کسی کا شعر ہو اور مرحبا کسی کو ملے!

کسی کا شعر ہو اور مرحبا کسی کو ملے!
 کسی کا شعر ہو اور مرحبا کسی کو ملے!

  

اکثر اشعار نامعلوم کیوں اور کیسے عوامی سطح پر کسی سے منسوب ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات شاعر خود اپنے اشعار کسی کو مجبوری کے تحت بخش دیتے ہیں یا خوشی خوشی کسی کو دے دیتے ہیں اور بعد میں شعر مشہور ہو جائے یا شاعر مشہور ہو جائے تو کُڑھتے ہیں کہ یہ شعر تو میرا دیا ہوا تھا، جیسے خاطر غزنوی کا شعر:

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

لیکن اتنا تو ہُوا کچھ لوگ پہچانے گئے

دراصل یہ شعر احمد فراز کا دیا ہوا تھا۔ احسان دانش نے اپنے دیئے ہوئے اشعار پر یہ کہہ کر اظہارِ حقیقت بھی کُیا:

مشاعروں میں یہ اکثر ہوا ہے اے دانش

ہمارا شعر ہو اور مرحبا کسی کو ملے

اسی طرح ایک بہت ہی مشہور شعر ہے جو نواب واجد علی خان اشک رامپوری کے نام سے سنا، پڑھا اور لکھا جاتا ہے، حتیٰ کہ ان کے بعد از مرگ شائع ہونے والے مجموعہ کلام ’’رنگِ اشک‘‘ میں بھی دیکھا جا سکتا ہے وہ شعر ہے:

مَیں نے چکھی تھی کہ ساقی نے کہا جوڑ کے ہاتھ

آپ لِلہّ چلے جایئے مے خانے سے

اس شعر کو آج تک میں بھی اشک رامپوری ہی کا سمجھتا رہا مگر ممتاز نقاد، شاعر،ادیب دانشور پروفیسر سید آلِ احمد سُرور اپنی مشہور زمانہ آپ بیتی ’’خواب باقی ہیں‘‘ میں رقم طراز ہیں:

رامپور کی دوسری شخصیت صاحبزادہ واجد علی خان اشک کی ہے۔ ’’اچھن صاحب‘‘ کہلاتے تھے۔ یہ نواب صاحب رامپور کے رشتے داروں میں تھے۔ پاک پٹن کے پیر جماعت علی شاہ کے مرید تھے اور ہر سال وہاں کا پھیرا ضرور کرتے تھے۔ شاعری میں محمود رامپوری شاگردِ داغ (دہلوی) سے تلمذ تھا۔ انہوں نے اپنا ایک شعر ایسا سنایا کہ میں پھڑک اُٹھا۔ جب جگر [مراد آبادی] صاحب اور رشید [احمد صدیقی] صاحب کو سنایا تو وہ بھی جھومنے لگے۔ شعر یہ تھا:

مَیں نے چکھی تھی کہ ساقی نے کہا جوڑ کے ہاتھ

آپ لِلہّ چلے جایئے مے خانے سے

بعد میں معلوم ہوا کہ یہ شعر ان کے استاد کا تھا۔

یعنی محمود رامپوری اس شعرکے اصل خالق ہیں۔ ]اقتباس ختم[

آلِ احمد سرُور نے انھیں پاک پٹن کے پیر جماعت علی شاہ کا مرید لکھا ہے جبکہ وہ پیر گولڑہ شریف کے مرید تھے اور لندن سے آ کر اُنھی کے آستانے پر رہنے لگے تھے وہیں انتقال ہوا۔

ایک کتاب ’’اردو شعروں کی ڈکشنری‘‘ مرتبہ: شاہد انصاری مطبوعہ انصار اکادمی پاکستان،پتوکی پیشِ نظر ہے۔ رسالہ سائز میں ’’اردو کی عظیم ترین شاعری کی ضیخم ترین کتاب‘‘ کے دعوے کے ساتھ یہ اردو شعروں کی ڈکشنری حصہ اول ردیف الف ممدودہ کی صورت میں ہے۔ شاہد انصاری کی اس مرتبہ کاوش کا دیباچہ مرتب سے بہت زیادہ قابل شعر شناس (مولانا) شبیر احمد شاہ ہاشمی نے رقم کیا ہے۔ فاضل دیباچہ نگار نے دیباچے میں ایک بہت مشہور شعر فیض کو بخش دیا ہے اور وہ یوں کہ:

عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن

دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

یہ شعر بہادر شاہ ظفر کی مشہور زمانہ غزل کا الحاقی شعر ہے جبکہ دراصل یہ شعر سیماب اکبر آبادی کا ہے اور صحیح یُوں ہے:

عمرِ دراز مانگ کے لائی تھی چار دن

دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

ریڈیو پاکستان کے مجلے ’’آہنگ‘‘ کے رحمت اللعالمین نمبر کیصفحہ 226تا 228 پر ایک مضمون پی بی سی بہاولپور کی کنٹری بیوشن کے طورپر بعنوان ’’بعثتِ رحمت اللعالمین‘‘ شاملِ اشاعت ہے۔ ذیلی عنوان ’’طلوعِ آفتابِ ہدایت‘‘ کے تحت فاضل مضمون نویس ڈاکٹر فیض الحسن ندیم نے ایک شعر علامہ اقبال کے نام سے اس طرح مضمون میں شامل کر رکھا ہے:

کھول آنکھ زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ

کہ جہاں ہے تیرے لئے تُو نہیں جہاں کے لئے

شعر کے یہ دونوں مصرعے کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا، بھان متی نے کنبہ جوڑا، کے مصداق ہیں۔ علاّمہ کا صحیح شعریوں ہے:

کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

پی ٹی وی ہوم سے ایک مرثیہ خواں محمد احسن القدر نے غالباً اپنے والدِ گرامی محمد محسن القدر کا مرثیہ تحت اللفظ میں پڑھا۔ محرم کی نویں تاریخ کو مریئے کا ایک مصرعہ یوں تھا:

لشکر تتر بتر کیا سارا حسین ؑ نے

اب تک تو ہم نے تشدید کے ساتھ ’’تتر بتر‘‘ ہی سنا، پڑھا۔۔۔’’ تِتر بِتر‘‘ پر چونکنا پڑا تحقیق طلب معاملہ ہے۔

فاضل کمپیئر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے پروگرام ’’انعام گھر‘‘ میں چینل جیو پر اتوار 23 فروری2014ء کی شب 10-15 بجے شرکاء میں سے ایک خاتون سے شعر مکمل کرنے کا کہا: مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا۔

متذکرہ خاتون نے کچھ غلط سلط مصرع لگایا تو عامر لیاقت صاحب نے اپنی طرف سے درست مصرع یہ بتایا:

اس کو چھٹی نہ ملی جس کو سبق یاد ہوا

جبکہ سید طاہر علی رضوی کا بالکل درست شعر اس طرح ہے:

مکتبِ عشق کا دستور نرالا دیکھا

اس کو چھٹی نہ ملے جس کو سبق یاد رہے

روزنامہ ’’جرات‘‘ میں محترمہ مریم گیلانی ’’روزنِ خیال‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتی ہیں۔ ہفتہ 13 اگست 2016ء کی اشاعت میں اپنے کالم کے ذیلی عنوان ’’قرض کی پیتے تھے مَے‘‘ کے تحت اُنھوں نے ایک بہت مشہور شعر اس طرح تحریر کیا ہے:

قرض کی پیتے تھے مَے اور سمجھتے تھے

رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

جبکہ ہر عہد پر غالب، مرزا اسد اللہ خاں غالب نے شعر کا پہلا مصرع متذکرہ بے وزن شکل میں نہیں کہا تھا۔ صحیح شعر یوں ہے۔

قرض کی پیتے تھے مَے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں

رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

مزید : کالم