پیارے ر سولؐ کے چچا۔۔۔۔۔۔ حضرت ابو طالب عمران

پیارے ر سولؐ کے چچا۔۔۔۔۔۔ حضرت ابو طالب عمران

علامہ مشتاق حسین جعفری

اللہ رب العزت نے اپنے دین کو پہنچانے اور راہِ مستقیم سے منحرف انسانیت کی فلاح کے لئے خاندانِ بنی ہاشم کا انتخاب کیا اور حضرت محمد مصطفی ؐ پر بابِ نبوت بند کر کے دین مکمل کر دیا۔

حضور اکرمؐ جب اِس دُنیا میں تشریف لائے تو جنابِ عبداللہ دُنیا سے تشریف لے جا چکے تھے۔ آپ کے دادا حضرت عبدالمطلبؓ نے آپ کو جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہوئے آپ کی پرورش کی خدمت انجام دی۔ رسالت مآب کا سنِ مبارک ابھی 8برس ہی تھا کہ عبدالمطلبؓ بہت ہی علیل ہو گئے لہٰذا آپ نے اپنے تمام فرزندان کو طلب فرمایا اور کہا کہ میرے بیٹوں! مَیں دُنیا سے جا رہا ہوں، مگر مَیں دُنیا سے جاتے ہوئے تمہیں وصیت کرنا چاہتا ہوں کہ میرا بیٹا محمدؐ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے اِس لئے تم سب بھی اسے دل و جاں سے زیادہ عزیز رکھتا اور تم میں سے کون ہے جو میرے بعد میرے اِس بیٹے محمدؐ کی پرورش کرے گا اور ہر لمحہ اس کی حفاظت کرے گا اور ہمیشہ سایہ بن کر رہے گا۔ سب نے ایک زبان ہو کر کہا کہ ہم سب اِس خدمت کو انجام دیں گے اور ہم اِس خدمت کو اپنے لئے بہت بڑی سعادت سمجھتے ہیں۔ جب سب بیٹوں نے حضرت عبدالمطلبؓ کی خواہش پر لبیک کہا تو حضرت عبدالمطلبؓ نے ارشاد فرمایا کہ پھر مَیں کیوں نہ اس فیصلے کو اپنے بیٹے محمدؐ پر چھوڑ دوں کہ وہ جسے چاہے انتخاب کر لے۔یہ کہہ کر جناب عبدالمطلبؓ نے رسول اللہؐ کو زمین پر کھڑا کر دیا، زمین نے سرکار دو عالم کے قدموں کا بوسہ لیا۔ اب رسالت مآبؐ خراماں خراماں آگے بڑھے اور آگے بڑھ کر اپنے چچا حضرت ابو طالب کا دامن تھام کر ان سے لپٹ گئے۔ حضرت ابو طالبؓ نے جب یہ منظر دیکھا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے بے ساختہ محمد مصطفی ؐکی طرف ایسے جھکے، جیسے احترام رسالت ہو رہا ہے اور جھک کر رسول اللہ کو اپنی گود میں اُٹھا لیا، بوسہ لیا پیشانی چومی اور اشک محبت آنکھوں میں لئے ہوئے ارشاد فرمایا: بابا! مَیں ساری زندگی اپنے اس بھتیجے پر سایہ بن کر رہوں گا اور ان کی حفاظت کروں گا۔

اسی طرح جب حضرت ابو طالب شام سفر پر جانے لگے تو حضور اکرمؐ نے کہا چچا جان آپؐ مجھے کس کے سپرد کر کے جا رہے ہیں اور اس وقت حضورؐ نے اپنے چچا کے اونٹ کی مہار پکڑ رکھی تھی۔ یہ سن کر جناب ابو طالب نے کہا خدا کی قسم مَیں اپنے بھتیجے کو اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا، کیونکہ یہ مجھ سے اور مَیں اس سے جدا نہیں ہو سکتا، جب قافلہ تجارت بصری بستی میں پہنچا تو قافلے کی ملاقات بحیر اراہب سے ہوئی جس کا نام جرجیس ابن ابی ربیعہ تھا۔ بحیرا میں آپؐ کی پشتِ اطہر پر مہر نبوت دیکھی اور جناب ابو طالب کو کہا کہ یہ بچہ کون ہے؟ ابو طالب نے ارشاد فرمایا کہ میرا بھتیجا ہے کہ تو اس بحیرا نے کہا مَیں تورات اور انجیل کا عالم ہوں اور یہ بچہ آنے والے وقت میں نبی ہوگا، کیونک ان میں نبوت کے نمایاں آثار ہیں تو حضرت ابو طالب نے کوئی تعجب نہ کیا اور کہا کہ مَیں جانتا ہوں کہ میرا بھتیجا آنے واے وقت میں نبی ہو گا۔ اس بحیرا نے کہا کہ آپ پھر اپنے بھتیجے کو واپس لے جایئے کیونکہ اگر یہودیوں کو علم ہو گیا تو وہ انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ جناب ابو طالب نے نیام میں سے تلوار نکال کر بلند کی اور ایک جملہ کہا جو کہ آپ کی شجاعت کی نمایاں دلیل ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ مَیں محافظ مصطفی ؐ ہوں اور دُنیا کی کوئی طاقت اِن کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتی، کیونکہ میرا بھتیجا مجھے دِل و جان سے بھی عزیز ہے۔

حضرت ابو طالب کا نام نامی ابو طالب نہیں، بلکہ عمران ہے ابو طالب آپ کی کنیت ہے۔ آپ کا شجرۂ نصب ’’ ابو طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف‘‘ یعنی حضرت ابو طالب آباؤاجداد کی طرف سے ممتاز حیثیت رکھتے تھے‘‘۔ اسی طرح حضرت ابو طالب بہت بڑے مہمان نواز تھے۔ جناب ہاشم کے بعد حاجیوں کی خدمت(حرم کے عہد رفادہ و سقایہ) حضرت عبدالمطلبؓ کے سپرد ہوئے بعد ازاں ان کی وفات کے بعد حضرت ابو طالب کو یہ شرف حاصل ہوا جو ظہور اسلام تک باقی رہا۔ آپ علیہ السلام حجاج کرام کے لئے بہترین دستر خوان سجاتے اور پانی کے کنوؤں میں کشمش، کھجور اور شہد ڈلوا کر سرزمین حرم کے مہمانوں کی خاطر داری اور ضیافت کرتے۔

تمام اہلِ عرب پر آپ علیہ السلام کی شجاعت و بہادری غالب تھی اِسی لئے سب اہلِ عرب اپنے اکثر فیصلے حضرت ابو طالب سے کروانے آتے تھے۔ جب رسالت مآبؐ نے دین اسلام کی تبلیغ کرنا شروع کی تو یہ رسول اللہ کے چچا حضرت ابو طالب ہی ہیں، جنہوں نے اپنے بھتیجے سے ارشاد فرمایا:’’اے بھتیجے! اُٹھو اور اپنے کام کا آغاز کرو کیونکہ تم واقعی شریف ہو اور طاقتور و عالی گھرانے کے چشم و چراغ ہو۔خدا کی قسم! کوئی زبان آپ کو اذیت نہ پہنچا سکے گی، کیونکہ ایسا کرنے والوں پر ہماری تلواریں برسیں گی‘‘۔

اللہ کی قسم! عرب قومیں تمہاری اس طرح فرمانبردار ہو جائیں گی جس طرح دودھ پینے والے جانور اپنے مربی کے فرمانبردار ہو جاتے ہیں۔

مستند کتب میں یہ روایت نقل ہے اور تفسیر انوار النجف ج5میں انہی حوالوں سے نقل ہے کہ جب حضرت ابو طالب علیہ السلام کا انتقال85برس کی عمر میں10بعثت میں ہوا تو آپؐ سخت رنجیدہ ہوئے اور حضور بہت روئے اور حضرت علیؓ کو غسل و کفن و دفن پر مامور فرمایا۔ رسول اللہؐ حضرت ابو طالب علیہ السلام کے انتقال پر اتنا غمزہ ہوئے کہ آپؐ نے اس سال کو عام الحزن’’غم کا سال‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ صدمہ میرے لئے رنج و کرب کا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1