اگست کا مہینہ

اگست کا مہینہ
 اگست کا مہینہ

  

السلام علیکم میرے پیارے پیارے دوستو! سنائیں کیسے ہیں امید ہے کہ اچھے ہی ہوں گے اور یقیناًہم بھی اچھے ہی ہیں۔ دوستو آپ کو پتہ ہے کہ اگست کا مہینہ شروع ہو چکا ہے اور اگست کا مہینہ جہاں بہت سی خوشیاں لاتا ہے وہاں پر بہت سے غم بھی ساتھ لاتا ہے، سابق صدر پاکستان و آرمی چیف آف سٹاف جناب جنرل ضیاء الحق مرحوم اور ان کے رفقاء نے اگست کے مہینے میں ہی جام شہادت نوش فرمایا۔ چودہ اگست کو خوشیاں منانے والی قوم 15،16 اور 17 اگست کو بھی بے حد غمگین نظر آتی ہے، پندرہ اگست کو جناب جنرل(ر) حمید گل اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے، جبکہ 16 اگست کو صوبائی وزیر شجاع خانزادہ کو قتل کیا گیا اور17اگست کی تاریخ تو ایسی منحوس تاریخ ٹھہری کہ جب پاکستان کے آرمی چیف و صدر ضیاالحق و ان کے بتیس بہترین جرنیلوں اور دوسرے فوجی ساتھیوں کے سی ون تھرٹی طیارے کو حاد ثہ پیش آیا۔ ایک بار پھر 17اگست کے روز جناب سابق شہید صدر اور ان کے رفقاء کی برسی انتہائی عقیدت و احترام سے منائی گئی ، شہید صدر کی برسی میں شرکت کے لئے عوام قافلوں کی صورت میں جوق در جوق اسلام آباد پہنچے ۔ ضیاالحق فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام اسلام آباد میں شہید صدر اور ان کے ساتھیوں کی برسی کی تقریب منعقد کی گئی ، تقریب میں مُلک بھر سے ضیا الحق شہید کے چاہنے والوں نے شرکت کی ، شہید سابق صدر اور ان کے رفقاء کی برسی کی تقریب میں مُلک و قوم کی سلامتی و عالم اسلام کی بقاء کے لئے بھی خصوصی دُعائیں مانگی گئیں ۔

دوستو جناب ضیا الحق کے دور حکومت کی مثالیں لوگ آج بھی دیتے ہیں ، ضیاء الحق کے دور میں نماز پڑھنے والے فوجیوں اور سپاہیوں کو خصوصی الاوئنس دیا جاتا تھا ، جبکہ آج داڑھی رکھنے والے اور نماز پڑھنے والے کو شدت پسند قرار دے دیا جاتا ہے، ہمیں تو یہ بھی یاد ہے کہ جناب ضیاء الحق کے دور میں مساجد کے دروازے دور دراز سے آئے عوام و مسافروں کے لئے دن رات کھلے رہتے تھے، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ہما ری نئی حکومتیں آتی گئیں جن کا کارنامہ یہ تھا کہ انھوں نے بھولے بسرے مسافروں کے لئے مساجد کو ہی تالے لگانے شروع کر دیئے۔ بہرحال یہ الگ بحث ہے بات ہو رہی تھی جناب ضیاء الحق شہید کی برسی کی۔ بہرحال آج شہید صدر کی برسی کے موقع پرایک ہی سوال جو بار بار عوام کے دلوں میں امڈ آتا ہے وہ یہ ہے کہ جنابِ صدر کے طیارے کا حادثہ کیسے ہوا ، عوام آج بھی سابق صدر اور ان کے رفقاء کے طیارے کی پراسرار تباہی بارے پوچھنا چاہتے ہیں کہ آج تک جنابِ صدر کے قاتلوں بارے کچھ کیوں نہیں پتہ چلتا ، لیکن اپنے اس سوال کا جواب نہ پا کر دل ہی دل میں ازخود شرمندگی سے یہ نعرہ جوش و خروش سے لگاتے ہیں کہ کیا کہیں جنابِ صدر ہم شرمندہ ہیں کہ نہ جانے کیوں اب تلک تیرے قاتل زندہ ہیں ،، شہید صدر اور ان کی برسی کے موقع پر سابق صدر کے جیالے یہی سوال بار بار اپنے آپ سے پوچھتے ہیں، لیکن ماسوائے شرمندگی کے انہیں کچھ حاصل نہیں ہو تا ، تاہم عوام کو امید ہے کہ ایک نہ ایک دن ضرور جناب شہید صدر کے قاتل بے نقاب ہو سکیں گے، لیکن کب یہ کسی کو کچھ پتہ نہیں، لیکن شاید سیانے کہتے ہیں کہ امیدپہ دُنیا قائم ہے اور جناب صدر کے متوالوں کو بھی یہی امید ہے کہ ان کے محبوب صدر کے قاتل ضرور تختہ دار تک پہنچ سکیں گے انشاء اللہ ضرور تو دوستو فی الوقت اجازت چاہتے ہیں آپ سے تو ملتے ہیں جلد ایک بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگہبان، رب راکھا۔

مزید : کالم