فسانہ تراش اورلطیفہ گو

فسانہ تراش اورلطیفہ گو

بھائی آپ نے تو صرف بغداد میں پہیے کی ایجاد والی کہانی پڑھی ہو گی۔دنیا میں سب سے پہلے گیہوں بھی بغداد میں بویا گیا اور مرکزی شفا خانے کا منصوبہ بھی یہیں انجام پایا۔کہا جاتا ہے کہ اہل فن نے شہر سے باہر نکل کر چار مختلف مقامات پر گوشت کے ٹکڑے لٹکا دیئے۔۔۔پھر اس جگہ کو ہسپتال کے لئے منتخب کیا گیا جہاں گوشت کے گلنے سڑنے کا عمل نسبتاًسست تھا ۔کم ازکم اس سے یہ تو پتہ پڑتا ہے کہ اول روز سے ہی مسلم اطبا پر جرثومے کی دنیا واضح تھی ۔یہ الگ بات کہ ہمارے اطبا کو اپنے فقہا کو قائل کرنے میں اک زمانہ لگا۔فیلڈ مارشل والے لطیفے کی کہانی۔۔۔اللہ اللہ !بالغ نظروں اور راست فکر کے نقیب تجزیہ نگاروں پر اول روز سے ہی واضح رہی۔پر کیا کریں کہ پر شور پروپیگنڈا میں حقیقت کھوئی جاتی رہی ۔غلام اسحاق کی جانب سے اسمبلی توڑنے اور عمران خان کی دوسری شادی کی بریکنگ نیوز ۔۔۔جیب میں جب ایسی کھری خبریں ہوں تو پھر فیلڈ مارشل والی افواہ کے تحلیل و تجزیہ کا خیال آئے کیوں۔

یہ جو آپ فقہی اختلا فات اور مسلکی تنازعات پاتے اور دیکھتے آئے ہیں،اس کی ایک خصوصی اساسی وجہ بھی ہے۔محد ثین اس بات کا فیصلہ کر نہ سکے کہ راوی کی ثقاہت ثا بت ہونے کے بعد اس کی ہر بات صداقت پر مبنی ہو گی؟کہا جاتا ہے کہ آدمی کتنا ہی نیکو کار ،زاہد و پاک اور سچا ہو،اس سے ہر معاملے اور بات میں اس کی صداقت ثابت نہیں ہوتی ۔کیا پتہ سماجی عوامل، نجی رجحانات یا شخصی التباسات کے سبب وہ زمانے کے ساتھ بہہ گیا ہو ۔قطعیت کے ساتھ تو کچھ کہنا مشکل ٹھہرا کہ یہ چٹکلہ کیوں چھو ڑا گیا۔کسی سامری نے جنتر منتر پھونکا یا کسی ہد ہد نے راوی کوخبر احاد دی یا کسی منکر نکیر نے کان میں پھونکی؟قیاس چاہتا ہے اس صحا فتی لطیفے کا مقصد وحید وزیراعظم کو دباؤ میں لانا ہے ۔جنگ کا دباؤ یا دباؤ کی جنگ جہانگیری میں کھیل سہی ،ایسی جنگیں بھلا لطیفوں کے اسلحوں سے بھی لڑی جاتی ہیں؟قدامت پرست اخبار کی پچیس یا تیس سالہ تجربہ کاری اور مدیری بھی اگر کسی کو قلب ماہیت تبدیل ہونے اور کسی سیاست دان کو پرکھنے کی فراست نہ بخشے تو کیا کہئے؟وہی اہل زبان کا محاورہ ’’بارہ برس دہلی میں رہے پھر بھی بھاڑ جھونکا کئے ‘‘۔

انسان بھی کتنا عجب ہے کہ خود ہی اسطورہ تراشتا اور پھر ا س کے سحر میں آپ گرفتار ہو جاتا ہے۔کپتان نے بھی دھاندلی کے تراشیدہ اسطورے کا سہارا لے کر خواب دیکھا تھا۔بڑے بڑے سیاسی سور ماؤں اور بعضے صحافتی جگوں نے بھی پھر پروپیگنڈے کا پتھر دھر دیا کہ کپتان اس پر ٹیک لگائیں اور تازہ دم ہو جائیں۔

سیاہ قسمتی انڈے اور تیرہ بختی بچے نہ جن رہی ہو تو ڈاکٹر مصدق ملک کی وضاحت کے بعد مطلع صاف ہونا چاہئے۔لیکن نہیں کہ قصہ گوئی کی چاشنی میں بڑی لذت ٹھہری اور فسانہ کہنے والا اگرشعلہ بیاںیا چرب زباں ہو تو کیا کہنے ۔بڑے نام والے اخبار نویسوں کے صحافتی لطیفے اپنے تمام تر خرافات اور فنی فرسودگی کے باوجود ہنوز نیوز چینلوں پر حوالے بنا کئے۔حیرت ہے۔۔۔حیرت سی حیرت ہے ؟ان کی اسطوری تھیوری کی درفنطنیاں واضح ہونے کے باوجود بھی سیاسی گفتگو کی بزم اسی حوالے سے سجائی جاتی ہے۔ان کے تمام تر نقائص ،خرافات اور ملفوظات کے باوجود بند دماغ لوگوں کی بھی کمی نہیں۔جو یہ کہتے نہیں تھکتے کہ اگر فلاں نے یوں کہا ہے تو یہ صحیح ہو گا۔ایسا لگتا ہے خوداعتمادی اور غورو فکر کے اپنے تنقیدی اور تخلیقی سوتے سوکھ گئے ہیں۔سچ ہے اور کڑوا ترین سچ ہے کہ ایسے لوگ ہی درست صحافت کا راستہ روکے بیٹھے ہیں۔

اول اول جب تک مسلمانوں نے اساطیری طرز فکر کو چیلنج نہیں کیا ،تب تک وہ بھی لطائف کو حقائق ہی سمجھا کئے۔کہا جاتا ہے کہ شروع شروع میں مسلم دماغ فکری تشتت اور نظری تشنج سے دوچاررہا ۔ابن الحیثم سے پہلے پہلے بڑا مسئلہ تھا کہ قدمائے یونان کے کون سے نظریات مسلمات ہیں اور کن کو گمراہ قرار دے کر رد کردیا جائے۔صدراول میں مسلم مترجمین نے یونانی دانش کی کتابوں کے محض تراجم نہ کئے تھے۔۔۔بلکہ ایک قدم آگے بڑھا تے ہوئے ان کے نظریات کو بھی درست قرار دے دیا تھا۔پھر کس میں جرات تھی،کس میں تاب تھی کہ قدمائے یونان کی کہی ہوئی باتوں کا تحلیل و تجزیہ کرتا۔نتیجتاًعرصہ ہائے دراز تک یونانی دانش کو ہی علم و فن کی معراج و منتہا سمجھا گیا۔پاکستانی صحافت کے بڑے بڑے ناموں کی طرح یونانی فنی کتب کی جدید کاری نے بھی مسلم دماغوں پر عظمت و ہیبت کا طلسم قائم کئے رکھا۔آگے چل کر عباسی بغداد میں تو تحریک ترجمہ نے صدیوں تک ارسطا طالیسی نظام فکر کو فیصلہ کن باور کرایا۔اس ماحول میں بڑے بڑے شیردلوں کے لئے بھی مشکل تھا کہ یونانیوں کے دفتر سے صدق وکذب اور رطب و یابس الگ الگ چھانٹ سکیں۔بقول راشد شاز ۔۔۔’’عہد امیہ اور عباسیہ میں تراجم کے نام پر مترجمین کے ہاتھوں جو کچھ ہوا ،وہ صرف ترجمے کا سیدھا سادہ عمل نہ تھا‘‘۔اب کون چیخ کرکہے کہ یہاں صحافت کے نام پر جو کالم اور تجزیے چل چلا رہے ہیں ۔۔۔وہ محض سیدھی ساد ی صحافت نہیں۔بڑے بڑے نام اور کام اپنی جگہ ۔جب تک چھوٹے صحافی بھی غوروفکر کے اعتماد سے سرشار ہوکر تجزیے کا تجزیہ نہیں کرتے ۔۔۔تب تک وہ بھی لطائف کو حقائق ہی سمجھتے رہیں گے۔فیلڈ مارشل والا لطیفہ لمحہ بھر کو بھول جایئے ۔

مزید : کالم


loading...