جنرل حمید گل کی یاد میں

جنرل حمید گل کی یاد میں
 جنرل حمید گل کی یاد میں

  

جنرل حمید گل اللہ کو پیارے ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون!پاک فوج کے وہ قابلِ فخر، بلکہ ناقابلِ فراموش جنرل تھے، وہ ایک ایسے مسلمان سپاہی تھے، جو اسلام اور پاکستان کی خدمت میں ایک شاندار، بلکہ بے مثال کردار ادا کر گئے ہیں، ان کی ذہانت، دیانت اور ہمت و جرأت مسلمان سپاہی کے لئے ایک نمونہ بنے بلکہ قابلِ رشک مثال چھوڑ گئے ہیں۔مجھے ان کی وفات سے بہت دُکھ ہوا ہے، ایک تو اس لئے کہ وہ ایک دانشور سپاہی تھے، اُن کی گفتگو، اُن کی تقاریر اور ان کے بیانات حالات کو سمجھنے اور واقعات کو پرکھنے میں بڑی مدد دیتے تھے، دوسرے وہ میرے ایک مہربان دوست اور ہمدرد تھے، ان کی دوستی اور ان کی ہمدردیاں میرا ایک ناقابلِ فراموش سرمایہ ہے جو ہمیشہ میرے لئے سکون،رہنمائی اور حوصلہ افزائی کا سامان رہے گا۔ وہ ایک محب وطن پاکستان تھے، پاکستان کے تحفظ اور دفاع کے لئے ان کی آرا اور کوششیں پاکستانی قوم کبھی نہیں بھول سکتی، ان کے لئے اول و آخر صرف پاکستان کا تحفظ اور دفاع تھا،وہ جہاں محب وطن پاکستانیوں کے لئے رہنمائی اورحوصلہ مندی کا سرچشمہ تھے، وہاں پاکستان دشمنوں کے لئے ننگی تلوار تھے۔ ایسے سپاہی اور ایسے جنرل ہمیشہ پاک فوج کی عزت واحترام کا وسیلہ رہیں گے! سیاست، حکومت اور خدمت قوم کا صحیح فہم اور جذبہ رکھتے تھے، مگر اکثر دوست احباب کے اصرار کے باوجود عملی سیاست میں آنے سے اجتناب کرتے رہے۔

مَیں نے انہیں بہت قریب سے دیکھا ہے، وہ ایک مخلص اور صاف گو انسان تھے، ان کی باتیں بڑی دلچسپ اور مفید ہونے کے ساتھ ساتھ کھری اور اثر انگیز بھی ہوتی تھیں۔ان سے میری پہلی ملاقات ہمارے بزرگ دوست مرحوم نسیم حجازی کے ہاں راولپنڈی میں ہوئی تھی۔ یہ1977ء کی بات ہے، میں حجازی صاحب کے ناول ’’محمد بن قاسم‘‘ کے عربی ترجمہ سے فارغ ہو چکا تھا، کتاب کا پہلا عربی ایڈیشن قومی کتب خانہ لاہور نے چھاپا تھا اور ان کا دعویٰ تھا کہ یہ اُردو کا پہلا ناول ہے، جو عربی میں دُنیا کے سامنے آیا ہے! اس وقت مَیں حجازی صاحب کے دوسرے ناول قیصر و کسریٰ کا عربی ترجمہ کر رہا تھا، جس کے لئے مجھے اکیڈمی ادبیات پاکستان نے پابند کیا تھا، مگر ایک عرب ادیب سے نظرثانی کے باوجود اسے چھاپنے کے لئے پس و پیش سے کام لیا جا رہا تھا۔ حجازی صاحب بھی فکر مند تھے، مگر آج تک اسے چھاپا نہیں گیا۔ (غالباً اس لئے کہ حجازی مرحوم نے اپنے ناولوں کا موضوع اسلامی تاریخ اور تعلیم و تربیت کو بنایا ہے) اب اسے ایک عرب مُلک کا سرکاری مطبوعاتی ادارہ چھاپ رہا ہے!

ایک روز حجازی صاحب سے ملنے گیا تو انہیں بتایا کہ مَیں اگلے ہفتے ایک سرکاری میٹنگ کے لئے ملتان یونیورسٹی جا رہا ہوں، تو حجازی صاحب نے جنرل حمید گل صاحب کے نام ایک خط دیا، جو اس وقت وہاں کور کمانڈر تھے اور کہا کہ تم جنرل صاحب سے ملنا اور یہ خط دے کر تاکید کرنا کہ وہ اکیڈمی سے بات کریں، مگر اگلے ہی روز جنرل صاحب کا تبادلہ ہو گیا اور وہ خط میرے پاس ہی رہ گیا، پھر حجازی صاحب کی وفات کے بعد کچھ یاد نہ رہا۔ یہاں تک کہ چند سال پہلے ایک شادی کے موقع پر سرگودھا میں ان سے ملاقات ہو گئی، تو مَیں نے شرمندگی کے ساتھ جنرل صاحب کو اس خط کی روداد سنائی تو مسکرائے ۔پھر افسوس کا اظہار کیا کہ اب کیا ہو سکتا ہے۔ ان کا بیٹا عبداللہ گل بھی ان کے ہمراہ تھا، مگر یہ بھی عجیب بات ہے کہ کاتب خط اور مکتوب الیہ دونوں اس دُنیا سے کوچ کر گئے ہیں، مگر مَیں نالائق ڈاکیہ خط کے ساتھ آج بھی زندہ ہوں، چالیس سال گزر جانے کے باجوجود قیصر و کسریٰ کا عربی ترجمہ آج تک شائع نہیں ہو سکا، حالانکہ محمد بن قاسم کے تین ایڈیشن آ چکے ہیں! قیصر و کسریٰ کا عربی ترجمہ اصل میں تو اکیڈمی ادبیات نے کروایا تھا، اس لئے اس کی اشاعت بھی اسی کے ذمہ تھی ،مگر۔۔۔؟

مرحوم و مغفور جنرل حمید گل کی بے شمار ملی و دینی خدمات میں سے ایک کمیونسٹ سوویت روس کی افغانستان پر جارحیت کے خلاف افغان بھائیوں کی مدد اور رہنمائی ہے، جو ان کے تمام کارناموں پر بھاری ہے۔وہ نہ ہوتے یا ہمارے جنرل اختر عبدالرحمن نہ ہوتے تو روس گرم پانیوں تک پہنچ گیا ہوتا، مگر افغان مجاہدین نے ہمارے ان جرنیلوں کی رہنمائی میں سوویت یونین کو ریت کے گھروندوں کی طرح بکھیر کر رکھ دیا، معیں نے بھی ان کالموں میں افغان جہاد کی تائید میں جو لکھا اسے پسند کرنے والوں میں جنرل حمید گل بھی تھے، بلکہ مرحوم و مغفور قاضی حسین احمد کے علاوہ جنرل ضیاء الحق کوبھی اچھا لگا تھا، جس کے نتیجے میں وہ مجھ پر ستارۂ امتیاز کی بیکار بارش بھی کر گئے، مگر مَیں نے خود کو کبھی ستارۂ امتیاز کے قابل نہیں سمجھا اور نہ اپنے نام کے ساتھ کبھی لکھا ہے، نہ لکھوں گا! کیونکہ میں نے تو یہ کام فی سبیل اللہ کیا ہے، لیکن جنرل حمید گل کا کردار اس قدر بھاری ہے کہ انکل سام اور عالمی صہیونیت کو بھی ان سے ڈر لگتا تھا!

مزید :

کالم -