انصاف کی بہتر فراہمی کے لئے ریاستی اداروں کی ذمہ داری

انصاف کی بہتر فراہمی کے لئے ریاستی اداروں کی ذمہ داری

چیف جسٹس سپریم کورٹ انور ظہیر جمالی نے بتایا ہے کہ عموماً عدلیہ کا رجحان صرف مقدمات کے فیصلے کرنے تک ہوتا ہے، تاہم اس تصور میں عدلیہ کی طرف سے وسعت پیدا کی جا رہی ہے، تاکہ لوگوں کو انصاف کی فراہمی کا کام جدید تقاضوں کے مطابق مزید بہتر طریقے سے ہوسکے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ریاستی اداروں کے درمیان قومی معاملات پر مکمل اتفاق رائے ہونا چاہئے۔ انصاف کی فراہمی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے نہایت فکر انگیز پیغام دیا ہے، مظلوم اور بے بس لوگوں کو انصاف کی فراہمی کا کام کئی پہلوؤں سے بروقت، تیز رفتاری کے ساتھ اور سستا ہونا چاہئے۔ عموماً شکایت سامنے آتی رہتی ہے کہ انصاف کے حصول میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ کئی دہائیوں سے روایتی طریق کار کے باعث مقدمات کا فیصلہ ہونے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ پہلے عدالتوں میں ججوں کی کمی کا مسئلہ سرفہرست تھا، کچھ عرصے سے حکومت اور اعلیٰ عدلیہ کے سربراہان کی جانب سے ججوں کی تعداد بڑھانے پر توجہ دی گئی، اب صورت حال قدرے بہتر ہے۔فاضل جج صاحبان کو عموماً یہ شکایت رہتی ہے کہ پولیس تفتیش اطمینان بخش طریقے سے نہیں ہوتی، تفتیشی افسر مقدمے کا چالان جلد مکمل نہیں کرتے، اس کے علاوہ گواہوں کو پیش کرنے میں بوجوہ مختلف حربے استعمال کئے جاتے ہیں۔ماتحت عدالتوں میں ججوں اور وکلاء کے درمیان ناخوشگوار واقعات پیش آنے سے بھی مقدمات کی سماعت معمول کے مطابق نہیں ہوتی اور انصاف میں تاخیر ہوتی رہتی ہے۔ یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے سربراہان کو بھی تمام صورت حال کا ادراک ہے اور وہ صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے خود کوشاں ہیں اور دیگر اداروں سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ باہمی تعاون سے مکمل اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں عدلیہ کو انصاف مہیا کرنے میں جن چیلنجوں کا سامنا ہے، انہیں قبول کرتے ہوئے عدالتی نظام کو مثالی بنانے کی کوشش کی جائے۔ اسی طرح بروقت، سستے اور کسی دشواری کے بغیر مکمل انصاف کو یقینی بنایا جاسکے گا۔ لہٰذا تمام اداروں کو اس معاملے میں اتفاق رائے پیدا کرکے یہ دیرینہ اور پیچیدہ مسئلہ حل کرنا چاہئے۔

مزید : اداریہ


loading...