کیا امریکی مریخ پر پہنچ چکے ہیں؟

کیا امریکی مریخ پر پہنچ چکے ہیں؟
 کیا امریکی مریخ پر پہنچ چکے ہیں؟

  


یہ چند سال پرانی خبر ہے جو مغربی پریس کے حوالے سے پاکستانی اخبارات میں بھی شائع ہوئی۔ ایک معاہدہ کے مطابق امریکی خلائی سینٹر NASAناسا میں کام کرنے والے روس اور جرمنی کے دو سائنسدانوں نے یہ شکایت کی تھی کہ امریکہ مریخ پر ایک کالونی بنا چکا ہے جس میں اس کے بہت سے سائنسدان کام کررہے ہیں۔ ان کے ہاتھ اس کی تصاویر لگ چکی ہیں۔ مریخ پر زندگی موجود ہے۔ ان سائنسدانوں نے کہا کہ معاہدے کے مطابق امریکہ کو اس سب کچھ کے متعلق ہمیں بتانا چاہییے تھا لیکن اس پیش رفت کے سلسلے میں ہر چیز کو چھپا کر رکھا گیا۔ امریکی معاملات پر نظر رکھنے والے ایک دوسرے اہم شخص نے حال ہی میں یہ کہا ہے کہ امریکی سائنسدان مریخ پر موجود اپنی بیس سے زائد لیبارٹریز میں کام کررہے ہیں۔

تازہ ترین خبر یہ ہے کہ امریکی جریدے ’’ڈیلی یوایف او‘‘ نے اپنے سو لہ اگست 2016ء کے شمارے میں میکسیکو کے ایک آتش فشاں کے دہانے پر موجود ایک بہت بڑی( لگ بھگ ایک میل قطر کی) اڑن طشتری کی واضح تصویر شائع کی ہے 249 اخبار نے لکھا ہے کہ اس تصویر کے بعد اب اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ کسی نامعلوم دنیا کی طرف سے ہمارے کرہ ارض پر کسی اجنبی مخلوق کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم امریکہ کے خلائی تحقیق کے سب سے بڑے ادارے ناسا کے ایک سینئر سائنسدان سٹوفن نے اس سال 7اپریل کو ایک پینل گفتگو کے دوران کہا کہ انسانیت دوسرے سیاروں پر اجنبی مخلوق کو دریافت کرنے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ اس کے لئے کہاں کہاں دیکھنا ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس مقصد کے لئے کیسے دیکھنا ہے۔ ان مقاصد کے لئے ہمارے پاس ٹیکنالوجی موجود ہے اور ہم اس کے استعمال کے ذریعے یہ سب معلوم کرنے کی راہ پر گامزن ہیں249 اور میرا خیال ہے کہ ہم یقینی طور پر صحیح راہ پر ہیں۔

اس کے برعکس کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مریخ پر زمین کی سطح کے نیچے ہم سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ تہذیب موجود ہے جہاں ہمارے لئے انہیں تلاش کرنا ممکن نہیں۔کچھ سائنسدان یہ سمجھتے ہیں کہ مریخ پر انسانی حیات کے تمام لوازمات موجود ہیں۔ ایک خیال یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ مریخ سمیت نظام شمسی کے علاوہ ہماری گلیکسی کے بہت سے سیاروں میں بھی پانی اور زندگی کے لئے ضروری دوسرے تمام لو ازمات موجود ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اگر ہم اپنی گلیکسی کے دو اڑھائی ہزار سیاروں کو لیں تو ان سے دو اڑھائی سو سیاروں میں لازما زندگی موجود ہے۔ شیفیلڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ملٹن کہتے ہیں کہ مریخ کی سطح کے جن علاقوں کے متعلق اب تک جو کچھ معلوم ہوا ہے اس سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ یہاں کبھی پانی بہتا تھا۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی جیالوجسٹ ڈان سمر نے کہا ہے کہ مریخ پر موجود چھوٹے چھوٹے گول پتھروں سے کی وجہ سے ناسا کی ٹیم میں مریخ کے متعلق تجسس بڑھ گیا ہے کیونکہ ایسے پتھر صرف پانی میں بہنے کی وجہ سے ہی اپنی گول شکل اختیار کرتے ہیں۔ ڈان سمر کا کہنا ہے کہ اگر اب نہیں تو کم از کم کسی وقت اس سیارے پر زندگی موجود رہی ہے۔ سائنس کی دنیا میں سٹیفن ہائکنگ اور کارل ساگن کے نام بہت معتبر ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہمارے کرہ ارض کی ساخت کائنات کے باقی کروں کے مقابلے میں ایسی بھی منفرد نہیں کہ صرف اسی پر زندگی موجود ہو۔ تیرہ ارب اسی کروڑ سال پہلے ہونے والے عظیم دھماکے سے جب کائنات وجود میں آئی تواس کے بعد اربوں برس تک تمام سیاروں کی ساخت ایک ہی جیسی تھی۔ تاہم ایک ارب سال قبل تک مختلف سیاروں کی نوعیت میں مختلف تفریق پیدا ہونے کا آغاز ہوا۔

اب جبکہ ناسا کی طرف سے آئندہ دس سال تک مریخ پر پہنچنے کے منصوبوں کی نشاندہی کی جارہی ہے، ایسے بہت سے شواہد سامنے آرہے ہیں کہ جن سے دوسرے سیاروں کی مخلوق کے ہماری زمین پر پہنچنے کے ثبوت مل رہے ہیں۔ گذشتہ صدی بلکہ اس سے بھی بہت پہلے سے خلائی مخلوق اور طشریوں کے زمین پر آنے اور دنیا کے مختلف علاقوں میں طشتری نما خلائی سیاروں کی آمد کی گواہی ملتی رہی ہے۔ اب ایسے لمحات کو ویڈیو اور تصاویر میں محفوظ کر لینا اور بھی آسان ہوگیا ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں یورپ و امریکہ اور سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے اس طرح کی طشتریوں کی تصاویر اور ویڈیو تیار کی ہیں اور بعض صورتوں میں انہیں دیکھنے والے سینکڑوں افراد نے ان کی گواہی دی ہے۔

سویڈن اور روس کی سرکاری سطح کی تحقیقاتی ٹیمیں دوسرے سیاروں سے آنے والی اجنبی مخلوق اور ان کی طشتریوں کی تصدیق کر چکی ہیں۔ یورپ و امریکہ کی ان نامعلوم اڑتی ہوئی اشیاء کے متعلق سرکاری طور پر مقرر کی گئی ٹیموں نے زیادہ تر ایسی کسی چیز کی تصدیق نہیں کی ، انہیں عوام کا واہمہ قرار دے دیا، اور یہ کہا کہ یہ معمول کی عام لوگوں کی فضا میں اڑائی ہوئی اشیاء کے علاوہ کچھ نہیں۔ لیکن بہت سے لوگوں نے طشتریوں اور دوسری دنیا کی مخلوق کی تصاویر اور ویڈیو تیار کرکے انہیں دنیا بھر میں دیکھنے کے لئے یو ٹیوب پر دے دیا ہے۔

کچھ عرصہ قبل ایک غیبی طاقت نے برطانیہ کے ایک معروف ٹیلی وڑن چینل کی نشریات روک کر اہل دنیا کے نام اپنا پیغام نشر کرنا شروع کردیا۔ اس میں دنیا والوں کو خبردار کیا جارہا تھا کہ وہ ان کی دنیا کا رخ اختیار نہ کریں، ان کی فضا کو آلودہ کرنے کی کوشش نہ کریں، آپس میں امن سے رہیں اور جنگوں سے اجتناب کریں۔ ان کی دنیا کے زیادہ لوگوں کی حیثیت محض روحانی ہے ان کے جسم نہیں اور انہیں دوسروں کے معاملات سے کچھ تعلق نہیں وہ محض سکون سے رہنا چاہتے ہیں ان کی آبادی کے کچھ لوگوں کے جسم ہیں لیکن وہ ہماری زمین کے لوگوں جیسے نہیں۔ برطانوی نیٹ ورک پر اس پیغام سے ایک سنسنی پیدا ہوگئی۔

یہ آواز ایک کمپیوٹر کی طرح کی تھی بہت سے لوگ تو اسے سمجھ ہی نہیں سکے اور ان لمحات کو محض ٹیلی وژن نشریات میں فنی خرابی سمجھتے رہے۔ بعد میں اس کی خبریں شائع ہونے سے لوگوں کی تشویش بڑھی، تاہم بہت سے لوگوں نے اسے محض اپنی فنی برتری ثابت کرنے والے کچھ شرارتی لوگوں کی حرکت سمجھا۔ اس کی ویڈیو بھی یو ٹیوب پر موجود ہے۔ یو ٹیوب پر دی گئی Top 5 Aliens Caught on Cameraسائٹ کی تصاویر بھی قابل ذکر ہیں۔2014ء میں امریکہ کے ائیر سپیس انجینئر باڈی بش مین نے اپنے بستر مرگ پر ایک حیرت انگیز انکشاف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ امریکہ کے معروف علاقہ نمبر ۱۵میں ایسے منصوبوں پر کام کرتے رہے ہیں جن کا تعلق نامعلوم اڑن طشتریوں اور دوسرے سیاروں کی مخلوق سے ہے۔ ان کی پوزیشن ایسی تھی جس کی وجہ سے انہیں اس تحقیقاتی ادارے کے انتہائی خفیہ رازوں تک بھی رسائی حاصل تھی۔ مرنے سے پہلے انہوں نے انکشاف کیا کہ خلائی مخلوق حقیقت ہے اور وہ ہماری زمین پر بھی موجود ہے، انہوں نے کہا کہ میں دنیا کو یہ بتا کر اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہوں لیکن اس سے قبل میں یہ راز اپنے تک رکھنے پر مجبور تھا، اس سے پردہ اٹھاتا تو میری زندگی ختم کردی جاتی۔

اب اس بات میں کسی کو شبہ نہیں رہا کہ امریکہ کی ریاست نویدا کی ائر پورٹ اور اس سے ملحقہ انتہائی خفیہ علاقوں میں ایسے معاملات پر تحقیق ہورہی ہے۔ تاہم بہت سے لوگ اس سے بھی بہت آگے کی بات کرتے ہیں۔ ان کے بقول یہاں موجود بہت وسیع و عریض زیر زمین تجربہ گاہوں میں دوسرے سیاروں سے آئی ہوئی مخلوق کے بہت سے لوگوں کو رکھا گیا ہے۔ ان کا اپنے سیاروں سے یہاں آنا جانا رہتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان کے ذریعے دوسرے سیاروں کی مخلوق سے رابطہ ہوجانے سے ہمارے لئے بقائے باہمی کا انتظام ہوگیا ہے۔ کچھ لوگ اس شبہ کا اظہار کر رہے ہیں کہ غیر سیاروں سے آئی ہوئی مخلوق انسان سے بہت زیادہ ذہین اور ٹیکنالوجی میں بہت آگے ہے انہیں ان علاقوں میں قید نہیں رکھا گیا بلکہ انسان ان کے اشاروں پر کام کررہا ہے۔ انہوں نے بہت سے انسانوں کے ذہن تبدیل کردیئے ہیں اور بہت سے اہم لوگوں کے اذہان کو کنڑول کررہے ہیں۔ یو ٹیوب پر مختلف ملکوں کے مختلف لوگو ں کی طرف سے اپ لوڈ کی گئی خلائی مخلوق کی تصاویر تقریبا ایک ہی طرح کی ہیں، بہت سے لوگوں نے بہت زور دے کر حلفاً یہ کہا ہے کہ انہوں نے یہ ویڈیو خود تیار کی ہیں۔ تاہم اس طرح کے تمام شواہد کو محض لوگوں کا واہمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان میں کہاں تک حقیقت ہے اور کہاں تک افسانہ ۔ اس کے متعلق تحقیق کے بعد ہی کوئی معتبر بات سامنے آسکتی ہے لیکن اس طرح کی تحقیق کے متعلق مسئلہ پھر وہی ہے کہ دفاعی اور دوسرے مقاصد کے لئے ایسی کسی بھی تحقیق کے اصل نتائج کو باہر نہیں آنے دیا جاتا اور جو کچھ ہمیں بتایا جاتا ہے وہ معمہ حل کرنے کے بجائے معاملات کو الجھانے اور توجہ بٹانے کے لئے بتایا جاتا ہے۔

مزید : کالم


loading...