باڈی بلڈنگ کی شوقین نوجوان لڑکی کو انٹرنیٹ پر اپنی تصویر ایک ایسی جگہ نظر آگئی کہ زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا اور پھر۔۔۔

باڈی بلڈنگ کی شوقین نوجوان لڑکی کو انٹرنیٹ پر اپنی تصویر ایک ایسی جگہ نظر ...
باڈی بلڈنگ کی شوقین نوجوان لڑکی کو انٹرنیٹ پر اپنی تصویر ایک ایسی جگہ نظر آگئی کہ زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا اور پھر۔۔۔

  


سڈنی (مانیٹرنگ ڈیسک) آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی نوعمر باڈی بلڈر حسینہ تیانا پراسر اس بات پر بہت خوش تھی کہ انٹرنیٹ پر اس کی باڈی بلڈنگ کی تصاویر انتہائی مقبول ہورہی تھیں اور اس کے ہزاروں فالوورز بن چکے تھے مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ یہ تصاویر فحش ویب سائٹوں کی زینت بھی بن چکی تھیں، جہاں ہوس پرست انٹرنیٹ صارفین اس کی برہنہ تصاویر کی تلاش میں پاگل ہورہے تھے۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 18 سالہ تیانا ورزش کے دوران بنائی گئی اپنی تصاویر اکثر سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر شیئر کرتی ہیں۔ وہ ہر مقابلے سے پہلے اپنی متعدد تصاویر بنا کر انسٹاگرام پر بھیجتی ہیں اور اس ویب سائٹ پر ان کی نیم برہنہ تصاویر پسند کرنے والے فالوورز کی تعداد تقریباً ایک لاکھ ہے۔

برطانیہ کی فحش ترین اداکارہ جس کی بے باکی نے گوروں کو بھی پریشان کردیا، اُس کا شوہر پاکستانی نکلا، میڈیا پر حقیقت سامنے آتے ہی ایسی بات کہہ دی کہ جان کر آپ کے بھی کان لال ہوجائیں گے

تیانا کا کہنا ہے کہ وہ حال ہی میں یہ دیکھ کر ساکت رہ گئیں کہ انٹرنیٹ کی ایک فحش ویب سائٹ پر ان کی تصاویر موجود تھیں اور ان کی برہنہ تصاویر ڈھونڈ کر لانے والوں کے لئے ایکسٹرا بونس پوائنٹس کی پیشکش بھی کی جارہی تھی۔ تیانا کا کہنا ہے کہ ان کی تصاویر اتنی فحش اور شرمناک تصاویر کے درمیان سجائی گئی تھیں کہ بتا نہیں سکتیں اور ان کی تصاویر پر ایسے ایسے بے حیائی پر مبنی تبصرے ہورہے تھے کہ جسے بیان کرتے بھی شرم آئے۔

تیانا نے اپنی تصاویر کو فحش ویب سائٹ پر دیکھتے ہی پولیس نے رابطہ کرلیا جس کے بعد ویب سائٹ سے ان کی تصاویر ہٹانے کے لئے کوششیں شروع کر دی گئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسی ویب سائٹ پر اس سے پہلے سکول اور کالج کی درجنوں لڑکیوں کی برہنہ تصاویر پوسٹ کی جاچکی ہیں۔ کوئینز لینڈ پولیس کے سینئر سارجنٹ ڈیو مائلز کا کہنا تھا کہ اگرچہ بلا اجازت فحش ویب سائٹوں پر پوسٹ کی جانے والی تصاویر کو ہٹانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے لیکن ایک بار جب یہ تصاویر انٹرنیٹ پر آجائیں تو انہیں ختم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ عموماً یہ تصاویر ایک ویب سائٹ سے ہٹائے جانے کے بعد کسی اور پر ظاہر ہوجاتی ہیں اور وہاں سے ہٹائی جاتی ہیں تو کہیں اور نظر آتی ہیں اور یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...