کنوارے شیخ رشید کا عمران خان کو مشورہ؟اور پش اپس کا مقابلہ!

کنوارے شیخ رشید کا عمران خان کو مشورہ؟اور پش اپس کا مقابلہ!
کنوارے شیخ رشید کا عمران خان کو مشورہ؟اور پش اپس کا مقابلہ!

  

لطیف گفتگو جس سے مزاج میں نرمی پیدا ہو اور ہونٹوں پر ہنسی نہیں تو مسکان ضرور آئے، ایسی بات کو لطیفہ کہتے ہیں، ویسے لطیفہ گوئی بھی ایک فن ہے۔ بیربل اور شیخ چلی کے لطائف مشہور ہیں، حس مزاح ہو تو سیاست میں بھی فقرے بازی ہوتی ہے جو لطیفہ ہی بن جاتی ہے۔ حروں کے روحانی پیشوا پیر علی مردان شاہ (پیرپگارو،ہفتم) پھلجھڑیاں چھوڑنے اور فقرے کسنے میں ماہر تھے۔ یہ انہی کا کہنا تھا ’’ہم نے وزیراعظم (محمد خان جونیجو) ادھار پر دیا ہے، جب ضرورت ہوگی واپس مانگ لیں گے‘‘اس سے بھی پہلے آگے خان پیچھے خان، ڈبل بیرل خان جیسے معنی خیز فقرے بڑے مشہور ہوئے لیکن آج کل تو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی شادی پھر سے خبروں کا موضوع ہے، جتنے منہ اتنی باتیں، خود عمران خان تو شادی کا ارادہ ظاہر کر چکے اور اس بات کو الزام سمجھتے ہیں کہ وہ تیسرا نکاح کر چکے ہوئے ہیں۔ انہوں نے جواب میں کہا شادی گناہ نہیں، جب کروں گا سب کو پتہ چل جائے گا۔

عمران خان کی شادی کی خبریں، ’’شہر کی بات‘‘ بننے کے بعد ٹھنڈی پڑچکی تھیں کہ ان کے دوست شیخ رشید نے اسے پھر سے زندہ کر دیا۔شیخ رشید نے مشورہ دیا کہ عمران خان فی الحال شادی کا ارادہ ترک کر دیں پہلے تحریک کو کامیاب ہونے دیں پھر چاہے چار شادیاں کر لیں۔ عمران خان نے شیخ رشید کی گفتگو کے حوالے سے کہا ہے ’’شیخ صاحب کو میری شادی سے کیا تکلیف ہے۔ فی الحال تو نہیں ہو رہی، جب ہو گی سب کو پتہ چل جائے گا‘‘ قارئین! یہ ہمارے فرزند راولپنڈی شیخ رشید ازلی کنوارے ہیں۔ شائد اسی لئے کسی اور کی شادی نہیں ہونے دینا چاہتے۔ ویسے یہ عجیب بات ہے کہ لیڈروں کی ایسی باتیں بھی خبر ہوتی ہیں، جیسی شیخ رشید اور عمران خان کے درمیان ہوئی ہے۔

پانچوں سواروں والا لطیفہ یا کہانی بھی آپ حضرات نے سن رکھی ہوگی کہ گدھا سوار گھڑ سواروں سے پہلے ہی بول پڑتا تھا۔ پانچوں سوار دلی جا رہے ہیں، ایسی ہی ایک بات ہمارے مسلم لیگ (ن) کے سرگرم کارکن طلال چودھری نے بھی کر دی ہے۔ سندھ میں کابینہ تبدیل ہوئی تو وہاں کی وزارت کھیل ایک نوجوان محمد بخش مہر کو ملی۔ جنہوں نے اپنے وزیراعلیٰ کی روائت پر عمل کیا اور خود کو سرگرم ظاہر کرنے کے لئے کھیلوں کے مراکز کے دورے بھی کئے اسی دوران ان کی طرف سے ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں وہ ’’پش اپس‘‘ لگا رہے ہیں اس کے ساتھ ہی ان کی طرف سے پش اپ کا چیلنج بھی دیا گیا اور سیدھا سیدھا پنجاب کے وزراء سے کہا کہ وہ پش اپس کا مقابلہ کرلیں اور پنجہ بھی لڑا لیں۔

قارئین!آپ نے سوچا تو ہوگا کہ اس میں لطیفے والی بات کہاں، جی، ہے وہ یہ کہ ہمارے مسلم لیگ (ن) اور حکومت کے خود ساختہ ترجمان طلال چودھری نے فوراً ہی یہ چیلنج قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے شائد اسے بیان بازی بوزن بیت بازی تصور کیا ہوگا کہ ان کے جُثہ اور جسمانی صحت سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مسلسل دس پش اپس نہیں لگا پائیں گے اور ہانپ کر گر پڑیں گے کہ یہ بیان بازی نہیں محنت ہے۔ البتہ عابد شیر علی کی بات سمجھ میں آتی ہے۔ جنہوں نے جم میں ورزش کرتے ہوئے ایک ویڈیو ریلیز کی ہے اور ساتھ ہی پیغام دیا کہ چیلنج قبول، آؤ وزن اٹھانے کا مقابلہ کرلو،عابد شیر علی کی بات یوں بھی سمجھ میں آتی ہے کہ ان کا جسم کسرتی نظر آتا ہے۔ وہ کسرت کرتے ہوں گے لیکن طلال چودھری کا جُثہ دیکھ کر تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ ان کو آدھ میل پیدل چلنا پڑا تو خدانخواستہ کچھ کر بیٹھیں گے کہ وہ تو زور سے باتیں کرتے وقت بھی ہانپنے لگ جاتے ہیں۔

بھلا ہو سندھ کے نوجوان وزیرکھیل کا جن کی وجہ سے عابد شیر علی کا ’’جم‘‘ جانا تو ثابت ہو گیا، ان کی پیروی کرتے ہوئے۔ دوسرے شعبوں اور محکموں کے اہل کاروں کو بھی فٹ نس، کا موقع ملے گا، اب اگر وزراء خود کو فٹ رکھنے کے لئے یہ سب کرتے ہیں تو پھر ان کے ساتھ جو حضرات ہیں ان کو بھی خود کو مکمل فٹ رکھنا ہوگا۔

اس فٹ نس سے یاد آیا کہ ایک مرتبہ یہاں پولیس افسروں کی توندوں کا مسئلہ زیر غور آیا اور اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی کہ ایسی توندوں والے حضرات کسی ملزم کو کیسے پکڑیں گے کہ چلا تو جاتا نہیں، دوڑ کیسے لگائیں گے، اب یہ طے کیا گیا کہ ان پولیس افسروں کی توندیں تو کم ہونا چاہئیں چنانچہ ایک ماہ کی مہلت دی گئی اور پھر وہ سین دیکھنے کے قابل تھے کہ توندوں والے ایس ایچ او حضرات ڈنٹر پیل رہے، بیٹھکیں لگا رہے اور دوڑ لگانے کی کوشش کررہے ہیں ان کو پسینے تو بہت آئے لیکن توند کم ہونے کا نام نہیں لیتی تھی اس میں بہت سے ہی نہیں اکثریت ناکام ہو گئی تھی۔ ابھی حال ہی میں ملتان میں پولیس کی بھرتی کے لئے امیدواروں سے دوڑ لگوائی گئی ایک کلومیٹر کی دوڑ میں ہی نوجوان بے ہوش ہوگئے اور متعدد سڑک کنارے ہی گر کر ہوا لینے لگے۔

اب سندھ اور پنجاب کے وزرا کی بات ہے تو ہمارے نزدیک سندھ کے نوجوان وزیر اور وفاقی وزیر امور مملکت عابد شیر علی کے درمیان ورزش کا مقابلہ دلچسپ ہوگا۔ وزیراعظم کو خود اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔ بات عمران خان کی شادی سے شروع ہوئی جن کے بارے میں اب یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ کنٹینر پر چڑھتے ہی شادی کے لئے ہیں، اللہ ان کی حالیہ کوشش کامیاب کرے۔

مزید : کالم