بات ہے رجحان تبدیل کرنے کی

بات ہے رجحان تبدیل کرنے کی
 بات ہے رجحان تبدیل کرنے کی

  

کام ہے تو انتہائی مشکل کیوں کہ صورت حال ہی طویل عرصے سے نا گفتہ بہ ہے۔ سرکاری دفاتر اور اداروں میں کام کی رفتار کچھوے کی چال سے بھی سست ہے، شہروں کی حالت دیکھ کر کف افسوس ملنے پر دل مجبور ہوتا ہے۔ مٹھی گرم کئے بغیر کہیں کسی کام کا ہونا اور درست ہونا محال ہے۔ایسے میں تنہا کوئی بھی شخص کیا کارنامہ انجام دے سکتا ہے؟سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ صورت حال سے واقف ہونے کے باوجود قدم پیچھے کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ صبح دفاتر کے سرکاری وقت پر اپنے دفتر میں ان کا موجود ہونا ، با اختیار لوگوں کو اچنبھے کی بات محسوس ہوتی ہے اس لئے کہ یہاں تو دن کا آغاز ہی بعد از دوپہر ہوتا تھا ۔ اب بہت سارے لوگوں کو وزیراعلیٰ کی رفتار کے ساتھ چلنا دل پر جبر کرنا پڑ رہا ہے، لیکن وزیراعلیٰ سمجھوتہ کرنے اور ڈھیل دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ وہ بدھ کے روز ایک روزہ دورے پر حیدرآباد پہنچے تو عام خیال یہ تھا کہ وہ کسی مقام پر بیٹھ کر افسران کے ساتھ اجلاس کریں گے ، معلومات حاصل کریں گے اور واپس کراچی چلے جائیں گے، کیونکہ ماضی میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ ایسا نہیں ہوا۔ وہ سویرے حیدرآباد پہنچ گئے۔ شہر کے گلے کوچوں میں اپنی مرضی سے دورہ کرتے رہے۔ انتظامیہ نے ان کے دورے کا جو راستہ مقرر کیا تھا، انہوں نے اس سے انحراف کیا۔ وہ ہر اس جگہ گئے جہاں بہت سارے وزیراعلیٰ نہیں گئے تھے۔ اپنی پہلی درس گاہ، شہر کے ایک قبرستان، اپنی بچپن کی رہائش گاہ والے محلے، کے علاوہ کئی اور محلوں میں جاکر بقول ان کے انہوں نے خود جائزہ لیا کہ صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لئے کیا ممکن ہو سکے گا۔

پریس کلب ان کے اس دورے کا آخری ٹھکانہ تھا جہاں انہوں نے کھل کر بہت ساری باتیں کیں۔ کہہ رہے تھے کہ وہ یہ بات قطعی نہیں کہیں گے کہ وہ ساری صورتِ حال کو درست کر دیں گے البتہ لوگوں کو یہ یقین ضرور دلائیں گے کہ حکومت اور انتظامیہ کی ڈگر کو ایک ایسی سمت اور راستہ پر ضرور لے جائیں گے،جہاں سے کوئی بھی حکومت اسے پلٹ نہیں سکے گی اور دوسری بات یہ کہ لوگوں کو حکومت کام کرتی ہوئی نظر آئے گی۔ مَیں رجحان ( ٹرینڈ ) ضرور تبدیل کر دوں گا۔ انہیں اس بات کا جائز شکوہ ضرور تھا کہ پوری قوم سست روی کا شکار ہو گئی ہے۔ کوئی شخص کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ حالات کو بہتر ڈگر پر لانے کے لئے سب ہی کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔ بہت تن دہی اور محنت کے ساتھ کام پڑے گا۔ وزیر ہوں یا سرکاری افسران، یا عام لوگ سب ہی کو کام تو کرنا پڑے گا۔ سید مراد علی شاہ سندھ کے پہلے وزیراعلیٰ ہیں ،جن کے والد عبداللہ شاہ بھی وزیراعلیٰ رہ چکے تھے ۔ مراد علی شاہ طویل عرصے وزیر بھی رہے ہیں۔ ان سے قبل سوائے ارباب غلام رحیم اور غوث علی شاہ، وزارت کا تجربہ کوئی اور وزیراعلیٰ نہیں رکھتے تھے۔

یہی اصل بات ہے کہ سرکاری مشینری کو ایسے ڈگر پر چلایا جائے کہ لوگ درخواستیں ہاتھ میں لے کر سیاست دانوں کی التجا ئیں کرتے نہ پھریں بلکہ قانونی، جائز کام کسی تاخیر کے بغیر ہو سکے۔ کسی کو داد رسی کی ضرورت ہو تو وہ خود بخود ہو جائے۔ اصل کام ہی رجحان تبدیل کرنا ہے۔ سارے ادارے اگر کام کرنے پر کمر بستہ ہوجا ئیں تو کوئی وجہ نہیں کہ عام لوگوں کی شکایات ختم نہ ہوں۔ اساتذہ سکول جائیں، بچوں کو تعلیم دینے کا فرض ادا کریں، جس کے لئے انہیں باقاعدہ تنخواہ ملتی ہے۔ ڈاکٹر ہسپتال جائیں اور پورا وقت دیں۔ تھانوں کا عملہ ڈیوٹی پر موجود ہو اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔ غرض تمام سرکاری اداروں کے لوگ اپنا اپنا کام کریں تو یہ صورتِ حال ہی پیدا نہ ہوئی ہوتی۔ صوبہ سندھ میں ایسا لگتا تھا کہ سارا نظام ہی ڈھیر ہو گیا ہے۔ سفارش کے ساتھ ساتھ پیسہ ایک عام چلن بنا دیاگیا ہے۔ اس عام چلن کو ہی ختم کرنے کی ضرورت ہے،جس کا ادراک وزیراعلیٰ کو ہے۔ وہ بار بار اس کا ظہار بھی کرتے ہیں۔ انہیں اپنے اختیارات اور دائرہ کار کی بھی آگاہی ہے اور سندھ میں حکمرانی کرنے والی جماعت پیپلز پارٹی کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ وقت کی انتہائی اہم ضرورت ہے، کیونکہ عام انتخابات میں وقت مختصر ہے اور لوگوں میں یہ گمان عام ہے کہ سفارش اور پیسے کے بغیر کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ سفارش سے محروم خالی جیب لوگ کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔

اس گمان کے بارے میں کہ سندھ میں لوٹ مار اور رشوت کا بازار گرم ہے، وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے ایک دلیل پیش کی۔ وہ کہنے لگے کہ لوگوں کو چاہئے کہ قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی 11اگست 1947ء کو کراچی میں بحیثیت گورنر جنرل کی گئی تقریر کو دوبارہ ضرور پڑھیں ۔ اسی تقریر میں قائداعظم نے اِسی تقریر میں رشوت ستانی، بدعنوانی اور سفارش کے بارے میں واضح گفتگو کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تو پاکستان پیپلزپارٹی موجود نہیں تھی۔ وزیراعلیٰ سندھ کا استدلال تھا کہ یہ گمان کہ پیپلزپارٹی ہی ذمہ دار ہے، درست نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ پارٹی ایک عوامی سطح کی جماعت ہے، افسران کا کیا دھرا بھی اس کے ہی کھاتے ہیں جاتا ہے۔کرتا کوئی ہے اور بھرتا کوئی اور ہے ۔ اِسی گمان اور تاثر کو ختم کرنے کے لئے ہم انسداد رشوت ستانی کے سلسلے میں بنیادی اقدامات کر رہے ہیں تاکہ جو کرے سو وہ ہی بھرے ۔ وزیراعلیٰ کی گفتگو اور خیالات اہم ضرور ہیں اور احتساب کے عمل کو عملی شکل دینے کی سخت ضرورت ہے تاکہ حکومت، وزراء، افسران اور بااثر عمائدین کے بارے میں جو گمان عام ہے وہ دھل سکے۔ بقول شاعر

’’بِلا سبب بھی کوئی بدگمان ہوتا ہے ،

مجھے یقیں ہے کوئی درمیان ہوتا ہے‘‘

مزید : کالم