جا سکیں گی۔اس قانون کے اطلاق کے بعد غیرقانونی تارکین وطن کو پاپوا نیو گنی یا ایک چھوٹے سے کم آبادی والے جزیرے ناو¿رو منتقل کر دیا جائے گا۔ آسٹریلیا کی دائیں بازو کی مرکزی سیاسی جماعت کے لیڈر ٹونی ایبٹ غیرقانونی تارکین وطن کی کشتیوں کو بحرالکاہل کے بیچوں بیچ واقع چھوٹی سسے ملک ناو¿ر±و میں پابند کروا کر رجسٹریشن اور ابتدائی معاملات کو طے کرنے کا پہلے ہی مطالبہ کررہے تھے۔ آسٹریلیا کی حکمران لیبر پارٹی کے سینیٹر گیون مارشل کا کہنا ہے کہ وہ ایمانداری کے ساتھ یہ کہنے سے قاصر ہیں کہ نئی قانون سازی کس انداز میں پارٹی کے سوشل جسٹس، رحمدلی اور شفافیت جیسے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہو سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں قانون سازی کے اپوزیشن پیش کردہ تمام ترامیم بشمول غیر قانونی تارکین وطن کے لیے انسانی حقوق کے تحفظ کو بھی مسترد کر دیا تھا۔قانون سازی کے بعد حکومت نے فوری طور پر پاپوا نیوگنی اور ناو¿رو میں پہلے سے قائم ویران کیمپوں کے معائنے کے لیے ایڈوانس پارٹیاں روانہ کر دی ہیں۔ ان مقامات پر غیرقانونی تارکین وطن کو خیموں میں رکھا جائے گا۔ نئی قانون سازی پر انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے تنقید بھی کی ہے۔ ان کے مطابق سمندری راستے سے پہنچنے والے غیر قانونی تارکین وطن سمندر کے بیچوں بیچ جزائر پر مشتمل ملکوں میں قائم کیمپوں میں رکھے جائیں گے جبکہ بذریعہ ہوائی جہاز پہنچ کر پناہ کی درخواست کرنے والے آسٹریلیا میں پابند کئے جائیں گے۔امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے بھی اس قانون سازی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکومت کی تارکین وطن سے متعلق پالیسی میں بڑی تبدیلی ہے۔ انسانی حقوق کے آسٹریلوی کمیشن کی سربراہ گیلین ٹرگز نے بھی نئے قانون پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔آسٹریلوی وزیر اعظم جولیا گیلارڈ کی حکومت کو رواں برس انتہائی زیادہ تعداد میں غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کا سامنا ہے۔ بیشر کا تعلق سری لنکا، افغانستان اور عراق سے ہے جو مشرق بعید کے ملکوں سے آسٹریلیا پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رواں برس 72 سے زائد کشتیاں آسٹریلیا پہنچنے میں کامیاب ہوئیں، جن پر پانچ ہزار 242 سے زائد غیرقانونی تارکین وطن سوار تھے۔ 2010 کے انتخابات میں بھی غیرقانونی تارکین وطن کا معاملہ انتہائی اہم تھا اور اگلے انتخابات میں بھی قانون سازی کے باوجود یہ معاملہ اہم ہو سکتا ہے۔

مزید : عالمی منظر