خاموش مجاہد

خاموش مجاہد
خاموش مجاہد

  

17 اگست 1988ء کو بہت کم لوگ جنرل اختر عبدالرحمن کو جانتے تھے۔ اس سے بھی کم لوگ تھے، جو یہ جانتے تھے کہ وہی سوویت یونین کے خلاف افغان جدوجہد کے حقیقی معمار ہیں۔ لیکن17 اگست کے فوراً بعد جنرل اختر عبدالرحمن کی فوجی شخصیت کچھ اس طرح ابھر کے سامنے آئی کہ دنیا مبہوت ہو کر رہ گئی۔ آج جنرل اختر عبدالرحمن دنیا کے عسکری حلقوں میں ایک ایسے تنہا جنرل کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں، جس نے دنیا کی دوسری بڑی سپر طاقت کو دنیا سے نابود کر دیا۔ جنرل اختر عبدالرحمن نے زندگی میں اپنے آپ کو بہت پس منظر میں رکھا۔ظاہراً اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے کام میں رازداری کی اہمیت کسی بھی دوسرے کام سے زیادہ تھی۔

گورنمنٹ کالج سے ایم اے کرنے کے بعد قیام پاکستان سے کچھ پہلے فروری1947ء میں انہوں نے فوج میں کمیشن لیا۔ ان کا شمار ان فوجی افسروں میں ہوتا ہے جنہوں نے تینوں پاک بھارت جنگوں میں حصہ لیا ہے۔ ان کے فوجی کیرئیر کا اہم ترین دور مگر1979ء سے 1987ء تک ہے، جب وہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے چیف تھے۔ اس عرصہ میں، جہاں انہوں نے اپنی پیشہ وارانہ مہارت سے آئی ایس آئی کو دنیا کی طاقت ور ترین خفیہ ایجنسیوں کی صف میں کھڑا کر دیا، وہاں بحیثیت آئی ایس آئی چیف ایسی فوجی حکمت عملی وضع کی، جس کے نتیجے میں سوویت فوجوں کو افغانستان سے انتہائی ذلت آمیز طریقے سے نکلنا پڑا۔

جنرل اختر عبدالرحمن کا بحیثیت آئی ایس آئی چیف کمال یہ تھا کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ساتھ مشترکہ طور پر آپریشنزکرنے کے باوجود انہوں نے سی آئی اے کے افسروں اور اہل کاروں کو افغانستان کے اندر جانے اور براہ راست افغان مزاحمتی گروپوں سے رابطہ کرنے کی اجازت نہ دی۔ یہ اعتراف بروس رائیڈل نے اپنی نئی کتاب۔What we won: America's Secret War in Afghanistan میں اس طرح کیا ہے: Agency suffered no casualties because no CIA officers ever operated inside the country (سوویت یونین کے خلاف جنگ میں ہمارا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، کیوں کہ کسی سی آئی اے اہل کارنے کبھی افغانستان کے اندر جا کے اپریٹ نہیں کیا۔) اس کتاب میں بروس رائیڈل نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ یہ جنگ مکمل طور پر آئی ایس آئی کی رہ نمائی میں لڑی گئی ۔

The ISI, Pakistan's intelligence service provided the leadership, tactics and strategy for the mujahideen. The principle risks and sacrifices were taken by the people of Afghanistan and Pakistan (یہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی تھی، جس نے ( سوویت یونین) کے خلاف افغان مجاہدین کو قیادت، تربیت اور حکمت عملی مہیا کی، اور یہ افغان عوام اور پاکستان ہی تھے، جنہوں نے اس عظیم جنگ کا تمام تر خطرہ مول لیا اور قربانیاں دی تھیں)

بطور آئی ایس آئی چیف جنرل اختر عبدلرحمن کا کمال یہ بھی تھا کہ انہوں نے افغان مزاحمتی تنظیموں کے لیے اسلحہ کی ترسیل اور تقسیم کا نظام اتنا صاف اور شفاف بنایا کہ کسی تنظیم کو کسی دوسری تنظیم سے کوئی شکایت نہیں ہو سکتی تھی۔ پھر یہ جنرل اختر عبدالرحمن ہی تھے۔ جنہوں نے امریکی حکام کو اس پر آمادہ کیا کہ وہ افغان مزاحمتی تنظیموں کو سٹنگر میزائیل مہیا کریں، تاکہ وہ سو ویت فوجوں کے فضائی حملوں کا مؤثر طور پر مقابلہ کر سکیں۔ جنرل اختر عبدالرحمن کا افغان مزاحمتی تنظیموں کو سٹنگر میزائیل مہیا کرنے کا فیصلہ افغان جنگ میں فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ حقیقتاً اس نے جنگ کا پلڑا افغان تنظیموں کے حق میں کر دیا۔ افغانستان میں سوویت فوجوں کے قدم اکھڑ چکے تھے، جب امریکیوں نے یہ کوشش شروع کر دی کہ جنرل اختر عبدالرحمن کو آئی ایس آئی کی سربراہی سے علیحدہ کرا دیا جائے۔ کہا جاتا ہے امریکی سمجھتے تھے، وہ سوویت یونین کی محفوظ واپسی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اب جبکہ سوویت یونین کے خلاف جنگ کامیاب ہو چکی ہے،اس کا کریڈٹ سارے کا سارا جنرل اختر عبدالرحمن اور آئی ایس آئی کو نہ لینے دیا جائے۔

جنرل ضیاء الحق چونکہ جنرل اختر عبدالرحمن کی خدمات کے دل سے معترف تھے، لہٰذا انہوں نے ان کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف مقرر کر دیا۔ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ ان کے اس عہدے پر تعینات ہونے سے اس عہدے کی طاقت اور اہمیت میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا۔ جنرل اختر عبدالرحمن بظاہر آئی ایس آئی چیف کے عہدے سے الگ ہو گئے، لیکن اس کے بعد بھی حقیقتاً وہی افغان جنگ کے امور دیکھ رہے تھے۔ چنانچہ جب محمد خان جونیجو کی حکومت نے امریکیوں کی خوشنودی کے لئے معاہدہ جینوا پر دستخط کرنے میں عجلت ظاہر کی، تو جنرل اختر عبدالرحمن نے اس کی مخالفت کی اور اسے افغان جنگ کے ثمرات کو ضائع کرنے کے مترادف قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا، پاکستان کو معاہدہ جینوا پر دستخط کرنے میں عجلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ معاہدہ جینوا پر دستخط کرنے سے پہلے امریکا اور روس سے افغانستان میں مستحکم حکومت کے قیام کا مطالبہ بہر صورت منوانا چاہیے، بصورت دیگر افغانستان میں خانہ جنگی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ جنرل ضیاء الحق کی رائے بھی یہی تھی۔ یہ حقیقت ہے کہ جینوا سمجھوتے پر جونیجو، ضیاء الحق اختلاف ہی جونیجو حکومت کے خاتمہ کا سبب بنا یہ الگ بات ہے کہ جنرل اختر عبدالرحمن کو جونیجو حکومت کے خاتمے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

جنرل اختر عبدالرحمن پروفیشنل سولجر تھے۔ وہ چاہتے تھے ۔ تو آئی ایس آئی چیف کے طور پر اپنے کام کو اپنی شہرت کا ذریعہ بنا سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا، لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ خوشبو کو قید نہیں کیا سکتا ہے۔17 اگست1988ء ان کی شہادت کے بعد ان کے نام اور ان کے کام کی خوشبو اس طرح چار دانگ عالم میں پھیلی کہ پورا عالم ششدرہ گیا۔ آج عسکری حلقوں میں جنرل اختر عبدالرحمن ایک ایسے دیو مالائی جنرل کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ جنہوں نے جنگ افغانستان میں دنیا کی دوسری بڑی سپر پاور کا غرور اس طرح خاک میں ملایا کہ سپر پاور کے طور پر اس کا نام اب صرف تاریخ کی کتابوں میں رہ گیا ہے۔

مزید :

کالم -