نریندر مودی۔۔۔ اپنے گریبان میں جھانکیں

نریندر مودی۔۔۔ اپنے گریبان میں جھانکیں
 نریندر مودی۔۔۔ اپنے گریبان میں جھانکیں

  


مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک نے بھارتی نیتاؤں کے ہوش اُڑا دیئے ہیں۔ یہ تحریک جس قدر طوالت پکڑ رہی ہے دُنیا اِس کی طرف متوجہ ہو رہی ہے۔ امریکہ جہاں انصاف رنگ و نسل میں تقسیم ہے اب تک اس پر خاموش ہے۔ وہ بھارت اور پاکستان میں دہشت گردی پر مذاکرات کے لئے زور دے رہا ہے، حالانکہ اس وقت اہم ترین انسانی مسئلہ اہلِ کشمیر کی تحریک آزادی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس پر آواز اٹھائی ہے تو بھارت آپے سے باہر ہو گیا ، حقوق انسانی کی اِس تنظیم کو بھارت سے نکال دیا گیا ہے۔ امریکہ جیسے بھارت کے حامی ممالک کی خاموشی کے باوجود کشمیری مظلوموں کا خون بول رہا ہے اور اس طرف عالمی توجہ مبذول ہو رہی ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کمزوری سمیت متعدد وجوہات ہیں کہ دُنیا کشمیر میں بہنے والے خون پر اُس طرح کیوں توجہ نہیں دے رہی جس طرح اس کا حق ہے۔

نریندر مودی کا کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لئے بلوچستان کا تذکرہ بھارت کی اِسی پالیسی کا حصہ ہے، جس سے وہ اس میدان میں کامیاب ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس کا مُنہ توڑ جواب دیا جانا چاہئے۔ نریندر مودی کو بلوچستان کا نام لیتے ہوئے شرم آنی چاہئے۔ بھارت میں اِس وقت بھارتی یونین سے آزادی کی بیک وقت کئی تحریکیں چل رہی ہیں اور یہ تحریکیں اٹھائیس صوبوں میں جاری ہیں۔ ان صوبوں میں ایسے علاقے بھی ہیں جہاں بھارت کی مرکزی حکومت کی عملداری بالکل نہیں ہے۔ مقامی لوگوں نے اپنا ٹیکس کا نظام اپنی سول سروس اور اپنی فوج بنا رکھی ہے۔ پیپلز ری پبلک آف ناگا لینڈ کی ایسی ہی فوج نے 30جون 2012ء کو اعلانیہ اور کھلم کھلا اپنے فوجی بیس کھنوئی میں فوجی پاسنگ آؤٹ پریڈ منعقد کی۔ یہ مقام دیما پور اور رانی گڑھ سے صرف 40کلو میٹر دور ہے۔ رانی گڑھ میں بھارتی فوج کی 3کور کا ہیڈ کوارٹر ہے، لیکن بھارتی فوج کو اِس پاسنگ آؤٹ پریڈ میں مداخلت کی ہمت نہیں ہوئی۔

پاکستان میں مقبوضہ کشمیر اور خالصتان کی تحریک کے علاوہ کسی دوسری تحریک کے بارے میں بہت کم ذکر ہوتا ہے۔پاکستانی میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کی ان تحریکوں کے بارے میں اہلِ پاکستان کو آگاہ کرے اور کشمیریوں کی آزادی کے لئے آواز اٹھانے والی تنظیموں کی طرح ان دوسرے آزادی پسند عوام کی بھی غیر حکومتی سطح پر بھرپور حمایت ہونی چاہئے۔ بھارت کے شمال مشرق میں تری پورہ، میگھالیہ، میزورام، منی پور، آسام اور ناگا لینڈ کی آزادی کی تحریکیں بہت جاندار ہیں۔ بھارت نے کشمیر کی طرح ان تحریکوں کو بھی دبانے کے لئے فوج کو Armed Forces Special Powers Acf(AFSPA) کے تحت ظلم و ستم کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ یہ ایکٹ’’لائسنس تو کِل‘‘ کے مترادف ہے۔ بھارتی فوج اس ایکٹ کے تحت حاصل اختیار کے تحت جسے چاہے گولی مار دے جسے چاہے اُٹھا کر لے جائے اور اُسے تڑپا تڑپا کر مار دے یا جیل میں ڈال دے اور اور اسی ایکٹ سے ملنے والی طاقت کے نشے میں آزادی کی تحریک چلانے والے علاقوں کی خواتین کا ریپ کرے۔ بھارت کی کوئی عدالت اس پر کوئی قدغن عائد نہیں کرتی اور دُنیا اس پر خاموش ہے۔

آسام میں1990ء میں آزادی کی تحریک نے زور پکڑا اور یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام پر پابندی لگا دی گئی۔ امریکہ نے بھی بھارت کی محبت میں اس تحریک کو خطرناک قرار دے دیا۔ آسام میں 1990ء سے فوجی آپریشن جاری ہے۔ دو عشروں میں یہاں10ہزار سے زیادہ آزادی پسندوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔ آسام کے آزادی پسندوں کو یہ بھی شکایت ہے کہ سابق مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش سے آسام میں آنے والے بنگالی آسام میں رہنے والوں کی اکثریت کو متاثر کر رہے ہیں۔1961ء میں یو ایل ایف اے نے آسامی زبان کو لازمی قرار دے دیا تاہم بعد میں بنگالیوں کے احتجاج کے نتیجے میں یہ فیصلہ واپس لے لیا۔

بھارت بنگالیوں کے بھارت میں داخلے کے خلاف ہے، آسام میں بنگالیوں کی آمد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ آسام میں مسلمانوں نے الگ تحریک بنا رکھی ہے۔ کئی چھوٹی چھوٹی تحریکوں کے بارے میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آسام کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ آزادی پسندوں کے مختلف گروہوں میں تقسیم ہونے کا بھارت کو فائدہ پہنچ رہا ہے اور جدوجہد آزادی کو نقصان ہو رہا ہے۔ آسام میں مسلم یونائیٹڈ لبریشن ٹائیگرز آف آسام 1996ء میں وجود میں آئی۔ 1999ء میں انہوں نے مسلم آسام آزاد ملک کا مطالبہ کر دیا۔ ان تحریکوں کے آگے بھارت کی بے بسی کی یہ حالت ہے کہ آسام کی ایک تحریک جو کربی لوگوں کے لئے جدوجہد کر رہی ہے اس کا نام دی یونائیٹڈ پیپلز ڈیمو کریٹک سولیڈیرٹی ہے۔2002ء میں بھارت کی وفاقی حکومت نے اس کے ساتھ ’’سیز فائر‘‘ کا معاہدہ کیا تھا، لیکن اس معاہدے کی وجہ سے آزادی کی جدوجہد کرنے والوں میں پھوٹ پڑ گئی۔

ناگا لینڈ کے رہنے والے ہندوستان کی تقسیم اور بھارت کے قیام سے ہی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس جنگ کو ناگا نیشنل کونسل چلا رہی ہے۔1950ء میں اس جدوجہد میں بھی تشدد کا عنصر شامل ہو گیا۔ یہ تمام تحریکیں سیاسی نہیں ہیں باقاعدہ مسلح جدوجہد پرچل رہی ہیں۔ بھارت نے اس تحریک کو ختم کرنے کے لئے ناگا لینڈ صوبہ بنا دیا۔ اس سے تحریک دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ آزادی کی جنگ لڑنے والوں میں سے بعض نے (جنہیں نئے صوبے میں مراعات اور عہدے مل گئے۔) ناگا لینڈ صوبے کو جدوجہد آزادی کا پھل قرار دے دیا، جبکہ حقیقی آزادی کے طلب گار اب بھی بھارت سرکار سے برسر پیکار ہیں۔اس وقت نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگا لینڈ بہت موثر ہے۔ ناگا اور ٹامل اکثر بھارتی فوجیوں کو اپنے علاقے میں گھسنے نہیں دیتے اور فوجیوں کو ہلاک کرتے رہتے ہیں۔ میڈیا میں کبھی کبھی اس کے بارے میں خبریں آتی رہتی ہیں، لیکن ان خبروں کے پس منظر سے عدم آگاہی کی وجہ سے ان کے اسباب سے لوگ بے خبر رہتے ہیں اور ایسی خبروں کو خا طر خواہ توجہ نہیں ملتی۔

تری پورہ بھارت کا وہ علاقہ ہے، جہاں صرف آزادی کی جدوجہد نہیں ہو رہی ،بھارت کے خلاف اعلانیہ بغاوت جاری ہے۔ یہاں نیشنل لبریشن فرنٹ آف تری پورہ(NLFT) سرگرم عمل ہے یہاں عیسائیوں کی اکثریت ہے، جن کا مطالبہ ہے کہ وہ کنگڈم آف گاڈ اینڈ جیسیس قائم کرنا چاہتے ہیں۔ مشرقی تیمور کی طرح اگر یہ عیسائی کسی مسلمان مُلک میں ہوتے تو عالمی ٹھیکیدار انہیں آزادی دلانے کے لئے سرگرم ہو چکے ہوتے، لیکن یہ بھارت میں ہیں اِس لئے ان کے ہم مذہب عیسائی ان کی مدد کے لئے کچھ کرنے پر تیار نہیں۔ ابھی تک بھارت میں آزادی کی جدوجہد کرنے والی تمام تنظیموں میں اتحاد کی کوئی کوشش نہیں ہوئی، جس سے ان سب کی جدوجہد کو تقویت مل سکتی ہے۔ تاہم تری پورہ والوں کو میزو حمایت حاصل ہے۔ 1987ء میں میزو نیشنل فرنٹ کے تعاون سے قبائلی قومی والنیٹیرز قائم کی گئی جسے تری پورہ نیشنل والنیٹیرز فورس بھی کہا جاتا ہے۔

جس طرح بھارت مقبوضہ کشمیر میں عام انتخابات کرا کے دُنیا کو یہ تاثر دیتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارت کے ساتھ ہیں، اِسی طرح تری پورہ میں بھی یہ حربہ استعمال کرتا ہے، حالانکہ مقبوضہ کشمیر میں تو کئی بار بہت کامیاب بائیکاٹ بھی رہا ہے اور لوگوں نے انتخابات میں کوئی دلچسپی نہیں لی، لیکن بعض کشمیری رہنماؤں کا خیال ہے کہ اُنہیں انتخابات میں بہرحال حصہ لینا چاہئے، کیونکہ اس کے بغیر شہری اور ریاستی مسائل حل نہیں ہو سکتے اور بھارت کی بنائی ہوئی نام نہاد حکومت میں اُن کی کوئی آواز نہیں ہوتی۔ اِسی طرح2014ء میں تری پورہ میں ہونے والے انتخابات کے بارے میں بھارت کا دعویٰ تھا کہ اس میں84فیصد آبادی نے حصہ لیا تھا، لیکن ان انتخابات کے بعد بھی جدوجہد آزادی ختم ہونے میں نہیں آ رہی ہے۔آزاد خالصتان کی تحریک وہ ہے، جس سے بیشتر پاکستانی باخبر ہیں۔اگرچہ اس تحریک کی خبروں کو بھی ہمارے الیکٹرانک میڈیا میں کوئی جگہ نہیں ملتی، ضرورت اِس امر کی ہے کہ اس پر باقاعدہ بحث و مباحثہ کے پروگرام ہوں اور اس تحریک کی تاریخ اور تاریخی پس منظر سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے۔

سکھ ہریانہ، ہماچل پردیش اور راجستھان کے شمالی علاقوں گنگا نگر اور ہنومان گڑھ تک خالصتان بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ تحریک قیام پاکستان کے وقت بھی جاری تھی، لیکن ماسٹر تارا سنگھ کی عاقبت نااندیشی کی وجہ سے موقع سے فائدہ نہ اُٹھا یا جا سکا۔1970ء میں جب اس تحریک نے زور پکڑا تو 1984ء میں سکھوں کے خلاف آپریشن بلیو سٹار کیا گیا، جس میں دربار صاحب (گولڈن ٹیمپل) پر بھارتی فوج نے چڑھائی کی اور اس کے تقدس کو پامال کیا۔ صرف گولڈن ٹیمپل ہی نہیں اس کے ساتھ دوسرے تیس گوردواروں کو بھی پامال کیا گیا، لیکن دربار صاحب کی تباہی کے بڑے حادثے میں ان گوردواروں کو کوئی خاص اہمیت نہیں ملی۔ اس آپریشن کی سنگینی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں تین ہزار مسلح فوجی9۔ نویں ڈویژن پر مشتمل نیشنل سیکیورٹی گارڈز، 175پیرا شوٹ رجمنٹ اور سی آر پی ایف کے 700 جوان شامل تھے اس آپریشن میں جانے کتنے سکھ مارے گئے۔ سرکاری طور پر صرف اڑھائی سو کے مارنے کا اعتراف کیا گیا، لیکن جس پیمانے کا یہ آپریشن تھا اُس میں ہزاروں کا مارا جانا یقینی تھا۔ گولڈن ٹیمپل کو اِس آپریشن میں سخت نقصان پہنچا جبکہ سکھ ریفرنس لائبریری کو جلا دیا گیا۔

سکھوں نے اس کا بدلہ1984ء میں اندرا گاندھی کو قتل کر کے لیا، لیکن اس کے نتیجے میں سکھوں پر قیامت صغریٰ ٹوٹ پڑی۔بھارتی فورسز نے ہی نہیں ہندو غنڈوں نے بھی چُن چُن کر سکھوں کو مارا۔ ہزاروں نوجوانوں کو فوج اٹھا لے گئی اور پھر اُن کا پتہ نہیں چلا۔ ایک سکھ نوجوان نے بتایا تھا کہ اُٹھائے جانے والے سکھوں پر بے انتہا مظالم ڈھائے گئے۔ اس قیامت صغریٰ کے بعد پنجاب میں کوئی سکھ نوجوان موجود نہیں رہا یا اُنہیں اُٹھا کر غائب کر دیا گیا یا جن سے ہو سکا وہ مُلک چھوڑ کر امریکہ، برطانیہ اور دوسرے ممالک میں پناہ گزین ہو گئے۔اس وقت پنجاب کے اندر آزادی کی تحریک کا وہ زور نہیں، لیکن بیرون بھارت خالصہ راج پارٹی، دل خالصہ وغیرہ بہت سرگرم ہیں اور ان کے عالمی تنظیموں سے بھی روابط ہیں۔

پاکستانی میڈیا کو چاہئے کہ گولڈن ٹیمپل پر بھارتی فوج کی چڑھائی کی ہر سالگرہ پر دستاویزی پروگرام پیش کیا کرے۔ تاکہ ہماری نئی نسل کو بھارت کا اصل چہرہ پہچاننے میں آسانی ہو اور اُنہیں آزادی کے لئے سکھوں کی قربانیوں کا علم ہو۔ بھارت نے اپنے ہی مُلک میں اور کشمیر جسے وہ اٹوٹ انگ کہتا ہے، بھاری فوج تعینات کر رکھی ہے۔ کشمیر میں سات ساڑھے لاکھ فوج تعینات ہے جسےAFSPA کے تحت لامحدود اختیارات حاصل ہیں۔ اسی طرح کئی بٹالین فوج مُلک کے دوسرے حصوں میں آزادی پسندوں پر مظالم کے لئے تعینات ہے۔

منی پور کی شاعرہ آزادی کی جدوجہد کرنے والی اور بھارتی فوج کےAFSPA کے اختیارات ختم کرانے کے لئے بارہ سال سے بھوک ہڑتال کرنے والی اروم چالو شرمیلا نے حال ہی میں بھوک ہڑتال ختم کر کے سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ نکسل باڑی کی تحریک سے 40فیصد بھارت متاثر ہے۔ جنوبی بنگال کے شہر نکسل باڑی سے تعلق کی بنا پر یہ نکسلائٹ کہلاتے ہیں۔ یہ کمیونسٹ ہیں اور ماؤاسٹ بھی کہلاتے ہیں ۔اس میں مردوں سے زیادہ پُرجوش خواتین شامل ہیں، جہاں جہاں انہیں کنٹرول حاصل ہے وہاں فوج قدم رکھتے ہوئے گھبراتی ہے۔ ان کی جدوجہد کے بارے میں بھارت کی معروف صحافی اور کئی کتابوں کی مصنفہ ارون دھتی رائے نے ان میں کچھ روز گزار کر روداد قلم بند کی تھی۔ ارون دھتی رائے کی سوچی سمجھی رائے ہے کہ نکسلائٹ پر بھارت اور بھارتی فوج کا قابو پانا محال ہے اسی طرح کشمیر کو بزور طاقت بھارت کا اٹوٹ انگ بنائے رکھنا ناممکن ہے۔ہمارے ہاں ارون دھتی رائے کو بھی بہت کم پذیرائی ملتی ہے، جس طرح بھارت کا میڈیا اُنہیں نظرانداز کرتا ہے ہمارا میڈیا بھی ارون دھتی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ نریندر مودی کو اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور کرنے کے لئے ہمارے ہاں کوئی کام نہیں ہو رہا اس لئے اب صورتِ حال یہ ہے:

چہ دلاور است وز دے کہ بکف چراغ وارد

مزید : کالم


loading...