پاکستان کو کس لئے بنایا گیا؟

پاکستان کو کس لئے بنایا گیا؟

پسروری

وہ مملکتِ خدا داد کہ جس کو حاصل ہی صرف اس لئے کیا گیا تھا کہ اس ملک میں اللہ کا قانون نافذ ہوگا اور وہ ملک جس کے بنانے کے لئے ان گنت قربانیاں دی گئی تھیں۔

وہ ملک جس کے حاصل کرنے کے لئے بیویوں کے سہاگ اُجاڑ دیئے گئے تھے، لوگوں نے اپنے مال و اسباب کی قربانی دے دی تھی، اپنی جنم بھومیوں کو چھوڑ دیا تھا۔

وہ ملک جس کے حاصل کرنے کے لئے بچے نیزوں کی انیوں پر تڑپتے ہوئے نظر آئے بوڑھے تلواروں کی دھاروں پر رقص کرتے ہوئے نظر آئے،ان ماؤں اور بہنوں کی عصمتوں کو لوٹا گیا کہ جن کے چہروں کو کبھی آسمان نے نہ دیکھا ہوگا۔

صرف اس لئے کہ ایسا ملک ہوگا جہاں اسلام کا جھنڈا لہرائے گا، جہاں اللہ کے قانون کا پھریرا لہرائے گا جس میں اللہ کی کتاب کا قانون نافذ ہوگا، محمد رسول اللہ کی سنت کا قانون نافذ ہوگا۔ آج اُسی ملک میں اسلام بیگانہ ہو کر رہ گیا ہے۔ آج اسی ملک میں اسلام کے لئے آواز بلند کرنے والوں کے گھروں کو جلایا جا رہا ہے۔

اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا!

من لم یحکم بما انزل اللہ اُولئک ہم الکٰفرون

من لم یحکم بما انزل اللہ اولئک ہم الظلمون

من لم یحکم بما انزل اللہ اولئک ہم الفسقون

جو اللہ کے احکامات کو نہیں اپناتا۔

جو اللہ کے احکامات کو قانون کا ذریعہ نہیں بناتا۔

جو اللہ کے احکامات کو چھوڑ کر اوروں کی طرف لپکتا ہے۔

وہ کافر ہے وہ ظالم ہے وہ فاسق ہے۔

لوگ اسلام کا مطالبہ کیوں کرتے ہیں اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کیوں کرتے ہیں، اس لئے کہ جن کو اپنے دکھوں کا مداوا سمجھ کر اسمبلیوں کے اندر بھیجتے ہیں وہ کرسی کے لئے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے ہیں اور عوام کو بھول کر رہ جاتے ہیں، وہ لوگ جن کو لوگ اپنی بہتری کا ضامن تصور کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے اُٹھا کر اپنے سروں پر بٹھاتے ہیں وہ لوگ اُنہیں کی جانوں کے دشمن بن کر رہ جاتے ہیں، اور وہ ملک، وہ علاقہ، وہ دیس جس دیس کے لئے انہوں نے اپنے بوڑھوں کو شہید کرایا تھا جس کے لئے انہوں نے اَن گنت قربانیاں دی تھیں، اپنی جائیدادیں چھنوائی تھیں، اپنے گھروں کو چھوڑا تھا، اسی ملک کے اندر آج ان کا رہنا دو بھر ہو کر رہ گیا ہے آج ان کی زندگیاں اتنی تلخ ہو چکی ہیں کہ ان کو سمجھ نہیں آتی کہ زندہ رہیں یا مرجائیں، ایک ایک لمحہ ان کی لئے موت کا سامان ہوتا ہے اپنے پیسے سے بنائے ہوئے گھر کے اندر ہول کا شکار رہتے ہیں، اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی جائیداد جب چاہے، جو ظالم چاہے ان سے چھین کے لے جاتا ہے، ان کی چار دیواریاں ان کی چادروں کا تحفظ کرنے سے قاصر ہو چکی ہیں۔ آج بازاروں کے اندر نکلتے ہیں تو اس ڈر کے ساتھ نکلتے ہیں کہ نہ جانے کسی طرف سے کوئی گولی آئے گی اور ان کی جانوں کو چھین کے لے جائے گی۔ اس دور کو دیکھتے ہوئے ان حالات کو دیکھتے ہوئے یہ اسلامی نظام کا مطالبہ کرتے ہیں کہ جو انسان کی بہتری کا ضامن ہے،جو انسان کے تحفظ کا ضامن ہے۔

جو انسان کے آرام و سکون کا ضامن ہے۔

جو انسان کے اطمینان کا ضامن ہے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں میں اکثر یہ بات دہرا چکا ہوں اور بار بار دہرائے جانے کے قابل ہے کائنات کی آنکھ نے اتنی وسیع اور ایسی منظم و مستحکم حکومت نہیں دیکھی ہو گی اور اس کا حکمران وہ کہ جس کے وجود پر جو لباس ہے اس پر چودہ پیوند لگے ہوئے ہیں جو کھجور کی چٹائی پر لیٹا ہے تو اس کے جسم پر نشان پڑ جاتے ہیں لیکن مدینہ منورہ میں بیٹھ کر سینکڑوں میل دور کے ایک دریا کا حوالہ دے کر یقین کے ساتھ کہتا ہے کہ لوگو یاد رکھو، فرات کے کنارے پر اگر کوئی بکری کا بچہ بھی بھوک سے مر جائے تو عمر اس کا بھی جواب دہ ہے۔

یہ ہے اسلامی نظام یہ ہے اسلامی حکومت کا استحکام یہ ہے لوگوں کے لئے اَمن و سکنیت کی ضمانت اور انسان تو انسان ایک چھوٹا اور حقیر سمجھا جانے والا جانور، وقت کا حکمران اُس کی بھی ضمانت دے رہا ہے اور آج حکمرانوں کی دیواروں کے سائے کے نیچے قتل ہوتے ہیں اور قاتلوں کا پتہ نہیں چلتا۔

وہ ملک جو اسلام کے نام پر بنا، اس ملک کے اندر سب سے سستی جانیں ان لوگوں کی ہو چکی ہیں جو اسلام کے علمبردار ہیں۔ علماء آئے دن قتل ہو رہے ہیں اور ان کے قاتل نظر نہیں آتے۔

کیا پاکستان اِس لئے بنایا گیا تھا کہ یہاں قتل و غارت کا بازار گرم رہے۔ بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلی جاتی رہی، گلی و بازار میں آگ اور خون کا کھیل جاری رہے، قاتل دندناتے رہے، سفید چادروں پر داغ لگائے جائیں، لوگوں کے حقوق غصب کئے جائیں، چادر اور چار دیواری پر حملے ہوں، معصوم بچوں کو تخریب و دہشت کا سامان بنایا جائے؟۔۔۔۔۔۔نہیں، نہیں! پاکستان بنا تھا، ایک دوسرے کو عزت و احترام دینے کے لئے ایک ایسی سرزمین بنانے کے لئے جہاں سر اُٹھا کر جیا جائے اور امن و سکنیت کا مثالی گہوارا بنا کر دُنیا کے سامنے مثال آفرین تجربہ گاہ کے طور پر پیش کیا جائے۔

آج کہتے ہیں تخریب کاری ہے تخریب کاری عدم تحفظ کے احساس سے جنم لیا کرتی ہے۔ اگر کسی کا باپ چھین جائے، کسی کا کوئی بیٹا چھن جائے تو اس کے دل میں لاوا تو ابلے گا، لاوا تو دھکے گا اگر تم اس کو انصاف مہیا کر دو گے تو اس کو اطمینان مل جائے گا اس کو سکون حاصل ہو جائے گا اور اگر تم انصاف مہیا نہیں کرو گے تو وہ خود ہتھیار اٹھالے گا اور پھر گناہ گاروں کے ساتھ ساتھ بے گناہوں کے لاشے بھی گرتے ہوئے نظر آئیں گے اور ایک طرف اسلام کے استحکام کا یہ عالم ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دَور کی بات ہے کہ نجران کا ایک عیسائی کچھ اونٹ اور گھوڑے لے کر مدنیہ طیبہ کے اردگرد ایک منڈی کے اندر آیا جب داخل ہونے لگا تو سرحدوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں نے اس سے سرحد عبور کرنے کا عوضانہ طلب کیا، جس کو آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ مملکت اسلامیہ کے اندر داخل ہونے کا ٹیکس طلب کیا۔ اس نے ادا کر دیا منڈی کے اندر آیا، گھوڑے فروخت کر دیئے۔ اُونٹ فروخت کئے، کچھ بچ گئے، واپس جانے لگا تو سرحدوں کے محافظ نے پھر اس سے عوضانہ طلب کیا، اس نے کہا میں تم کو عوضانہ نہیں دوں گا۔ جب آتے ہوئے تمہیں دے دیا تو جاتے ہوئے کیوں دوں، اس (محافظ) نے کہا یہ تو دینا پڑے گا۔ اُس عیسائی نے کہا ایسا کرو کہ یہ مال و اسباب یہاں رکھو، میں تمہارے امیر المومنین سے جا کر بات کرتا ہوں۔ حضرت عمر فاروقؓ کے پاس گیا اور کہا اسے مسلمانوں کے امیر جب میں نے مملکتِ اسلامیہ میں داخل ہوتے وقت عوضانہ دے دیا تھا تو اسی مال پر واپسی کے وقت کیوں طلب کیا جاتا ہے؟ حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا۔۔۔ کہ تیرے ساتھ انصاف کیا جائے گا، اس نے اس بات کو نہ سمجھا حضرت عمر فاروقؓ کے دربار سے اٹھا اور واپس چلا گیا۔ واپس جا کر جو عوضانہ تھا وہ سرحدوں کے محافظ کی ٹیبل پر رکھ دیا۔ اس نے کہا یہ کیوں رکھا؟ کہا جو تم نے عوضانہ طلب کیا تھا، اس نے کہا یہ تم واپس لے لو اس لئے کہ ہم کو امیر المومنین کا حکم آ چکا ہے کہ اس سے عوضانہ طلب نہیں کیا جائے گا، اس (عیسائی) نے کہا میں ابھی سیدھا مدینہ منورہ سے آ رہا ہوں، میرے پہنچنے سے پہلے انصاف یہاں تک پہنچ گیا۔ میں ابھی یہاں نہیں پہنچا کہ میرا انصاف مجھ سے پہلے پہنچ چکا ہے۔ اس محافظ نے کہا اسلام کی حکومت کے اندر تو اسی طرح ہوتا ہے۔ کتاب الخراج امام ابو یوسف کی کتاب کے الفاظ ہیں کہ اس عیسائی نے اونچی آواز سے کہا ’’وہ دین جو انسان کے پہنچنے سے پہلے اس کو انصاف دے دے وہ دین سچا دیں ہے میں اسلام قبول کرتا ہوں۔‘‘

یہ ہے اسلام کا انداز جبکہ ہمارے ہاں دادا مقدمہ دائر کرتا ہے پوتا بھی مر جاتا ہے لیکن انصاف نہیں ملتا اور جو لیتے ہیں وہ انصاف نہیں لیتے۔ بے انصافی حاصل کرتے رہتے ہیں اور جس طرح حاصل کرتے ہیں وہ انصاف نہیں، دوسروں کا حق مارتے ہیں یا بہت زیادہ رشوت اور وقت دے کر لیتے ہیں اور حقیقت یہی ہے کہ اسلام انصاف مہیا کرتا ہے۔

امن مہیا کرتا ہے

سکون مہیا کرتا ہے

اور ہمارے ہاں پر روز لاشیں گرتی ہیں اتنی گرتی ہیں کہ لوگ اب گنتے گنتے خود بے حس ہو چکے ہیں۔

اگر یہ ملک اس لئے حاصل کیا گیا ہے کہ لوگوں کی پگڑیاں اُچھالی جائیں، چادروں پر داغ لگایا جائے، عصمتوں کو پامال کیا جائے عصمتوں کی دھجیاں بکھیری جائیں، چار دیواری کا مذاق اُڑایا جائے، لوگوں کے خون سے ہاتھوں کو رنگا جائے، لوگوں کو انصاف مہیا نہ کیا جائے تو پھر اس ملک کے حاصل کرنے کا کیا فائدہ ہے؟ یہ ملک واقعتاً اسلام کی سربلندی کے لئے بنا تھا۔ یہ ملک قائم رہے گا تو اسلام کی سربلندی کے ساتھ قائم رہے گا۔ اسلام ہی ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی کا باعث اور ضامن ہو سکتا ہے اور کوئی نہیں ہو سکتا۔

اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا اتبعواما انزل الیکم من ربکم ولا تتبعوا من دونہ اولیا لوگو یاد رکھو، جو تمہارا پیدا کرنے والا ہے۔ اس نے جو تم کو عطا کیا ہے اس کو مانو اس کو تھامو اس کو جانو، اس کے علاوہ کسی کو اپنا دوست بہی خواہ، فائدہ پہنچانے والا اور ہمدرد نہ جانو۔ یعنی اسلام ہی ہے جو دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی سے ہم کنار کر سکتا ہے اسی میں ملک و قوم کا مفاد ہے یہی پاکستان کے استحکام، بقا اور تحفظ کا ضامن اور ترقی و خوش حالی کا باعث ہے۔

مزید : ایڈیشن 1