حکومت کو برین ڈرین کا مسئلہ سنجیدگی سے لینا چاہیے؛ لاہورچیمبر

حکومت کو برین ڈرین کا مسئلہ سنجیدگی سے لینا چاہیے؛ لاہورچیمبر

لاہور (کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ محمد ارشد، سینئر نائب صدر الماس حیدر اور نائب صدر ناصر سعید نے کہا ہے کہ حکومت کو برین ڈرین کا مسئلہ سنجیدگی سے لینا اور حل کے لیے اقدامات اٹھانا چاہئیں کیونکہ یہ ہنرمند افرادی قوت ملک سے باہر جانے سے شدید نقصان ہورہا ہے۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 1990کے بعد سے اب تک برین ڈرین میں 60فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے جو لمحہ فکریہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک قیمتی ہنرمند انسانی وسائل کے ضیاع کا متحمل نہیں ہوسکتاکیونکہ کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار یہی ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان مسائل پر جلد از جلد قابو پائے جو برین ڈرین کا سبب بن رہے ہیں، ان میں سے کچھ نمایاں وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم، بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی آبادی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی مشکلات، تعلیم کے محدود مواقعوں ،سیاسی عدم استحکام اور صحت و تعلیم کی سہولیات کا فقدان بھی لوگوں کو ملک سے باہر جانے پر مجبور کرتے ہیں۔ لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ کچھ سرویز کے مطابق ملک کی نوجوان آبادی کا دو تہائی حصہ کام کی تلاش میں ملک سے باہر جانا چاہتا ہے جبکہ اس میں سے کم از کم نصف دوبارہ واپس ملک میں نہیں آنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رحجان بہت خطرناک ہے اور تشویشناک بات یہ ہے کہ اس رحجان میں وقت گزرنے کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ برین ڈرین روکنے کے لیے حکومت لوگوں کو روزگار کے زیادہ بہتر مواقع مہیا کرے، میرٹ کو ترجیح دے،اور صلاحیتوں کی بناء پر تنخواہوں میں اضافہ کرے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی یونیورسٹیوں کو یورپ اور امریکہ کے معیار پر لایا جائے تاکہ اعلیٰ تعلیم کی تلاش میں لوگ ملک سے باہر نہ جائیں۔ لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ برین ڈرین کو روکنے کے لیے موثر پروگرامز کا اجراء بھی کرے تاکہ اس اہم مسئلے پر قابو پایا جاسکے۔

مزید : کامرس